مکھڑے پہ سہرا ڈالے
ہم بھی جب کچھ کرنے کو نہیں ہو تا تو جھٹ کمپیوٹر کھول کر
بیٹھ جاتے ہیں اور پھر یو ٹیوب ژندہ باد ۔ کچھ نہ کچھ دیکھنے سننے کو مل ہی جاتا ہے ۔ اب اس وقت خدا جانے کیسے یہ بھولا بسرا گیت ہاتھ لگ گیا ۔ یقین جانیں اس میں ہمارا کوئی عمل دخل نہیں ۔ ہم تو بس انگلیاں گھمارہے ہوتے ہیں اور کوئی نہ کوئی پرانا گیت ٹکرا جاتا ہے پھر کون کمبخت ہوگا جس کا سننے کو جی نہ کرے
تو جناب اس وقت ہاتھ لگ گیا یہ گیت اور ہم ماضی کے جھروکوں میں جھانکنا شروع ہو گئے ۔
ایک
تو یہ ماضی نظروں سے اوجھل ہوتا ہی کب ہے۔ ذرا دیر کو نظروں سے اوجھل ہو
بھی جائے تو کہیں آ س پاس ہی دبک کے بیٹھا ہوتا ہے اور ہم کچھہ دیر کو سکون
کی سانس لے لیتے ہیں کہ چلو جان چھوٹی پر ماضی سے کس کی جان چھوٹی ہے یہ
کب جان چھوڑ نے والا ہے ۔ وہ تو زندگی کے ساتھ ساتھ رہتا ہے قدم سے قدم ملا
کر ۔
ذرا نظر چوکی اور سامنے آ کھڑا ہو آ ۔
حلق کا داروغہ بن کر ۔ حلق کا داروغہ ہی کہنے کو جی کرتا ہے اسے ۔ جب سامنے
آ کھڑا ہوتا ہے تو اپنا آ پ بھی بھول بھال جاتے ہیں اور لگتے ہیں ماضی کی
راکھ کریدنے ۔
وہاں بھلا کیا ملنا تھا ۔ بھلا راکھ میں سے بھی
کبھی کچھ ملا ہے ۔ نرا وقت کا زیاں اور سکون کی بربادی ۔ سب جانتے ہیں پر
اس کمبخت ماضی میں کشش ہی قیامت کی ہے ۔ عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے ۔ اور ہم
سب
بھول بھال ماضی میں گم ہو جاتے ہیں ۔ اور اب یہ گیت سامنے آ گیا ۔
مکھڑے پہ سہرا ڈالے آ جا او آ نے والے
چاند سی بنو میری تیرے ہوالے
ایک
تو ہمارے زمانے میں اس سہرے نے جان عذاب میں کر رکھی تھی ۔ بچپن بیتا ذرا
ہوش سنبھالا اور اپنے آ پ کو بنو سمجھ بیٹھتے اور پھر سہرے اور سہرے والے
کے خواب دیکھنے شروع کر دیتے ۔
اب تو سہرے کا زمانہ ہی نہیں رہا پھر سہرے والا کہاں سے ملے ۔
شاید
لڑکیوں نے اسی لیے شادی کے خواب ہی دیکھنے چھوڑ دیئے ۔ نہ ہو گآ بانس اور
نہ بجے گی بانسری ۔ اب تو سہرے والا اگر بھولا بھٹکا آ تا بھی ہے تو سیدھا
سادھا کوٹ پتلون میں ۔ اس میں بھلا سہرے والے دولھا کی بات کہاں ۔
ہم
تو اپنے زمانے میں شاید سہرے کی وجہ سے ہی سہرے والے کے خواب دیکھتے تھے ۔
پھر سہرے کے اندر سے سہرے والا کیسا ہی دیکھنے کو ملتا ۔ ہماری قسمت ۔
تقدیر پربھی بھلا کبھی کسی کا بس چلا ہے ۔
میرے خیال سے اگر پھر
سے سہرے کا زمانہ رائج ہوجائے تو شاید لڑکیوں میں شادی کا تھوڑا جزبہ
اجاگر ہو جائے ہماری تجویز ہے آ گے آ پ کی مرضی ۔
ہم تو اس وقت بس اس گیت کے مزے لے رہے ہیں
مکھڑے پہ سہرا ڈالے آ جا او آ نے والے
چاند سی بنو میری تیرے حوالے
سلمہ ستارے کا یہ جوڑا شاہانہ ہے جی
گوری کو دلہن بن کر ڈولے میں جانا ہے جی
سچ
سن کر مزہ آ گیا ۔ اپنا زمانہ یاد آ گیا جب ہم اماں باوا کے گلے لگ کر
روتے دھوتے ڈولے میں تو نہیں سہرے والے کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر روانہ
ہورہے تھے ۔ گاڑی خدا جانے سہرے والے کی تھی یا کسی سے مانگی ہوئی تھی ۔
اس وقت توہم پتہ نہیں کیا سوچ رہے تھے بالکل بھی یاد نہیں آ رہا ۔
پر
اب خیال آ رہا ہے کہ ہمارا سہرے والا بچارہ کسی چاند سی بنو کے خواب دیکھ
رہا ہوگا راستے بھر اور اندر سے ہم نکلے ۔ ہیں نا کھلا تزاد ۔ ہمارے گھر
والوں نے گانا ہی ایسا لگایا تھا ۔ اس کا خواب دیکھنا تو بنتا ہے ۔خیر اب
ان باتوں سے کیا حاصل رات گئی بات گئی ۔ چلیں گانا سنتے ہیں ۔ اس کے مزے
لیتے ہیں ۔
مکھڑے پہ سہرا ڈالے آ جا او آ نے والے ۔
Comments
Post a Comment