Posts

Showing posts from April, 2026

انہی پتھروں پہ چل کے اگر آ سکو تو آؤ

Image
  ہم اس وقت لیک پر موسم کے مزے لے رہے ہیں ۔ بیٹے کے ساتھ آ ئے ہوئے ہیں  ۔ وہ تو لمبی وا ک پر چلے گئے ہم لیک کے کنارے  چہل قدمی کر رہے ہیں ۔ پانی چاندی کی طرح جگمگ کر رہا ہے۔ کبھی سورج کی کرنیں اس کو سونے میں تبدیل کر دیتی ہیں  ۔  پانی بھی کیا چیز ہے ہر کسی کی ضرورت اور ہر کسی سے بے خبر  ۔ اپنی دنیا میں مگن اپنی دھن میں سب سے انجان رواں دواں ۔ پھر بھی سب اس کے گرد چکر لگاتے رہتے ہیں  ۔  لیک میں کنارے پر بڑے بڑے بتھر پڑے ہوئے ہیں صاف شفاف پانی سے دھلے نکھر ے نکھر ے جگمگا رہے ہیں  ۔ سچ جو بھی پانی کو چھوتا ہے صاف ستھرا نکھر ا ہو کر نکلتا ہے  پانی پر سکون اپنی رو میں بہتا جا رہا ہے  ۔  ایک ہم ہیں کہ اسی دھن میں خرچ ہو جاتے ہیں کہ لوگوں کو کیسے اپنی ذات کا یقین دلایا جائے۔ اپنی اہمیت جتانے کی تگ و دو میں زندگی گزر جاتی ہے پر نہ ہمیں یقین آ تا ہے اور نہ ہی لوگوں کو۔ کیا گھاٹے کا سودا ہے ۔  لوگوں کے پیچھے بھاگنے سے کیا ملا۔ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم ۔ ہم بھی کیا کہانی لے کر بیٹھ گئے۔ ابنائے ہرمز پر تو پہرہ بیٹھ گیا ۔ کوئی سوچ پر ...

چائے والا

Image
 وقت کے تو جانو پر لگ گئے ہیں  ۔ ٹائم کا تو پتہ ہی نہیں چلتا ۔ دنیا بھی تو سمٹ کر رہ گئی ہے ۔ بچے بکھر گئے کچھ پڑھائیوں کے سلسلے میں اور کچھ نوکریوں کے سلسلے میں ۔ ماں باپ بچوں کے  چکر میں مسافر بن کر رہ گئے ۔ ایک قدم لندن تو دوسرا امریکہ ۔  ہمارا بھی کچھ یہی حال ہے ۔ پاکستان سے نکلے تو زمانہ  گزر گیا۔ کراچی بھی بھولا بسرا دھندلا سا ہو کر رہ گیا ہے ۔ ہم نے بھی حالات سے سمجھوتا کر لیا۔ اب تو ٹورنٹو کو ہی وطن سمجھ کر اسی سے دل لگا لیا ہے ۔ بچے انگلینڈ میں ہیں ہم کینیڈا میں ۔ سال میں ایک دو چکر لندن کا لگا آ تے ہیں ۔  اپریل کی چھ تاریخ کو ہماری بیٹی نے اپنے بیٹے کی شادی کی تقریب رکھی ہے ۔ ہمیں اپنا رخت سفر باندھنا ہے ۔ لندن جانے کی تیاری کرنی ہے۔  بدھ کے روز ہم والمارٹ میں گروسری کر رہے تھے ۔ ریحانہ مل گئ ادھر ادھر کی باتیں ہو نے لگیں ۔ ہم نے بتایا ہماری جمہ کی فلائیٹ ہے دعاؤں میں یاد رکھنا ۔ وہ پوچھنے لگی کہ کیا پاکستان جا رہی ہیں ۔  ہم نے کہا کہ پاکستان تو اماں کے بعد پردیس سا ہو کر رہ گیا ۔ اب تو انگلینڈ ہی بچوں کی وجہ سے دیس بن گیا ہے ۔ وہیں کے چ...

یہ زندگانی

رات آ د ھی سے زیادہ گزرنے کو ہے نیند نے تو جیسے قسم ہی کھا لی ہو کہ آ ج ا کے نہ دے گی۔ یہ تو ا ئے گئے روز کی ہی کہانی ہے ۔ اس کا کیا گلہ کر نا ۔ اور کریں بھی تو کس سے ۔ سب اپنے اپنے چکر میں الجھے ہوئے ہیں ۔ ہر کسی کی اپنی داستان ہے ۔ اب نہ ہی کوئی سننے والا نظر آ تا ہے اور نہ ہی سنانے والا۔  ہر کوئی اپنی اپنی  داستان چھپا ئے ایک دوسرے سے نظریں چراتا پھر رہا ہے ۔   محفلیں سج رہی ہیں چمک دھمک بھی خوب ہے پر رنگ پھیکے قہقہے کھوکھلے۔ یوں لگتا ہے ایک دوسرے کا دل رکھ رہے ہوں ۔ پھر تھک ہار کے   بیٹھ رہتے ہیں ۔ یا شاید ہماری ہی نظروں کا دھوکا ہے ۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو ۔ لوگوں کا بھی بھلا کیا قصور ۔ دنیا ہی عجب ڈھنگ پر چل رہی ہے ۔ گھڑی گھڑی کی خیر نہیں ۔ دل کو ایک دھکدھکا سا لگا رہتا ہے ۔ دعائیں تو پہلے جیسی ہی ہیں پر شاید ان میں وہ لگن نہیں رہی ۔ وہ اثر نہیں رہا ۔ بس واجبی سی ہی رہ گئ ہیں ۔ خلوص نہیں رہا ۔ باقی سب چیزوں کی طرح دعا ئیں بھی بس رسمی سی ہو کر رہ گئی ہیں ۔ قبولیت کی گھڑی آ ہے بھی تو بھلا کیسے ۔  جانے کیوں آ ج کل اماں بڑی یاد آ رہی ہیں ۔ ماں باپ نظروں...