کل نہ جانے ہم کہاں

کل ہم شاہینہ کے گھر گئے ۔ وہاں ریحانہ اور روبینہ بھی آئے ہوئے تھیں سب اپنے اپنے زمانے کے بھولے بسرے کہانی قصے سنا رہے تھے ۔ اور کس کو سنائیں ۔ یہاں کون سننے والے بیٹھے ہیں ۔ بھاگ دوڑ کا زمانہ ہے۔ بچوں کے پاس تو بلکل بھی وقت نہیں ۔ سب اپنے اپنے کمروں میں کمپیوٹر سے لگے بیٹھے ہیں ۔
رہے بڑے تو آ فس اور گھر کے بکھیڑوں میں گھرے رہتے ہیں ۔ پاکستان تو ہے نہیں کہ چار نوکر آ گے پیچھے رہتے تھے ۔ کبھی قدر ہی نہ ہوئی اب سوچتے ہیں تو یقین ہی نہیں آ تا ۔
اک وہ بھی تھا زمانہ
اک یہ بھی ہے زمانہ
یہاں تو سبزی ترکاری کے لئے بھی خود ہی گاڑی گھمانی پڑتی ہے۔ وہ زمانہ گیا کہ ٹوکری ڈالی اور گھر بیٹھے جو چاہا لے لیا۔ پھر ٹوکری میں ہی پیسے ڈالے اور چیک آ ئوٹ بھی ہو گیا ۔
یہاں تو خریدنے کے بعد پیسے دینے کے لئے بھی لائن لگائو جب نمبر آ ئے گا تو حساب بیباق ہو گا ۔ ایک سیکیورٹی گارڈ بھی کھڑا دیکھ رہا ہوتا ہے کہ آ پ نے پیسے دئے یا نظر بچا کر چل دئے ۔ آ ج کل اعتبار کا زمانہ ہی نہیں رہا ۔
ہاں تو ہم کہ رہے تھے کہ کسی کے پاس سننے کا وقت نہیں جبکہ دلوں میں بہت کچھ کہنے کے لئے خزانہ جمع ہے اور سننے والے ہیں کہ نظر ہی نہیں آ تے ۔
زمانہ بدل گیا ۔ زمانہ کے ساتھ ساتھ لوگ بھی بدل گئے ۔ وہ نہیں رہے۔ سادگی تو یوں جانو نایاب ہی ہو کر رہ گئ ۔
پھر ہر بدلتے موسم کے ساتھ ۔نئے کام دھندے شروع ہو جا تے ہیں ۔ سردیوں کے موسم میں خدا جانے برف کہاں سے امڈی چلی آ تی ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی ۔ اب گاڑی چلانے کے لئے ڈرائیووے تو صاف کرنا ہی پڑے گی ۔ زیرو سے بیس پچیس ڈگری نیچے کے ٹمپریچر میں برف صاف کرنی جان جوکھوں کا کام ہوتا ہے ۔
سردی گئ ۔ ذرا کی ذرا سانس لی تو گارڈن میں گھاس لہلہا نے لگتی ہے ۔ اب لان موور نکالو ۔ یہ تو گویا ہر دوسرے دن کا حساب کتاب ہے۔ اس سے چھٹی ملتی ہے تو موسم بدلنے کے ساتھ ہی درختوں سے پتوں کی بوچھار شروع ہو جاتی ہے ۔ بیگ کے بیگ بھر کے جمع کرو ختم ہو نے کا نام ہی نہیں لیتے ۔
بچوں کے پاس تو وقت ہی نہیں ۔ وہ تو کمپیوٹر سے یوں لگے یٹھے ہو تے ہیں کہ ذرا نظر چوکی تو جیسے کوئی لے ہی اڑے گا ۔
رہ گئے ان کے اماں ا با تو وہ ان سارے دھندوں میں مصروف ۔ ہماری کہانیاں سننے سنانے کے لئے بھلا ان کے پاس وقت کہاں ۔
ہماری باتیں بھی اب باتیں کہاں قصے کہانیاں بن کر رہ گئی ہیں ۔بس بھولی بسری یادیں ہیں ۔ پر ہمارے لئے تو ہیں انمول ۔ خزانے کی طرح ہم نے سینے سے لگا کر رکھا ہوا ہے ۔ جب بھی وقت ملتا ہے ماضی کی کتاب کھول کر صفحے پلٹنا شروع کر دیتے ہیں سچ بڑا مزہ آ تاہے ۔ ماضی بھی کیا چیز ہے۔ پل بھر میں کہاں کہاں کی سیر کرا دیتا ہے ۔
شاہینہ اس وقت کی باتیں بتا رہی تھی جب وہ ڈبلن آ ئر لینڈ گئ تھی ۔ اپنی بیٹی کے پاس ۔ ہم بھی ایک زمانے میں آ ئر لینڈ گئے تھے ۔ پورا نقشہ نظروں میں گھوم گیا ۔ جبکہ اب تو بہت کچھ بدل چکا ہو گا ۔ پچیس برس کا عرصہ بھی تو گزر چکا ہے ۔
ہم ایک دوسرے کو قصے سنا رہے تھے ۔ کہ ڈبلن میں دریا تھا یا شاید کینال تھی وہ شہر کے بیچ میں سے گزرتی تھی ۔ وہ بتا رہی تھی کہ اس کی بیٹی انیلہ کے بچے چھوٹے تھے ان کے ساتھ چڑیا گھر گئی تھی ۔ ایک دو اور فیملی بھی ساتھ تھیں اس زمانے میں اپنے لوگ بہت کم تھے ۔
اس کی بیٹی انیلہ کے شوہر ڈاکٹر تھے ۔ ان کی لمرک میں پوسٹنگ تھی۔ چھوٹی سی کائونٹی تھی۔ وہاں سے وہ لوگ کئی فیملی مل کر بچوں کے ساتھ ڈبلن گئے تھے
۔
اب تو زمانہ بدل چکا ہے ۔ طور طریقوں میں کافی تبدیلی آ چکی ہے ۔ بہت کچھ یاد ماضی بن کر رہ گیا ہے۔ ماضی ہمیشہ پر کشش ہو تا ہے مقناطیس کی مانند ۔ اپنی طرف کھینچتا ہے ۔ آ پ جتنا بھی پیچھا چھڑا یں ۔ چھوڑ کر ہی نہیں دیتا۔
ہم اپنے اپنے قصے ایک دوسرے کو سنا رہے تھے ماضی کے مزے لے کر خوش ہو رہے تھے ۔ میں سوچ رہی تھی کہ آ ج کل کے زمانے میں یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ ۔
غنیمت ہے کہ ہم صورت یہاں دو چار بیٹھے ہیں ۔
جو پل بھی ملے اس کی قدر کریں ۔ ماضی کے چکر میں پڑ کر آ ج کا مزہ کیوں برباد کر یں ۔ چلیں ابھی تو ہم آ ئر لینڈ کی کہانیوں کے مزے لے رہے ہیں ۔ شاہینہ نے گرم گرم پکوڑے بنائے ہیں۔ مزے ہی مزے۔
ماضی کے چکر میں
کیوں وقت اپنا برباد کریں ۔
پکوڑے کے ساتھ املی کی چٹنی اور گرما گرم چائے اور کیا چاہئے ۔ خدا کا شکر ۔ مزے کی گزر رہی ہے ۔
Comments
Post a Comment