ساون رت آئی پون کرے شو ر

دن خوبصورت صبح سہانی ۔ آسمان پر سورج پوری آب و تاب کے ساتھ جگمگ کر رہا ہے فضا میں تازہ
تازہ کٹی ہوئی گھا س کی خوشبو رچی ہوئی ہے ۔ شاید کوئی اس پا س لان موونگ کر رہا ہے ۔ خود رو رنگ برنگے پھول بہار دے رہے ہیں ۔ رنگ بکھیر رہے ہیں۔
پاس کے درخت کی شاخ پر دو چڑیا ں چہچہا رہی ہیں ۔ ایک جلترنگ سا بکھر گیا۔ اس پاس کے درختوں میں زندگی کی لہر دوڑ تی نظرآ نے لگی ہے۔ نئی کونپلیں پھوٹنی شروع ہو نے لگی ہیں۔ ابھی دو چار روز پہلے ہم کو گرم کوٹ سویٹرمفلردستا نے سب پہننے ہو تے تھے باہر جا نے کے لئے ۔
آج تو منظر ہی بدلا نظر آ رہا ہے۔ ہم نے کوٹ توپہنا ہوا ہے پر باقی چیزوں کی ضرورت نہیں رہی۔ کوٹ بھی کچھ زیادہ بھاری والا پہننے کی ضرورت نہیں پڑی۔ ہم اپنے کو بڑا ہلکا پھلکا محسوس کر رہے ہیں۔
وقت بھی کتنی جلدی پلٹا کھا تا ہے۔ کیا کیا رنگ دکھا تا ہے۔ سچ ہے کبھی کے دن بڑے کبھی کی را تیں ۔ آج کل تو راتیں چھوٹی ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ دن ختم ہو نے کا نام ہی نہیں لیتے۔ مغرب کی نماز کے لئے بیٹھے رہو کہ کب سورج ڈھلے اور نماز پڑھی جائے۔
دن لمبے ہیں یہ بھی ایک نعمت سے کم نہیں۔ ان کو گزارنے کی تگ ودود کرنے کے بجائے ان کو پوری طرح ا نجوا ئے کر نے کی جستجو کر نی چاہیے۔ نہ وقت کا بھروسہ ہے نہ صحت کا ۔ خدا نے کب تک یہ دولت ملی ہوئی ہے۔
اس کو دولت ہی سمجھنا چاہیے اور بھرپور طریقے سے گزارنا چاہیے۔ وقت اور صحت دونوں ہی انمول ہیں۔ خدا جانے وقت بدل جائے اور پھر
کوئی نغمہ عشق گائے نہ گا ئے
کہ پھر مجھ سا دیوانہ آئے نہ آئے
ایک تو ہمارے ساتھ یہ مسئلہ ہے کہ کوئی بات اٹک جائے تو ذ ہن سے نکلنے کا نام ہی نہیں لیتی۔ اب یہ عزل اٹک کر رہ گئی ہے۔ پتہ نہیں ہم کب تک ہم یہ گیت
کوئی نعمئہ عشق گائے نہ گا نے کا راگ الاپتے رہیں گے۔ کچھ چیزیں دل کو بھا جائیں تو ذہن سے نکلنے کا انام ہی نہیں لیتیں۔
لوگوں کے ساتھ بھی یہی کچھ ہے دل میں بس گئے تو پھر چھٹی۔ جان چھڑا نی مشکل ہو جاتی ہے۔ ہم بھی کن چکروں میں پڑ گئے۔ کہاں کے کہانی قصے لے کر بیٹھ گئے۔
یہ وقت ا گیا۔ دوپہر ہو نے کو ہے سارا کام پڑا ہوا ہے۔ ایک تو فون بھی عجیب شے ہے جان چھڑا نی مشکل ہو جاتی ہے۔
فون کے بغیر چین بھی تو نہیں پڑتا۔ بجے تو مشکل نہ بجے تو بھی دل کو کسی کل چین نہیں آ تا کہ ا ج مدرس ڈے ہے بچوں کا ابھی تک فون نہیں آ یا ۔ اب فون ا گئے تو آدھا دن فون میں نکل گیا ۔
سچ انسان کسی حال میں خوش نہیں۔ چلیں بچوں کے فون ا گئے دل خوش ہو گیا۔ دن کونسا کہیں بھاگا جا رہا ہے۔ کام کا کیا ہے۔ کام تو چلتے ہی رہتے ہیں۔ موسم اچھا ہے۔ تیار ہو چکے ہیں پہلے واک پر نکلتے ہیں۔ جا کر چائے پیتے ہیں۔ اپنے ساتھ وقت گزارنے کا الگ ہی مزہ ہے۔ پھر ا کے دیکھیں گے کیا کرنا ہے۔ گھر کا کام تو سمندر کی ما نند ہے چلتا ہی رہتا ہے۔
کوئی نعمئہ عشق گا ئے نہ گائے
کہ پھر مجھ سا دیوانہ آئے نہ آئے
اجازت اگر دو تو قدموں میں سو لوں
مقدر پھر اس د ر پہ لائے نہ لائے
یہ ذہن بھی کیا شے ہے جا نے کہاں کہاں بھٹکتا پھر تا ہے ۔ کہاں کہاں کی بے وقت کی راگنیان ا لاپنا شروع کر دیتا ہے۔ ذرا چھوٹ دی اور یہ پٹری سے اترا ۔ چلیں ہم چائے کے مزے لیتے ہیں۔ اس کو اس کے جال پر چھوڑد یتے ہیں ۔
Comments
Post a Comment