رت آئے رٹ جائے

 May be an image of French lavender

سماں ہے سہا نا۔ موسم ہے عاشقانہ

 ۔ عا شقا نہ لکھنا زیب نہیں دیتا ۔ عمرکا تقاضا کچھ اور ہے ۔ پراس عمر میں بھی ہر وقت اللہ اللہ تو کرنے سے رہے۔ یہ باتیں بھی زیب نہیں دیتیں ۔ چلیں کچھ اور بات کرتے ہیں۔ پر اس ذ ہن کا کیا کریں  خدا جانے کہاں کہاں لئے پھرتا ہے اور ایسے ایسے سبز باغ دکھا تا کہ اس سے پیچھا چھڑا نے کا دل ہی نہیں کرتا  ۔

یہ خوابوں خیا لوں کی دنیا بھی کیا عجب ہے۔ جی کرتا ہے اپنی دنیا سے نکل کراسی میں بس جائیں ۔ نہ کوئی فکر نہ دھند ا ۔ ا س نگری میں راوی چین ہی چین لکھتا ہے ۔ جب بھی ذرا دیر کے لئے اکیلے بیٹھے نہیں کہ ذہن کا دریچہ کھل جا تا ہے۔

ہمیں بھی کچھ اس کی چا ٹ سی پڑ گئ ہے۔ جی کرتا ہے۔ اس نگری سے باہر ہی نہ نکلیں۔
 
نیند آنے اور سو جاؤں میں
دنیا مجھے ڈھونڈ ے
مگر میرا پتہ کوئی نہ ہو

باہر تو ایک ا پا دھا پی کا سا منظر ہے ۔ کسی کے پاس کسی کے لئے وقت نہیں۔ وقت تو خیر لوگوں کے پاس اپنے لئے بھی نہیں۔ لگتا ہے جلد ی میں ہیں ۔ بھا گے جا رہے ہیں  ۔ بات کر نے کو جی ترستا ہی رہتا ہے۔ ارے چھوڑ ین بھی یہ کہانی قصے۔ ہم بھی کہاں کی لن ترا نی سنا نے بیٹھ گئے۔

آج موسم خوشگوار ہے ۔  کھلے نیلے آسمان پر سورج جگمگ کر رہا ہے۔ روشنی بکھیر رہا ہے۔  ہمارے د یس کینیڈا میں گرمیوں کا موسم ایک مہمان کی طرح آتا ہے۔ بس آیا اور گیا ۔ ہم اس موسم کا ویسے ہی انتظار کر تے ہیں جیسے کہ سنا ہے کہ کسی زمانے میں لوگ دسترخوان بچھا کر مہمانوں کا کیا کر تے تھے ۔ کہ وہ آئیں تو کھانا شروع کریں ۔

ا ب وہ زمانہ کہاں۔ نہ مہمانوں کے پاس آنے کا وقت ہے اور نہ ہی لوگوں کے پاس مہما ن نوازی کا ۔ سب اپنی اپنی دنیا میں مگن ہیں ۔ خبر نہیں مگن ہیں بھی یا نہیں ۔ خیر اب اتنا وقت کس کے پا س کہ جا کر پتہ کریں۔  پھر کونسا بھلا کوئی بتا ہی د یے گا ۔

ایک سناٹا سا فضا میں رچ بس گیا ہے۔ لوگ بھی جا نو اس کے عادی سے ہو چلے ہیں ۔ برفباری کب کے ختم ہو چکی۔ بارشیں بھی اب تھم سی گئی ہیں کچھ د نوں کے لئے۔ آج تو رت ہی بد لی بد لی سی ہے ۔  مہینوں بعد ہم نے اپنا کوٹ سویٹرد ستا نے سب اندر رکھ د ئے

 باہر نکلنے ہوئے ہم بڑا ہلکا پھلکا محسوس کر رہے ہیں۔ بہارکا موسم سچ مچ ا گیا ۔ سویٹر جیکٹ کسی چیز کی ضرورت نہیں ۔ ہم سا دہ سے کپڑے پہن کر نکل گئے ۔ باہر جا کر موسم کا لطف اٹھا ئے کا اپنا الگ ہی مزہ ہے ۔

ہر طرف سبزہ ہی سبزہ ۔ درختوں پرچڑیوں کی چہکار۔ لوگ خوشگپدیوں میں مصروف ۔ رت بد لتے ہی فضا کا سارا سناٹا فضا ہی میں کہیں گم ہو کر رہ گیا ۔ بہا ر اتے ہی موسم سہا نا ۔ فضا ر نگین ۔  لوگ خوش با ش ۔سچ باہر کے موسم کی رنگینی دلوں کے اندر کا موسم بھی بدل کر رکھ دیتا ہے۔

