انہی پتھروں پہ چل کے اگر آ سکو تو آؤ

ہم اس وقت لیک پر موسم کے مزے لے رہے ہیں ۔ بیٹے کے ساتھ آ ئے ہوئے ہیں ۔ وہ تو لمبی وا ک پر چلے گئے ہم لیک کے کنارے چہل قدمی کر رہے ہیں ۔ پانی چاندی کی طرح جگمگ کر رہا ہے۔ کبھی سورج کی کرنیں اس کو سونے میں تبدیل کر دیتی ہیں ۔
پانی بھی کیا چیز ہے ہر کسی کی ضرورت اور ہر کسی سے بے خبر ۔ اپنی دنیا میں مگن اپنی دھن میں سب سے انجان رواں دواں ۔ پھر بھی سب اس کے گرد چکر لگاتے رہتے ہیں ۔
لیک میں کنارے پر بڑے بڑے بتھر پڑے ہوئے ہیں صاف شفاف پانی سے دھلے نکھر ے نکھر ے جگمگا رہے ہیں ۔ سچ جو بھی پانی کو چھوتا ہے صاف ستھرا نکھر ا ہو کر نکلتا ہے پانی پر سکون اپنی رو میں بہتا جا رہا ہے ۔
ایک ہم ہیں کہ اسی دھن میں خرچ ہو جاتے ہیں کہ لوگوں کو کیسے اپنی ذات کا یقین دلایا جائے۔ اپنی اہمیت جتانے کی تگ و دو میں زندگی گزر جاتی ہے پر نہ ہمیں یقین آ تا ہے اور نہ ہی لوگوں کو۔ کیا گھاٹے کا سودا ہے ۔
لوگوں کے پیچھے بھاگنے سے کیا ملا۔ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم ۔ ہم بھی کیا کہانی لے کر بیٹھ گئے۔ ابنائے ہرمز پر تو پہرہ بیٹھ گیا ۔ کوئی سوچ پر بھی پہرہ بٹھا دے ۔ یہ ذہن بھی کیا چیز ہے بھٹکتا ہی رہتا ہے۔ قابو ہی میں نہیں آتا۔ نہ خود چین لیتا ہے نہ ہی ہمیں لینے دیتا ہے ۔
کبھی کبھی جی کرتا ہے کہ خدا سے دعا کریں ۔ * چھین لے مجھ سے جافطہ میرا * پھر ڈر جاتے ہیں کہ کہیں خافجہ سچ مچ ہی نہ چھن جائے اور ہم ڈ منشیا کا ہی شکار نہ ہو جائیں دل دماغ بڑی نعمت ہیں۔ ذہن چھن جانے کی دعا کرنے کے بجائے اپنے ذہن کو قابو میں رکھنے کی دعا کرنی چاہیے۔
ہماری نظریں ہر پھر کر پانی کے کنارے پڑے پتھر ون پر ٹک گئیں جیسے پانی کہ رہا ہو
الہی پتھر ون پہ چل کر اگر آ سکو تو ائو
میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے
کیا خوبصورت شعر ہے۔ اتنے برس گزر گئے اس کی تازگی میں کوئی فرق نہیں آ یا
کبھی کبھی صرف ایک شعر ہی
شاعر کی شناخت کے لئے بہت کافی ہوتا ہے۔
Comments
Post a Comment