Posts

کوئی نغمہ عشق گائے نہ گائے

Image
   آج  ہماری سالگرہ ہے ۔ دیکھا جائے تو سالگرہ کا مطلب  یہ ہے کہ ہم نے زندگی کا ایک سال کھو دیا ۔ زندگی ایک قدم آگے بڑھ گئی  ۔ پر کیا کریں ہماری سوچ  کچھ  مختلف ہے ۔ ۔ہم ہر گزرتے سال کے ساتھ  رب کا جتنا بھی شکر کریں کم ہے ۔   خالق نے ہمیں ایک اور سال سے نواز دیا۔  ہمیں ایک موقع اور مل گیا مالک کی طرف سے۔   شاید اس کو ہماری ذات پر بھروسہ ہے یا پھر ا س کی زات کریمی کی وجہ سے ہمیں ایک اور موقع عطا ہو گیا ۔  جو بھی ہے۔  ہم تو اپنی سالگرہ پر بہت خوش ہوتے ہیں ۔   زندگی کا ہر لمحہ قدرت کا عطیہ ہی تو ہے۔۔ ہم اس کی جتنی بھی قدر کریں کم ہے۔ دنیا پر نظر ڈالیں تو جی کرتا ہے ٹی وی بند کردیں ۔ نہ کچھ سنیں گے نہ جی کڑھے گا ۔ دنیا کی بساط بڑوں کا کھیل ہے۔ ہماری کیا اوقات کہ بگڑے کھیل میں کچھ عمل دخل کر سکیں ۔ خالات بدلتے کی دعا ہی کر سکتے بس۔ دیکھیں دعائیں کپ رنگ لاتی ہیں ۔ موسم خوشگوار ہو چلا ہے۔ چڑیوں کی چہکار فضا میں جلترنگ سا بکھیر رہی ہیں۔ برفباری کب کے ختم ہو چکی ہے۔ بارشوں میں بھی اب وقفه ا چلا ہے۔ سورج آب و تاب کے ساتھ جگمگا ر...

انہی پتھروں پہ چل کے اگر آ سکو تو آؤ

Image
  ہم اس وقت لیک پر موسم کے مزے لے رہے ہیں ۔ بیٹے کے ساتھ آ ئے ہوئے ہیں  ۔ وہ تو لمبی وا ک پر چلے گئے ہم لیک کے کنارے  چہل قدمی کر رہے ہیں ۔ پانی چاندی کی طرح جگمگ کر رہا ہے۔ کبھی سورج کی کرنیں اس کو سونے میں تبدیل کر دیتی ہیں  ۔  پانی بھی کیا چیز ہے ہر کسی کی ضرورت اور ہر کسی سے بے خبر  ۔ اپنی دنیا میں مگن اپنی دھن میں سب سے انجان رواں دواں ۔ پھر بھی سب اس کے گرد چکر لگاتے رہتے ہیں  ۔  لیک میں کنارے پر بڑے بڑے بتھر پڑے ہوئے ہیں صاف شفاف پانی سے دھلے نکھر ے نکھر ے جگمگا رہے ہیں  ۔ سچ جو بھی پانی کو چھوتا ہے صاف ستھرا نکھر ا ہو کر نکلتا ہے  پانی پر سکون اپنی رو میں بہتا جا رہا ہے  ۔  ایک ہم ہیں کہ اسی دھن میں خرچ ہو جاتے ہیں کہ لوگوں کو کیسے اپنی ذات کا یقین دلایا جائے۔ اپنی اہمیت جتانے کی تگ و دو میں زندگی گزر جاتی ہے پر نہ ہمیں یقین آ تا ہے اور نہ ہی لوگوں کو۔ کیا گھاٹے کا سودا ہے ۔  لوگوں کے پیچھے بھاگنے سے کیا ملا۔ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم ۔ ہم بھی کیا کہانی لے کر بیٹھ گئے۔ ابنائے ہرمز پر تو پہرہ بیٹھ گیا ۔ کوئی سوچ پر ...