سہانا سفر اور یہ موسم جسین
ہمیں ڈر ہے ہم کھو نہ جائیں کہیں

جی کرتا ہے

جا کر کہیں کھو جاؤں میں
دنیا مجھے ڈھونڈ ے
مگر میرا پتہ کوئی نہ ہو

 ہیں ۔ عا شقا نہ لکھنا زیب نہیں دیتا ۔ عمرکا تقاضا کچھ اور ہے ۔ پراس عمر میں بھی ہر وقت اللہ اللہ تو کرنے سے رہے۔ یہ باتیں بھی زیب نہیں دیتیں ۔ چلیں کچھ اور بات کرتے ہیں۔ پر اس ذ ہن کا کیا کریں  خدا جانے کہاں کہاں لئے پھرتا ہے اور ایسے ایسے سبز باغ دکھا تا کہ اس سے پیچھا چھڑا نے کا دل ہی نہیں کرتا  ۔

یہ خوابوں خیا لوں کی دنیا بھی کیا عجب ہے۔ جی کرتا ہے اپنی دنیا سے نکل کراسی میں بس جائیں ۔ نہ کوئی فکر نہ دھند ا ۔ ا س نگری میں راوی چین ہی چین لکھتا ہے ۔ جب بھی ذرا دیر کے لئے اکیلے بیٹھے نہیں کہ ذہن کا دریچہ کھل جا تا ہے۔

ہمیں بھی کچھ اس کی چا ٹ سی پڑ گئ ہے۔ جی کرتا ہے۔ اس نگری سے باہر ہی نہ نکلیں۔
 
نیند آنے اور سو جاؤں میں
دنیا مجھے ڈھونڈ ے
مگر میرا پتہ کوئی نہ ہو

باہر تو ایک ا پا دھا پی کا سا منظر ہے ۔ کسی کے پاس کسی کے لئے وقت نہیں۔ وقت تو خیر لوگوں کے پاس اپنے لئے بھی نہیں۔ لگتا ہے جلد ی میں ہیں ۔ بھا گے جا رہے ہیں  ۔ بات کر نے کو جی ترستا ہی رہتا ہے۔ ارے چھوڑ ین بھی یہ کہانی قصے۔ ہم بھی کہاں کی لن ترا نی سنا نے بیٹھ گئے۔

آج موسم خوشگوار ہے ۔  کھلے نیلے آسمان پر سورج جگمگ کر رہا ہے۔ روشنی بکھیر رہا ہے۔  ہمارے د یس کینیڈا میں گرمیوں کا موسم ایک مہمان کی طرح آتا ہے۔ بس آیا اور گیا ۔ ہم اس موسم کا ویسے ہی انتظار کر تے ہیں جیسے کہ سنا ہے کہ کسی زمانے میں لوگ دسترخوان بچھا کر مہمانوں کا کیا کر تے تھے ۔ کہ وہ آئیں تو کھانا شروع کریں ۔

ا ب وہ زمانہ کہاں۔ نہ مہمانوں کے پاس آنے کا وقت ہے اور نہ ہی لوگوں کے پاس مہما ن نوازی کا ۔ سب اپنی اپنی دنیا میں مگن ہیں ۔ خبر نہیں مگن ہیں بھی یا نہیں ۔ خیر اب اتنا وقت کس کے پا س کہ جا کر پتہ کریں۔  پھر کونسا بھلا کوئی بتا ہی د یے گا ۔

ایک سناٹا سا فضا میں رچ بس گیا ہے۔ لوگ بھی جا نو اس کے عادی سے ہو چلے ہیں ۔ برفباری کب کے ختم ہو چکی۔ بارشیں بھی اب تھم سی گئی ہیں کچھ د نوں کے لئے۔ آج تو رت ہی بد لی بد لی سی ہے ۔  مہینوں بعد ہم نے اپنا کوٹ سویٹرد ستا نے سب اندر رکھ د ئے

 باہر نکلنے ہوئے ہم بڑا ہلکا پھلکا محسوس کر رہے ہیں۔ بہارکا موسم سچ مچ ا گیا ۔ سویٹر جیکٹ کسی چیز کی ضرورت نہیں ۔ ہم سا دہ سے کپڑے پہن کر نکل گئے ۔ باہر جا کر موسم کا لطف اٹھا ئے کا اپنا الگ ہی مزہ ہے ۔

ہر طرف سبزہ ہی سبزہ ۔ درختوں پرچڑیوں کی چہکار۔ لوگ خوشگپدیوں میں مصروف ۔ رت بد لتے ہی فضا کا سارا سناٹا فضا ہی میں کہیں گم ہو کر رہ گیا ۔ بہا ر اتے ہی موسم سہا نا ۔ فضا ر نگین ۔  لوگ خوش با ش ۔سچ باہر کے موسم کی رنگینی دلوں کے اندر کا موسم بھی بدل کر رکھ دیتا ہے۔

سہانا سفر اور یہ موسم جسین
ہمیں ڈر ہے ہم کھو نہ جائیں کہیں

جی کرتا ہے

جا کر کہیں کھو جاؤں میں
دنیا مجھے ڈھونڈ ے
مگر میرا پتہ کوئی نہ ہو

Comments

Popular posts from this blog

کل نہ جانے ہم کہاں

چار دنوں کا کھیل

مکھڑے پہ سہرا ڈالے