چائے والا

وقت کے تو جانو پر لگ گئے ہیں ۔ ٹائم کا تو پتہ ہی نہیں چلتا ۔ دنیا بھی تو سمٹ کر رہ گئی ہے ۔ بچے بکھر گئے کچھ پڑھائیوں کے سلسلے میں اور کچھ نوکریوں کے سلسلے میں ۔ ماں باپ بچوں کے چکر میں مسافر بن کر رہ گئے ۔ ایک قدم لندن تو دوسرا امریکہ ۔
ہمارا بھی کچھ یہی حال ہے ۔ پاکستان سے نکلے تو زمانہ گزر گیا۔ کراچی بھی بھولا بسرا دھندلا سا ہو کر رہ گیا ہے ۔ ہم نے بھی حالات سے سمجھوتا کر لیا۔ اب تو ٹورنٹو کو ہی وطن سمجھ کر اسی سے دل لگا لیا ہے ۔ بچے انگلینڈ میں ہیں ہم کینیڈا میں ۔ سال میں ایک دو چکر لندن کا لگا آ تے ہیں ۔
اپریل کی چھ تاریخ کو ہماری بیٹی نے اپنے بیٹے کی شادی کی تقریب رکھی ہے ۔ ہمیں اپنا رخت سفر باندھنا ہے ۔ لندن جانے کی تیاری کرنی ہے۔
بدھ کے روز ہم والمارٹ میں گروسری کر رہے تھے ۔ ریحانہ مل گئ ادھر ادھر کی باتیں ہو نے لگیں ۔ ہم نے بتایا ہماری جمہ کی فلائیٹ ہے دعاؤں میں یاد رکھنا ۔ وہ پوچھنے لگی کہ کیا پاکستان جا رہی ہیں ۔
ہم نے کہا کہ پاکستان تو اماں کے بعد پردیس سا ہو کر رہ گیا ۔ اب تو انگلینڈ ہی بچوں کی وجہ سے دیس بن گیا ہے ۔ وہیں کے چکر لگاتے رہتے ہیں ۔
ریحانہ بولی ۔ تمہارے تو مزے ہیں ایک قدم ٹورنٹو تو دوسرا لندن ۔ اب ا سے کیا سمجھا ئیں کہ بچے تو اپنے کاموں اور فیملی میں مصروف ہیں ۔ ہم نہ جائںں تو ان کی شکلیں دیکھنے سے ہی محروم ہو جائیں ۔
ٹورنٹو سے لندن سات گھنٹے سے زیادہ کا سفر ہے لندن سے واپس آ تے وقت آ دھا گھنٹہ اور لگتا ہے ۔ پھر گھر سے گھر تک تو پورا دن ہی رکھ لو ۔ ہمت کر ہی لیتے ہیں بچوں سے ملنے کی لگن میں ۔
اب تو سفر کرنا بھی آ سان نہیں رہا ۔ کسی زمانے میں دو سوٹ کیس لے جانے کی سہولت تھی اب تو ایک سوٹ کیس لے جانے کے بھی اچھے خاصے پیسے دینے ہو تے ہیں
اتنا لمبا سفر ۔ چار دنوں کے لئے تو جانا نہیں ہوتا ۔ کچھ تو سامان لے کر جائیں گے ۔ پھر موسم کا بھی سوچنا ہوتا ہے ۔ کوٹ ۔ سوئٹر ۔ آ نے جا نے کے لئے تھوڑ ے بہت کپڑے تو لے جانے ہوں گے ۔
وہاں دو چار لوگوں سے ملنا جلنا بھی ہو تا ہے ۔ پر ائر لائن والوں کو اس سے کیا لینا دینا ۔ ہم ہی کسی نہ کسی طرح دریا کو کوزے میں بند کر کے ایک سوٹ کیس لے کر سمندر پار کرنے چل پڑتے ہیں ۔
خدا کا شکر ہے ہمت ہو ہی جاتی ہے ۔ بچوں کو دیکھ آ تے ہیں ۔ ان کو مل آتے ہیں دل خوش کر لیتے ہیں ۔ سات آ ٹھ گھنٹے کا جہاز کا سفر بھول جاتے ہیں ۔ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ ابھی واپسی کا سفر رہتا ہے ۔
تو ہم بھی بچوں کی خاطر مسافر ہی بن چکے ہیں ۔ سوٹ کیس لئے ایک قدم لندن تو دوسرا کینیڈا ۔ اپنے کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ بچوں کو دیکھ آ ئے ۔
خدا جانے کب تک جا سکیں گے ۔
سفر آ سان نہیں پر اولاد کی محبت کا پر لا بھاری ہے۔
ہم لندن پہنچ چکے ہیں ۔ سفر اچھا گزرا ۔ بچوں کے ساتھ بیٹھے ہیں بڑا اچھا لگ رہا ہے ۔ وا پسی کا سفرکر نا ہے ۔ ابھی اس کا نہیں سوچ رہے ۔
ارے بھئ کل کی کل دیکھی جائے گی ۔ جو وقت ہنس کھیل کر گزر جائے اس کو تو انجوائے کرلیں ۔ کل کی فکر میں ۔
کیوں وقت اپنا برباد کر یں
ایک تو خدا جانے اس عمر میں بھی ذہن کہاں کہاں بھٹکتا رہتا ہے ۔ اس وقت کبھی کبھی کا گانا یاد آ گیا
ہم سے پہلے کتنے آ ہے
کتنے آ کر چلے گئے
میں پل دو پل کا قصہ ہوں
پل دو پل میری کہانی ہے
سچ ہم آ پنی ذات کی الجھنوں کو سلجھانے میں یہ بھول جاتے ہیں کہ
ہم پل دو پل کا قصہ ہیں
کل سب سے جدا ہو جائیں گے
گو آ ج تمہارا حصہ ہیں
زندگی کے سفر میں ۔ راستے میں جو بھی لمحے مسکراہٹ بکھیر دیں ان کی قدر کر لیں ۔
کل کس نے دیکھی ہے ۔ ابھی تو یہ گا نا گا نے کو جی کر رہا ہے
سہانا سفر اور یہ موسم حسین
ہمیں ڈر ہے ہم کھو نہ جائیں کہیں
سامنے" چائے والا " کا اسٹال نظر آ گیا اس کی " پنک چائے " ہمیں ا چھی لگتی ہے ۔ ہماری بیٹی کو اس کی
" کڑک چائے '" پسند ہے ۔ ہم چائے والا کے سامنے والی بنچ پر بیٹھے چائے کے مزے لے رہے ہیں ۔ زندگی سچ میں بڑی حسین لگ رہی ہے ۔
Comments
Post a Comment