چائے والا

Image
 وقت کے تو جانو پر لگ گئے ہیں  ۔ ٹائم کا تو پتہ ہی نہیں چلتا ۔ دنیا بھی تو سمٹ کر رہ گئی ہے ۔ بچے بکھر گئے کچھ پڑھائیوں کے سلسلے میں اور کچھ نوکریوں کے سلسلے میں ۔ ماں باپ بچوں کے  چکر میں مسافر بن کر رہ گئے ۔ ایک قدم لندن تو دوسرا امریکہ ۔  ہمارا بھی کچھ یہی حال ہے ۔ پاکستان سے نکلے تو زمانہ  گزر گیا۔ کراچی بھی بھولا بسرا دھندلا سا ہو کر رہ گیا ہے ۔ ہم نے بھی حالات سے سمجھوتا کر لیا۔ اب تو ٹورنٹو کو ہی وطن سمجھ کر اسی سے دل لگا لیا ہے ۔ بچے انگلینڈ میں ہیں ہم کینیڈا میں ۔ سال میں ایک دو چکر لندن کا لگا آ تے ہیں ۔  اپریل کی چھ تاریخ کو ہماری بیٹی نے اپنے بیٹے کی شادی کی تقریب رکھی ہے ۔ ہمیں اپنا رخت سفر باندھنا ہے ۔ لندن جانے کی تیاری کرنی ہے۔  بدھ کے روز ہم والمارٹ میں گروسری کر رہے تھے ۔ ریحانہ مل گئ ادھر ادھر کی باتیں ہو نے لگیں ۔ ہم نے بتایا ہماری جمہ کی فلائیٹ ہے دعاؤں میں یاد رکھنا ۔ وہ پوچھنے لگی کہ کیا پاکستان جا رہی ہیں ۔  ہم نے کہا کہ پاکستان تو اماں کے بعد پردیس سا ہو کر رہ گیا ۔ اب تو انگلینڈ ہی بچوں کی وجہ سے دیس بن گیا ہے ۔ وہیں کے چ...

یہ زندگانی

رات آ د ھی سے زیادہ گزرنے کو ہے نیند نے تو جیسے قسم ہی کھا لی ہو کہ آ ج ا کے نہ دے گی۔ یہ تو ا ئے گئے روز کی ہی کہانی ہے ۔ اس کا کیا گلہ کر نا ۔ اور کریں بھی تو کس سے ۔ سب اپنے اپنے چکر میں الجھے ہوئے ہیں ۔ ہر کسی کی اپنی داستان ہے ۔ اب نہ ہی کوئی سننے والا نظر آ تا ہے اور نہ ہی سنانے والا۔  ہر کوئی اپنی اپنی  داستان چھپا ئے ایک دوسرے سے نظریں چراتا پھر رہا ہے ۔   محفلیں سج رہی ہیں چمک دھمک بھی خوب ہے پر رنگ پھیکے قہقہے کھوکھلے۔ یوں لگتا ہے ایک دوسرے کا دل رکھ رہے ہوں ۔ پھر تھک ہار کے   بیٹھ رہتے ہیں ۔ یا شاید ہماری ہی نظروں کا دھوکا ہے ۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو ۔ لوگوں کا بھی بھلا کیا قصور ۔ دنیا ہی عجب ڈھنگ پر چل رہی ہے ۔ گھڑی گھڑی کی خیر نہیں ۔ دل کو ایک دھکدھکا سا لگا رہتا ہے ۔ دعائیں تو پہلے جیسی ہی ہیں پر شاید ان میں وہ لگن نہیں رہی ۔ وہ اثر نہیں رہا ۔ بس واجبی سی ہی رہ گئ ہیں ۔ خلوص نہیں رہا ۔ باقی سب چیزوں کی طرح دعا ئیں بھی بس رسمی سی ہو کر رہ گئی ہیں ۔ قبولیت کی گھڑی آ ہے بھی تو بھلا کیسے ۔  جانے کیوں آ ج کل اماں بڑی یاد آ رہی ہیں ۔ ماں باپ نظروں...

کہی انکہی

Image
جنوری گزر ا فروری بھی چند ہفتوں کا مہمان ہے ۔ نیا سال کہاں کا نیا ۔ کب کے پرانا ہو چکا ۔ اب وہ آ ب و تاب کہاں جو نئے سال کے سورج طلوع پوتے وقت تھی ۔ وہ دھوم دھڑکا کب کے مدھم پڑ چکا ۔ اب تو دن رات کا وہی پرانا روٹین ہے جو ہر سال رہتا ہے یعنی  صبح ہوتی ہے شام ہو تی ہے زندگی یونہی تمام ہوتی ہے  شعر آ گے پیچھے ہو گیا ہو تو ہم پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ اب ذہن کچھ کند سا ہو کر رہ گیا ہے ۔ باتیں گڈ مڈ سی ہو جاتی ہیں ۔ الفاظ یاد آ تے ہیں پر وقت پر نہیں ۔ حافظہ میں وہ بر جستگی نہیں رہی ۔  اگر کچھ یاد ہے تو گزر ا ہوا زمانہ ۔ سب فر فر یاد ہے ۔  تمہیں یاد ہو نہ یاد ہو ہمیں یاد ہے سب ذرا ذرا  کبھی کبھی تو ہم عاجز ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ جی کرتا ہے کہ ذہن پر پہرا بٹھا دیں ۔ دل پکار پکار کر کہتا ہے  یاد ماضی عذاب ہے یارب  چھین لے مجھ سے حافظہ میرا  پر دل و دماغ کی لڑائی تو بڑی پرانی ہے ۔ نہ ہمارا دل پر قابو ہے نہ ہی ذہن کچھ سمجھتا ہے ۔ ہم نے بھی اسی میں بہتری جا نی کہ دونوں کو اپنی اپنی راہ چلنے دیں ان کے حال پر چھوڑ دیں ۔  بیگانی شادی میں بلا وجہ عبداللہ دیوانہ...

