رت آئے رت جائے
سماں ہے سہا نا۔ موسم ہے عاشقانہ cہیں ۔ عا شقا نہ لکھنا زیب نہیں دیتا ۔ عمرکا تقاضا کچھ اور ہے ۔ پراس عمر میں بھی ہر وقت اللہ اللہ تو کرنے سے رہے۔ یہ باتیں بھی زیب نہیں دیتیں ۔ چلیں کچھ اور بات کرتے ہیں۔ پر اس ذ ہن کا کیا کریں خدا جانے کہاں کہاں لئے پھرتا ہے اور ایسے ایسے سبز باغ دکھا تا کہ اس سے پیچھا چھڑا نے کا دل ہی نہیں کرتا ۔ یہ خوابوں خیا لوں کی دنیا بھی کیا عجب ہے۔ جی کرتا ہے اپنی دنیا سے نکل کراسی میں بس جائیں ۔ نہ کوئی فکر نہ دھند ا ۔ ا س نگری میں راوی چین ہی چین لکھتا ہے ۔ جب بھی ذرا دیر کے لئے اکیلے بیٹھے نہیں کہ ذہن کا دریچہ کھل جا تا ہے۔ ہمیں بھی کچھ اس کی چا ٹ سی پڑ گئ ہے۔ جی کرتا ہے۔ اس نگری سے باہر ہی نہ نکلیں۔ نیند آنے اور سو جاؤں میں دنیا مجھے ڈھونڈ ے مگر میرا پتہ کوئی نہ ہو باہر تو ایک ا پا دھا پی کا سا منظر ہے ۔ کسی کے پاس کسی کے لئے وقت نہیں۔ وقت تو خیر لوگوں کے پاس اپنے لئے بھی نہیں۔ لگتا ہے جلد ی میں ہیں ۔ بھا گے جا رہے ہیں ۔ بات کر نے کو جی ترستا ہی رہتا ہے۔ ارے چھوڑ ین بھی یہ کہانی قصے۔ ہم بھی کہاں کی لن ترا نی ...