پگڈنڈیاں

 May be an image of strawberry, smoked salmon and turnover
 
 
جنوری کا مہینہ ابھی شروع ہوا ہے ۔ شروع ہوئے بھی بس دو چار ہی روز گزر ے ہیں ۔ موسم سرد ہے صبح سویرے سے برفباری ہو رہی ہے دن بھر چلے گی محکمہ موسمیات نے پیشین گوئی کر دی ۔
 گویا پتھر کی لکیر ہے ۔ یہاں کے لوگوں کو آ خر ہر بات کی پہلے سے ہی کیسے خبر ہو جاتی ہے ۔ ہم تو ایک چاند پر ہی الجھے رہتے ہیں کہ عید آ خر ہو گی تو کس دن ۔

ہر طرف چاندی سی بکھری ہوئی ہے ۔ درختوں میں روئی کے گالے کپاس کے پھولوں کی مانند فضا کو چار چاند لگا دیے ہیں ۔ سورج دھیما دھیما سہما سہما سا سرمئی آ سمان میں سے آ نکھیں ملتا ہوا دکھائی دے رہا ہے قدرت کے بھی کتنے رنگ کتنے روپ ہیں ۔ ہر روپ نرالا ۔ 

نیا سال بھی دبے پاؤں آ ہی پہنچا ۔ خیر دبے پاؤں تو نہیں خاصے دھوم دھڑکے سے آ یا ۔ یہاں لوگ بڑے زندہ دل ہیں ۔ تیار بیٹھے ہوتے ہیں خوشیاں منانے کے لئے ۔ بس بہانہ چاہیے ۔ کرسمس کے لئے ہفتوں پہلے سے تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں ۔ 

شاپنگ مال میں ڈیل لگی ہوئی ہے لوگ خریداری میں مصروف ۔ مال بھرے ہوئے ۔ پھر نیو ایئر تو کرسمس کے ساتھ ہی جڑا ہوا ہے ۔ وہاں سے فارغ نہیں ہوئے کہ نیا سال سر پر آ گیا ۔ 

بس یوں سمجھیں کہ کسی کو کسی کا ہوش نہیں ہوتا ۔ اس سے پہلے بھی جانے کتنے اور تہوار ہوتے ہیں ۔ 

تھینکس گیونگ ڈے ۔ ہیلووین ۔ یہاں کے لوگ خوشیاں منانے کے بہانے ڈھونڈ تے رہتے ہیں ۔ اب تو پاکستان میں بھی کافی کچھ منایا جاتا ہے عید بقرعید شبرات کے علاوہ
 اچھی بات ہے خوشیاں ڈھونڈ نے اور منانے کے جتن کرتے رہنا چاہیے ۔ 

زندگی زندہ دلی کا نام ہے 
مردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں 

خیر جیتے تو وہ بھی ہیں ۔ جیتے کیا ہیں بس زندگی گزار لیتے ہیں ۔ 

اب اونچ میچ خوشی غمی کا تو چولی دامن کا ساتھ ہے زندگی پھولوں کی سیج تو ہے نہیں اس میں تو قدم قدم پر مشکل لمحات کا سامنا تو کرنا ہی ہوتا ہے ۔  

زندگی کا سفر خاصا طویل ہو تا ہے تھکا دینے والا ۔ اس میں رک رک کر سانس درست کر نا ہوتا ہے ۔ چھوٹی چھوٹی خوشیاں ڈھونڈ نی ہوتی ہیں ۔ خوشیاں منانے کے بہانے ڈھونڈ نے ہوتے ہیں ۔ یہ ہمیں تازہ دم کر تی رہتی ہیں ہم کو زندگی کا راستہ طویل نہیں لگتا ۔ سفر خوشگوار لگتا ہے ۔ تھکن دور ہونے لگتی ہے ۔

خوشیاں بھی وائرس کی مانند ہوتی ہیں زندگی میں رنگ بھر دیتی ہیں ۔ اس کی یکسانیت کو ختم کر دیتی ہیں ۔ ہم سب کچھہ بھول بھال اس کے ہی رنگ میں رنگ جاتے ہیں ۔ زندگی کانٹوں کا راستہ نہیں بلکہ پھولوں کی سیج لگنے لگتی ہے 

ہم نے تو جب خوشیاں مانگیں 
کانٹوں کا ہار ملا 
کا گیت سننے کے بجائے 
سہانا سفر اور یہ موسم حسین 

سننے کو جی کرنے لگتا ہے 
 خوشیاں ڈھونڈ نے کے جتن کرتے رہنا چاہیے ۔ زندگی حسین لگنے لگے گی ۔ خدا کا دیا ہوا بیش بہا عطیہ۔ 

Comments

Popular posts from this blog

لیڈییز کمپارٹمنٹ

نیل گگن کے تلے

مکھڑے پہ سہرا ڈالے