جا کر کہیں کھو جاؤں میں

Image
جنوری کا مہینہ ختم ہو گیا ۔ ہر طرف برف ہی برف ہے ۔ برف کے طو فانوں نے تو جا نو راستہ ہی دیکھ لیا  ہمارے شہر ٹورنٹو کا ۔ تو چل میں آ یا۔ ابھی ایک برفباری کا طوفان سر سے گزر ا نہیں کہ دوسرا آ موجود ۔ کریں تو کیا کریں ۔  ٹورنٹو شہر میں برفباری سے نمٹنے کے لئے کافی کچھ سہولتیں موجود ہیں پھر بھی ایک روز  اسکول اور لائبریری وغیرہ بند کرنے پڑے ۔    برف ٹیلوں کی شکل میں ہر طرف نظر آ رہی ہے ۔ ٹورنٹو شہر آ ٹوا کا منظر پیش کر رہا ہے ۔ جہاں مئ کے مہینہ میں بھی برف لیک کی سطح پر تیر تی نظر آ تی تھی جب ہم وہاں رہتے تھے یہی منظر دیکھنے کو ملتا تھا ۔  فروری کا مہینہ شروع ہو چکا ہے ۔ برفباری کے سلسلے تو سکون ہے ۔ سڑک کے کنارے برف فصیل کی صورت میں موجود ہے ۔ درجہ حرارت نقطئہ انجماد سے پچیس ڈگری نیچے جا چکا ہے ۔ شہر  پھر بھی رواں دواں ہے ۔ ہم شہری بھی عادی ہو چکے ہیں ۔ یہاں کی سردی سے نمٹنا سیکھ چکے ہیں ۔  میں اس وقت کافی ہاؤس میں ہوں ۔ کافی کا کپ سامنے رکھا ہوا ہے ۔ سردی جتنی بھی ہو اندر سکون ہی سکون ہوتا ہے ۔ بس راستے کے لئے پہن اوڑھ کر نکلنا پڑتا ہے ۔ تو کچھ تو ج...

پگڈنڈیاں

Image
      جنوری کا مہینہ ابھی شروع ہوا ہے ۔ شروع ہوئے بھی بس دو چار ہی روز گزر ے ہیں ۔ موسم سرد ہے صبح سویرے سے برفباری ہو رہی ہے دن بھر چلے گی محکمہ موسمیات نے پیشین گوئی کر دی ۔  گویا پتھر کی لکیر ہے ۔ یہاں کے لوگوں کو آ خر ہر بات کی پہلے سے ہی کیسے خبر ہو جاتی ہے ۔ ہم تو ایک چاند پر ہی الجھے رہتے ہیں کہ عید آ خر ہو گی تو کس دن ۔ ہر طرف چاندی سی بکھری ہوئی ہے ۔ درختوں میں روئی کے گالے کپاس کے پھولوں کی مانند فضا کو چار چاند لگا دیے ہیں ۔ سورج دھیما دھیما سہما سہما سا سرمئی آ سمان میں سے آ نکھیں ملتا ہوا دکھائی دے رہا ہے قدرت کے بھی کتنے رنگ کتنے روپ ہیں ۔ ہر روپ نرالا ۔  نیا سال بھی دبے پاؤں آ ہی پہنچا ۔ خیر دبے پاؤں تو نہیں خاصے دھوم دھڑکے سے آ یا ۔ یہاں لوگ بڑے زندہ دل ہیں ۔ تیار بیٹھے ہوتے ہیں خوشیاں منانے کے لئے ۔ بس بہانہ چاہیے ۔ کرسمس کے لئے ہفتوں پہلے سے تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں ۔  شاپنگ مال میں ڈیل لگی ہوئی ہے لوگ خریداری میں مصروف ۔ مال بھرے ہوئے ۔ پھر نیو ایئر تو کرسمس کے ساتھ ہی جڑا ہوا ہے ۔ وہاں سے فارغ نہیں ہوئے کہ نیا سال سر پر آ گیا ۔  بس ...