کلیننگ لیڈی

 May be an image of the Cotswolds

 

صبح کے ساڑھے نو بج رہے ہیں ۔ کچن پورا پھیلا ہوا ہے ۔ لگ رہا ہے کہ برات ابھی ابھی رخصت ہو کر گئئ ہے ۔ ناشتہ تو سب نے کیا پر دو لوگ لنچ بھی لے کر گئے ہیں ۔ ان کا آ فس ایسی جگہ ہو گا جہاں کھانے پینے کی مطلب کی دوکانیں نہیں ہوں گی ۔ ورنہ بچے تو لنچ لے جانا شان کے خلاف سمجھتے ہیں ۔ بچے تو خیر کوئی نہیں رہے پر ہمارے لئے تو سب ہی بچے ہیں ۔ عمر کے اس حصے میں تو بڑے چھوٹے سب ہی بچے لگنے لگتیے ہیں اپنے سامنے ۔ 

سب جاب پر روانہ ہو چکے ہیں ۔ بچے بڑے سب ۔ اب ہم رہ گئے ہیں ۔ سب کی شام تک واپسی ہو گی ۔ ہم نے بھی جینا سیکھ لیا ہے ۔ اپنا وقت گزارنے کے لئے کافی مصروفیات ڈھونڈ رکھی ہیں ۔ اول تو کچن سمیٹتے سمیٹتے گھنٹہ بھر لگ جائے گا ۔ پھر کمپیوٹر ژندہ باد ۔ گوروں نے بھی کیا چیز نکالی ہے ۔ ہر بندہ خود کفیل ۔ اب تو اس کمبخت کے سامنے بندوں سے میل ملاپ کی عادت بھی ختم ہو تی جا رہی ہے ۔ بچوں نے تو اس کے آ گے دنیا ہی تگ کر رکھی ہے ۔ وہ ہیں اور کمپیوٹر ۔ اب تو کسی کو شادی بیاہ کا بھی کوئی شوق نہیں ۔ بلکہ شادی کے نام سے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں ۔ سب اپنی اپنی دنیا میں مست مگن ہیں ۔ 

تو ہم کہ رہے تھے کہ کچن سمیٹنے میں کافی وقت لگ جائے گا ۔ پھر آ ج موسم اچھا ہے تیار ہو کے واک پر جائیں گے ۔ ٹم ہارٹن میں بیٹھ کر چائے پئیں گے ۔ ہم بھی گھس پٹ کر پرزہ کی طرح یہاں کے سسٹم میں کافی حد تک فٹ ہوچکے ہیں  اکیلے ٹائم گزار نے کی عادت ڈال لی ہے ۔ شروع شروع میں وطن سے آ نے کے بعد کچھ دنوں تک تو سب پھڑ پھڑا تے ہیں ۔ جیسے کہ کوئ پنچھی نیا نیا پنجرے میں پھنستا ہے ۔ پھر عادت پڑ جاتی ہے۔ پردیس ہی وطن لگنے لگتا ہے ۔ 

اتنے مانوس صیّاد سے ہو گئے 
اب رہائی ملی تو مر جائیں گے 

ایک تو ہم بات کر تے کرتے کہیں سے کہیں جا نکلثے ہیں ہاں تو کہ رہے تھے کہ کافی ہاؤس جائیں گے ۔ اکیلے بیٹھ کر چائے پئیں گے ۔ سچ بڑا لطف آ تا ہے ۔ اکیلے وقت گزارنے کا بھی اپنا الگ ہی مزہ ہے ۔ بڑا سکون ملتا ہے ۔ 
آ دھا دن تو یوں ہی نکل جا ئے گآ ۔ وقتِ کا پتہ ہی نہیں چلے گا ۔ ارے دروازے پر کون آ یا ہے بل بج رہی ہے ۔ 
دیکھیں تو کون ہے ۔ کسی نے بل بجائ ۔ لو ہم تو بھول ہی گئے ۔ آ ج کلیننگ لیڈی کو آ نا تھا دس بجے کا وقت دیا تھا اس نے ۔ اس کو دیکھ کر کراچی کی ماسیاں بری طرح یاد آ نے لگتی ہیں ۔ وہ ہمیں بھولی ہی کب تھیں۔ پاکستان سے آ نے کے بعد ہر قدم پر ہم نے ان کو یاد کیا ۔ سب سے زیادہ تو کھانے کے بعد جب بچا کھچا کھانا فرج میں رکھتے ہیں اور پتہ ہوتا تھا کہ اب اس کو اگلے دن کوئی ہاتھ نہیں لگائے گا ۔ تو ہم ان کو بڑا مس کرتے ہیں ۔ اب تو بڑا زمانہ بیت گیا ہم نے صبر کر لیا ۔ 
کچھ سالوں سے ہمیں کلیننگ لیڈی ماسیوں کی صورت میں دستیاب ہونے لگی ہیں ۔ پر ان میں ماسیوں والی کوئی بات نہیں ۔ ان کو دیکھ کر تو یوں لگتا ہے جیسے کہ وہ ہماری مالکن ہو ں ۔ جب وہ گاڑی سے اتر کر دروازے کی بل بجاتی ہیں تو وہ ماسی کم مالکن زیادہ نظر آتی ہیں اور ہم ان کے آ گے ماسی ۔
 لاکھ کنگھی چوٹی کر کے تیاری کر لیں پہلے سے ۔ پر بات نہیں بنتی۔ ان کو دیکھ کر احساس کمتری ہو نے لگتا ہے بلا وجہ کا ۔ اور وہ مٹھی بھر پیسے لے کر گاڑی میں بیٹھ یہ جا وہ جا اس بات سے بے خبر کہ ہم پر کیا گزر گئ۔ فرج میں رکھے بچے کھچے کھانے کے متعلق ان کو دینے کا تو سوچا بھی نہیں جا سکتا ۔ می کجا تو کجا ۔ گھر تو ان کے آ نے سے بلا شبہ چمک جا تا ہے پر اپنے دیس کی ماسیوں کی یاد کسک بن کر تازہ ہو جاتی ہے 

اب تو سنتے ہیں پاکستان میں بھی کافی کچھ بدل چکا ہے ۔ وہاں کی ماسیاں بھی اب ماسیاں کم اور بیبیاں زیادہ لگتی جا رہی ہیں ۔ ہمیں کیا پتہ ہم تو زمانہ سے پاکستان نہیں گئے ۔ کیا پتہ کہ یہ سب سنی سنائی ہو ۔ ہمارے ذہن میں تو برسوں پہلے کا پاکستان ہی آ باد ہے ۔ خدا پاکستان کو آ باد رکھے ۔ جیو اور اے آ ر وائ پر خبریں سن سن کر دل ڈر سا جاتا ہے ۔ خدا پاکستان کو آ باد رکھے آ مین ۔ 

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

لیڈییز کمپارٹمنٹ

نیل گگن کے تلے

مکھڑے پہ سہرا ڈالے