کوئی نغمہ عشق گائے نہ گائے

آج ہماری سالگرہ ہے ۔ دیکھا جائے تو سالگرہ کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے زندگی کا ایک سال کھو دیا ۔ زندگی ایک قدم آگے بڑھ گئی ۔ پر کیا کریں ہماری سوچ کچھ مختلف ہے ۔ ۔ہم ہر گزرتے سال کے ساتھ رب کا جتنا بھی شکر کریں کم ہے ۔
خالق نے ہمیں ایک اور سال سے نواز دیا۔ ہمیں ایک موقع اور مل گیا مالک کی طرف سے۔
شاید اس کو ہماری ذات پر بھروسہ ہے یا پھر ا س کی زات کریمی کی وجہ سے ہمیں ایک اور موقع عطا ہو گیا ۔ جو بھی ہے۔ ہم تو اپنی سالگرہ پر بہت خوش ہوتے ہیں ۔
زندگی کا ہر لمحہ قدرت کا عطیہ ہی تو ہے۔۔ ہم اس کی جتنی بھی قدر کریں کم ہے۔ دنیا پر نظر ڈالیں تو جی کرتا ہے ٹی وی بند کردیں ۔ نہ کچھ سنیں گے نہ جی کڑھے گا ۔ دنیا کی بساط بڑوں کا کھیل ہے۔ ہماری کیا اوقات کہ بگڑے کھیل میں کچھ عمل دخل کر سکیں ۔ خالات بدلتے کی دعا ہی کر سکتے بس۔ دیکھیں دعائیں کپ رنگ لاتی ہیں ۔
موسم خوشگوار ہو چلا ہے۔ چڑیوں کی چہکار فضا میں جلترنگ سا بکھیر رہی ہیں۔ برفباری کب کے ختم ہو چکی ہے۔ بارشوں میں بھی اب وقفه ا چلا ہے۔ سورج آب و تاب کے ساتھ جگمگا رہا ہے ۔ فضا روشن ۔ درختوں میں بھی زندگی کی رمق دکھائی دینے لگی ہے۔
دنیا کی خبروں سے منہ موڑ لیں تو لگتا ہے کہ راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے۔ سب خیر ہے کبھی کبھی کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ پرائ اگ میں جی جلا نے سے کچھ نہیں ملنا ۔
وقت کے پر لگے ہوتے ہیں ۔ آگے بڑھ کر نہ تھا ما تو لمحے پلک جھپکتے گزر تے چلے جائیں گے۔ زندگی بڑی قیمتی ہے۔ اس کا ہر لمحہ انجوائے کر نا چاہیے۔ مالک کی عطا کوبھرپور انداز سے ہنسی خوشی گزارنے کی جستجو کرتے رہنا چاہیے۔ سب خیر ہو گی ۔
موسم تھوڑا سرد ہے ہم پہن اوڑھ کر واک پر نکل گئے ہیں۔ جا کر چائے پین گے اپنی سالگرہ منائن گے ۔ اپنی ذات کے ساتھ وقت گزارنے کا الگ ہی مزہ ہے۔ کبھی کبھی اپنے آپ کے لئے وقت نکالنا بڑا اچھا لگتا ہے۔
مقدد ر ہمیں اس د ر پہ لانے نہ لانے
کوئی نغمہ عشق گا ئے نہ گا ئے
ہم خود ہی اپنی سالگرہ منا لیتے ہیں
Comments
Post a Comment