جا کر کہیں کھو جاؤں میں

May be an image of peony



جنوری کا مہینہ ختم ہو گیا ۔ ہر طرف برف ہی برف ہے ۔ برف کے طو فانوں نے تو جا نو راستہ ہی دیکھ لیا  ہمارے شہر ٹورنٹو کا ۔ تو چل میں آ یا۔ ابھی ایک برفباری کا طوفان سر سے گزر ا نہیں کہ دوسرا آ موجود ۔ کریں تو کیا کریں ۔ 

ٹورنٹو شہر میں برفباری سے نمٹنے کے لئے کافی کچھ سہولتیں موجود ہیں پھر بھی ایک روز  اسکول اور لائبریری وغیرہ بند کرنے پڑے ۔ 

  برف ٹیلوں کی شکل میں ہر طرف نظر آ رہی ہے ۔ ٹورنٹو شہر آ ٹوا کا منظر پیش کر رہا ہے ۔ جہاں مئ کے مہینہ میں بھی برف لیک کی سطح پر تیر تی نظر آ تی تھی جب ہم وہاں رہتے تھے یہی منظر دیکھنے کو ملتا تھا ۔ 

فروری کا مہینہ شروع ہو چکا ہے ۔ برفباری کے سلسلے تو سکون ہے ۔ سڑک کے کنارے برف فصیل کی صورت میں موجود ہے ۔ درجہ حرارت نقطئہ انجماد سے پچیس ڈگری نیچے جا چکا ہے ۔ شہر  پھر بھی رواں دواں ہے ۔ ہم شہری بھی عادی ہو چکے ہیں ۔ یہاں کی سردی سے نمٹنا سیکھ چکے ہیں ۔ 

میں اس وقت کافی ہاؤس میں ہوں ۔ کافی کا کپ سامنے رکھا ہوا ہے ۔ سردی جتنی بھی ہو اندر سکون ہی سکون ہوتا ہے ۔ بس راستے کے لئے پہن اوڑھ کر نکلنا پڑتا ہے ۔ تو کچھ تو جتن کر نا ہی پڑتا ہے ۔ یا تو سا را دن ٹی وی ۔ کمپیوٹر کے آ گے بیٹھے رہیں یا پھر فون پر لگے رہیں ۔ 

ہمت کر کے باہر نکلیں جگہ بدلنے سے طبیعت میں بڑی تبدیلی آ جاتی ہے ۔ سوچ میں ۔ ذہن میں بہت کچھ بدل جاتا ہے ۔ ادھر ادھر کی بیکار باتوں سے نکل کر اپنے لئے سوچنے کا وقت مل جاتا ہے ۔ وقت ا چھا گزر ے یہ بڑی نعمت ہے ۔ زندگی ہلکی پھلکی حسین لگنے لگتی ہے بوجھ نہیں لگتی ۔ 

باہر نکلنا بھی کوئی لازم نہیں ۔ چایے کا کپ لے کر اپنی پسند کی کسی مخصوص جگہ پر گھر میں ہی اچھا وقت گزارا جا سکتا ہے ۔ اپنے لئے وقت نکالیں ۔ اپنی پسند کی کتاب ۔ رسالے کے ساتھ ۔  اپنی پسند کی ڈش بنا کر انجوئے کریں ۔ 

ہم لوگوں کے چکر میں اپنے آ پ کو نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ ہر وقت لوگوں کا ہوا سوار رہتا ہے ۔ لوگ کیا کہیں گے ۔ لوگ کیا سوچیں گے ۔ کبھی اپنے آپ کی بھی سن کر دیکھیں ۔ آ پ کو کیا پسند ہے ۔ آ پ کیا چاہتے ہیں ۔

لوگوں کا کیا ہے ۔ وہ تو کچھ نہ کچھ کہتے ہی رہتے ہیں ان کو تو بہانہ چاہیے لوگوں پر ہاتھ صاف کرنے کا ۔ دوسروں کو تختہ مشق بنا کر انجوئے کرنے کا ۔ 
لوگوں میں رہنا بھی ضروری ہے ۔ ہم معاشرے سے کٹ کر تو نہیں رہ سکتے پر کبھی کبھی اپنے ساتھ وقت گزارنا 
بھی ضروری ہے ۔

کچھ اپنی سنیں ۔ کچھ اپنی کہیں ۔ زندگی اچھی لگنے لگے گی ۔ اپنے آ پ کے لئے وقت نکالیں ۔ دوسروں کے لئے اپنے کو نظر انداز کر نا گھاٹے کا سودا ہے ۔

ہر لمحہ قیمتی ہے کبھی واپس نہ آ نے والا ۔  ہم یہ بھول ہی جاتے ہیں ۔ ہمیں اس کی قدر کر نی چاہیے ۔ آ ج کا دن اچھا گزار نے کی فکر کریں ۔ کل کی کل دیکھی جا ئے گی ۔ جس خدا نے آج تک ساتھ دیا وہی کل بھی گزار دے گا ہم خوامخواہ کی فکریں پال کر اپنے آ پ کو ہلکان کرتے رہتے ہیں ۔ 

زندگی خوبصورت ہے فضا حسین ۔ آ ج سردی بہت ہے پر دن روشن چمکدار ۔ سورج چمک رہا ہے ہر طرف روشنی بکھیر رہا ہے ۔

 میں نے کافی ہاؤس میں ایک چھوٹی سی میز سنبھالی ہو ئ ہے دو کرسیاں ہیں ۔ سامنے والی کرسی خالی ہے اس پر میں نے اپنا کوٹ ڈال دیا ہے  میں کافی سے لطف اندوز ہو رہی ہوں ۔ آ س پاس لوگ گروپ میں بیٹھے ہیں کچھ اکیلے کمپیوٹر لئے بیٹھے ہیں ۔

ہم کافی کا لطف لے رہے ہیں ۔ اپنے ساتھ وقت گزار رہے ہیں ۔ اس کا بھی اپنا ایک الگ ہی مزہ ہے ۔ لوگوں میں رہنا اچھا لگتا ہے پر کبھی کبھی جی کرتا ہے ۔

اے دل مجھے ایسی جگہ لے چل جہاں کوئی نہ ہو 
اپنا پرا یا مہر باں نا مہرباں کوئی نہ ہو 
جا کر کہیں کھو جاؤں میں 
دنیا مجھے ڈھونڈ ے مگر 
میرا پتہ کوئی نہ ہو 

خبر نہیں صحیح بھی یاد ہے یا کچھ الٹ پلٹ لکھ دیا۔ عمر کے اس حصے میں چیزیں دھند لا سی جاتی ہیں کافی کچھ گڈ مڈ ہو کر رہ جا تا ہے ۔ 

بس اچھی یادیں ساتھ رہ جائیں یہی بہت ہے ۔ خدا کا شکر ہے ۔ وقت اچھا گزر رہا ہے ۔ آ گے بھی انشاء اللہ شانتی ہی ہو گی ۔ ابھی تو ہم کافی انجوائے کرتے ہیں ۔ 

Comments

Popular posts from this blog

لیڈییز کمپارٹمنٹ

نیل گگن کے تلے

مکھڑے پہ سہرا ڈالے