چار دنوں کا کھیل

May be an image of campsite


بچپن بیتا آ ئ جوانی چار دنوں کا کھیل 
کبھی کبھی جی کر تا ہے کہ منہ کا مزہ بدلنے کے لئے یو ٹیوب پر گانے سنتے جائیں ۔ اپنے من پسند ۔نئے گانے تو ہمارے اوپر سے گزر جاتے ہیں ۔ اپنے زمانے کے ہی گانے سننے کو جی کر تا ہے ۔
 
زندگی گزارنی ہے تو کیوں نہ ہنس کھیل کر گزاری جائے ۔ آ ج اچھی گزارنے کی فکر کریں ۔ کل کس نے دیکھی ہے ۔ کل کی کل دیکھیں گے ۔
 
زندگی نے ہمیں بڑے اونچ نیچ دکھائے پر ہم بھی ایک ڈھیٹ ۔ کچھ سیکھ کر نہ دیا ۔ یا شاید بہت کچھ سیکھ گئے ۔ ہم نے تو بس یہی سیکھا کہ 
جو گزر گیا اسے بھول جا ۔ پیچھے مڑ کر دیکھیں گے تو پتھر کے بن جائیں گے ۔
اسی میں عافیت ہے ۔ پیچھے مڑ کر دیکھنے میں نرا پچھتاوا ہے۔ حاصل کچھ نہیں ہو نا ۔ زندگی ہے بس چار دنوں کا کھیل ۔ اور کچھ بھی نہیں ۔ اسے ہنس کھیل کر گزاردیں ۔ اگر رونے بیٹھ گئے تو اپنے پرائے سب منہ موڑ لیں گے ۔ بہتر یہی ہے کہ خود اپنے آپ سے بھی نظر یں چرا لیں ۔ زندگی نے ہمیں کیا دیا کیا نہیں ۔ اب اس کا ذکر ہی کیا  ۔ رات گئی بات گئی ۔ 
 
دل کی دل میں رکھ کر فضا میں رنگ بکھیر نے کا سوچیں ۔ آ پ کو دوستوں کی کمی نہیں ہو گی ۔ رونے اور گلہ کر نے والے اکیلے رہ جاتے ہیں ۔ پیار کرنے والے بھی تنگ آ کر راستہ بدل لیتے ہیں ۔ 
ہم نے تو اپنی زندگی سے یہی سبق سیکھا ہے ۔ مزے کی گزر رہی ہے۔
 
زندگی ہے بس چار دنوں کا کھیل 
اس کے لئے کیا اتنی سوچ بچار ۔ لوگوں کو خوشیاں بانٹیں ۔ مسکراہٹیں بکھیر یں ۔ آ پ کو سب حسین لگنے لگے گا ۔
 
زندگی اک سفر ہے سہانا 
کل کیا ہو کس نے جانا
اس وقت دن کے گیارہ بج رہے ہیں ۔ ہم یو ٹیوب کی دنیا سے نکل کر باہر بیک یارڈ میں آ گئے ہیں ۔ موسم بڑا اچھا ہے نہ زیادہ گرمی نہ سردی ۔ سامنے کیاری میں رنگ برنگے موسمی پھول فضا میں رنگ بکھیر رہے ہیں ۔ گارڈن سر سبز و شاداب ہے ۔ خدا بارش کا بھلا کرے 
 
 دو عدد چڑیاں ہری بھری گھاس پر چہل قدمی کر رہی ہیں ۔ 
دائیں جانب کیاری میں سرخ رنگ کے دو گلاب مسکرا رہے ہیں ۔ سامنے فنس پر کالے رنگ کی گلہری کرتب دکھا رہی ہے ۔ ایک عدد سفید رنگ کی تتلی پھولوں کے گرد چکر لگا رہی ہے ۔ یہ سب کچھ اتنا حسین لگ رہا ہے کہ بے اختیار یہ کہنے کو جی کر تا ہے
 
سہانا سفر اور یہ موسم حسیں
ہمیں ڈر ہے ہم کھو نہ جائیں کہیں 

آ پ کہیں گے کہ اس عمر میں کھو نے کی باتیں کر نا کچھہ زیب نہیں دیتا ۔ ثو بھئ ہم عمر ومر کو نہیں مانتے ۔ لوگوں کی باتوں کی پرواہ کر نے لگے تو روتے ہی گزر ے گی ۔ 
لوگوں کی باتیں سن کر

 دل کو جلا نا ہم نے چھوڑ دیا 
جی کو لگانا ہم نے سیکھ لیا 

آپ بھی اسی پر عمل کریں سکھی رہیں گے ۔ 

Comments

Popular posts from this blog

لیڈییز کمپارٹمنٹ

نیل گگن کے تلے

مکھڑے پہ سہرا ڈالے