انہی پتھروں پہ چل کے اگر آ سکو تو آؤ
ہم اس وقت لیک پر موسم کے مزے لے رہے ہیں ۔ بیٹے کے ساتھ آ ئے ہوئے ہیں ۔ وہ تو لمبی وا ک پر چلے گئے ہم لیک کے کنارے چہل قدمی کر رہے ہیں ۔ پانی چاندی کی طرح جگمگ کر رہا ہے۔ کبھی سورج کی کرنیں اس کو سونے میں تبدیل کر دیتی ہیں ۔ پانی بھی کیا چیز ہے ہر کسی کی ضرورت اور ہر کسی سے بے خبر ۔ اپنی دنیا میں مگن اپنی دھن میں سب سے انجان رواں دواں ۔ پھر بھی سب اس کے گرد چکر لگاتے رہتے ہیں ۔ لیک میں کنارے پر بڑے بڑے بتھر پڑے ہوئے ہیں صاف شفاف پانی سے دھلے نکھر ے نکھر ے جگمگا رہے ہیں ۔ سچ جو بھی پانی کو چھوتا ہے صاف ستھرا نکھر ا ہو کر نکلتا ہے پانی پر سکون اپنی رو میں بہتا جا رہا ہے ۔ ایک ہم ہیں کہ اسی دھن میں خرچ ہو جاتے ہیں کہ لوگوں کو کیسے اپنی ذات کا یقین دلایا جائے۔ اپنی اہمیت جتانے کی تگ و دو میں زندگی گزر جاتی ہے پر نہ ہمیں یقین آ تا ہے اور نہ ہی لوگوں کو۔ کیا گھاٹے کا سودا ہے ۔ لوگوں کے پیچھے بھاگنے سے کیا ملا۔ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم ۔ ہم بھی کیا کہانی لے کر بیٹھ گئے۔ ابنائے ہرمز پر تو پہرہ بیٹھ گیا ۔ کوئی سوچ پر ...