کہی انکہی

جنوری گزر ا فروری بھی چند ہفتوں کا مہمان ہے ۔ نیا سال کہاں کا نیا ۔ کب کے پرانا ہو چکا ۔ اب وہ آ ب و تاب کہاں جو نئے سال کے سورج طلوع پوتے وقت تھی ۔ وہ دھوم دھڑکا کب کے مدھم پڑ چکا ۔ اب تو دن رات کا وہی پرانا روٹین ہے جو ہر سال رہتا ہے یعنی
صبح ہوتی ہے شام ہو تی ہے
زندگی یونہی تمام ہوتی ہے
شعر آ گے پیچھے ہو گیا ہو تو ہم پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ اب ذہن کچھ کند سا ہو کر رہ گیا ہے ۔ باتیں گڈ مڈ سی ہو جاتی ہیں ۔ الفاظ یاد آ تے ہیں پر وقت پر نہیں ۔ حافظہ میں وہ بر جستگی نہیں رہی ۔
اگر کچھ یاد ہے تو گزر ا ہوا زمانہ ۔ سب فر فر یاد ہے ۔
تمہیں یاد ہو نہ یاد ہو
ہمیں یاد ہے سب ذرا ذرا
کبھی کبھی تو ہم عاجز ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ جی کرتا ہے کہ ذہن پر پہرا بٹھا دیں ۔ دل پکار پکار کر کہتا ہے
یاد ماضی عذاب ہے یارب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
پر دل و دماغ کی لڑائی تو بڑی پرانی ہے ۔ نہ ہمارا دل پر قابو ہے نہ ہی ذہن کچھ سمجھتا ہے ۔ ہم نے بھی اسی میں بہتری جا نی کہ دونوں کو اپنی اپنی راہ چلنے دیں ان کے حال پر چھوڑ دیں ۔
بیگانی شادی میں بلا وجہ عبداللہ دیوانہ
ہم خوامخواہ اپنے کو ہلکان کر رہے ہیں ۔ یہ تو روز کا ہی جھگڑا ہے ۔ اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا ۔
ایک تو ہم اپنے آ پ سے عاجز ہیں ۔ کبھی ڈھنگ سے کوئی کام نہ کیا ۔ اب شعر پڑھا تو بے تکا ۔ بے محل ۔
چلیں خیر ایسی بھی کوئی بات نہیں ۔ ہمیں اپنے آ پ پر ہاتھ ذرا ہولا رکھنا چاہیے ۔ سب ویسے ہی ہاتھ دھو کر پیچھے پڑے رہتے ہیں ۔ ذرا بھول چوک ہوئ نہیں کہ ہر طرف سے صدا آ نی شروع ہو جاتی ہے ۔ معاف کرنے اور در گزر کرنے کا تو زمانہ ہی نہیں رہا ۔
لوگوں کا بھی قصور نہیں ۔ سب اپنے اپنے چکروں میں ہیں ۔ اپنی ذات کی الجھنوں میں گرفتار ۔ اپنی ذات میں تنہا ۔ یہاں پر دیس میں ہمنوا ملنا آ سان نہیں ۔ دل کا حال سنائیں تو کس کو ۔ جو ہیں بھی تو نہ ان کے پاس وقت ہے نہ برداشت ۔
اندر کا جوار بھاٹا باہر نکلے تو کیسے ۔ پردیس میں بستی بسائ تو بہت کچھ بدل گیا ۔ ہم بھی پہلے جیسے نہیں رہے ۔
ذہن کے ساتھ ساتھ مزاج بھی الجھ کر رہ گیا ہے ۔ برداشت کی عادت ہی نہیں رہی ۔ ذرا مرضی کے خلاف بات لگی اور ہم لگے ہتھے سے اکھڑ نے ۔
ہم مزاج لوگوں کا تو ویسے ہی کال ہے ۔ جو ہم صورت دو چار ملتے بھی ہیں تو ہمیں برداشت نہیں ۔
چلو چھٹی ہوئی ۔
تم روٹھے ہم چھوٹے
وہ اپنی راہ ۔ ہم اپنی راہ ۔
نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری ۔
سب اپنی اپنی کھال میں مست ۔
ہم پردیس کا رونا بیکار میں رو نے بیٹھ گئے ۔ اب تو سنا ہے کہ دیس میں بھی یہی رنگ ڈھنگ ہیں ۔
ا ب تو سچ میں جی کر تا ہے کہ
رہئے ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
ہم بھی کیا قنوطیوں کی سی باتیں لے کر بیٹھ گئے
کوئ اچھا سا گیت یو ٹیوب پر سنتے ہیں ۔
زندگی اک سفر ہے سہانا
باہر کا منظر تبدیل ہو تو اندر بھی بہت کچھ بدل جاتا ہے خوشیاں بھی پھول کی مانند ہوتی ہیں ۔ ذہن کو تازگی دیتی ہیں ۔ ذہن کے ساتھ ساتھ مزاج میں بھی تبدیلی آ جاتی ہے ۔ زندگی حسین لگنے لگتی ہے ۔
سنا ہے دیس میں یار دوستوں نے بسنت منائی
ہم یہ گیت سنتے ہیں
میں بن پتنگ اڑ جائوں گی
تو دھر تی پر مجھے بلائے
میں ہاتھ نہیں آ ئوں گی کہ
میں اڑتی پھروں ہوائوں میں
مزہ آ گیا ۔
ہم اس وقت سکینڈ کپ کے کافی ہاؤس میں بیٹھے ہیں ہم نے کافی کے ساتھ ایک کروساں بھی لے لیا بادام والا ہم نے کونے میں ایک صوفہ سنبھال لیا ۔ یہاں کافی چہل پہل ہے ۔ کچھ لوگ گروپ میں بیٹھے ہیں ۔ کچھ ہماری طرح اکیلے ہی چائے کافی کا لطف اٹھا رہے ہیں ۔ زندگی حسین لگنے لگی ۔ زندگی سے ہمارے سارے گلے شکوے دور ہو گئے ۔
زندگی میری نظر میں ایک خالی کوزے کی مانند ہے ۔ اس میں جو بھی رنگ بھر دیں ہمارے پر منحصر ہے ۔
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے ۔ ہم زندگی کو جدھر چاہیں لےکر جائیں ۔ جس رخ چاہے موڑ دیں ۔ اس میں زندگی کا کوئی دو ش نہیں ۔
زندگی چمن کی مانند ہے
ہم ہیں باغباں اس کے
کسی کو کیا د وش دینا
ہم ہیں پاسباں اس کے
Comments
Post a Comment