رنگ ہی رنگ

May be an image of tree, nature and road

اکتوبر کا مہینہ تو جانو رنگوں کا مہینہ ہوتا ہے۔  بہار ہی بہار ۔ سرخ ۔ نارنجی اور دھانی رنگ ہر طرف بہسر دیتے  نظرا  تے ہیں۔  گا رڈن میں ذرد پتوں کا انبار ہے ۔
 
  یوں لگتا ہے سونا ہی سونا گھر میں اتر ا یا ۔  پت جھڑ کا موسم ہے درختوں کی جان پر بنی ہوئ ہے ۔ پھولوں کی مسکراہٹ بھی ماند سی ہو چلی ہے ۔ درختوں کی بھی پت جھڑ کی وجہ سے گوشت پوست کم اور ہڈیاں زیادہ نمایاں نظر ا نا شروع ہو گئی ہیں ۔ کچھ ہی دنوں میں ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کر رہ جائیں گے ۔ 

کینیڈا کی سردیاں ہوتی بھی تو غضب کی ہیں ۔ سب کی ہی جان پر بنی ہوتی ہے پر قدرت ہے بڑی شے ۔ ادھر سردیاں ختم ہوئیں ۔ برف پگھلی ۔ موسم گرم ہونا  شروع ہوا ۔ سب پہلے جیسا ہو جا تا ہے ۔ جانو کچھ ہوا ہی نہیں ۔ پتے درختوں پر پھر سے بہار دکھا نا شروع کر دیتے ہیں ۔ پھول کھلنا شروع ہو جاتے ہیں پوری اب و تاب کے ساتھ ۔ 

گھر کا باغیچہ بہار دینے لگتاہے ۔ سبزہ لہلہانا شروع کر دیتا ہے ۔ پھولوں کی مسکراہٹ۔ چڑیوں کی چہچہاہٹ۔ گلہریوں کی سبز جھاڑیوں میں انکھ مچولی ۔ یوں لگتا ہے کچھ ہوا ہی نہیں تھا ۔ نہ پت جھڑ ۔ نہ خزاں ۔ نہ برفباری کا موسم ایا ۔

 بس کچھ دنوں کے لئے قدرت نے بساط پلٹ دی تھی ۔ سینری تبدیل ہوگئ تھی ۔ لوگوں نے اپنی دن رات کی موصروفیات  تبدیل کر لیں تھیں اور بس ۔ پھر سے وہی معمول ۔ لوگ لیک کے کنارے چہل قدمی کر رہے پیں ۔ پکنک پارٹی ۔ باغیچے اباد ہونا شروع ۔ 

اکثوبر کا اخر ہے ابھی سردیا ں انے میں کچھ وقت رہتا ہے ۔ اج کل موسم خاصا خوسگوار ہے ۔ باہر نکلنے کے لئے اتنا زیادہ پہننا نہیں پڑ تا ۔ کوٹ کے نیچے ایک ہلکے سوئٹر سے کام چل جا تا ہے ۔ 

شازیہ لندن سے واپس ا چکی ہے ۔ اس کی بیٹی وہاں رہتی ہے اس کے پاس کچھ دنوں کے لئے گئ ہوئ تھی ۔ اتے ہی اس نےفون کھڑکا یا ۔ اس کو بھی محفل جمانے کا شوق ہے ۔ میں نے اپنا گھر پیش کر دیا ۔ 

 بیٹا بہو ایک ہفتہ کے لئے ہوسٹن گئے ہوئے ہیں ۔ رہے بچے تو ان کو  کمروں سے نکلنے کی فرصت نہیں ۔ وہ ہیں اور ان کا کمپیوٹر ۔ اب تو اس میں مزید کلی پھننے لگ چکے  ہیں ۔ ایک دو اسکرین کا بھی ساتھ میں اضافہ ہو چکا ہے کمپیوٹر کے ساتھ  ۔ بچے تو اج کل ا پنی د۔نیا میں مگن رہتے ہیں ۔ان کو کسی سے کیا لینا دینا ۔ 

ہاں تو ہم نے شازیہ سے کہ دیاتھا کہ اس ہفتہ کسی روز بھی ا جائو ۔ شازیہ تو شازیہ ہے جب تک چار لوگوں کو جمع نہ کر لے اس کی نفری پوری نہیں ہو تی ۔ اس ۔ نے فریدہ ۔ فرحانہ اور شہلا سے بدھ کے روز کا پروگرام طے کرلیا ۔ اچھا ہے ہماری بھی سب سے ملاقات ہو جائے گی 

 ہمیں کون سا افس جا نا ہے ۔  ہمارے لئے کوئ بھی دن ہو فرق نہیں پڑ تا۔ ہم نے کہا کہ پھر دوپہر کا کھانا ساتھ کھا ئیں گے ۔ کچھ بھی بنا لوں گی ۔ 

کھا نا بنانے کا کیا پریشر۔ دوستوں میں کیا تکلف ۔  پاکستان تو ہے نہیں کہ کوئ اتا تو بریانی۔ پلائو ۔ چکن بنا کر خاطر کرتے تھے ۔

 یہاں تو سب ہر روز ہی چکن کھارہے ہیں ۔ نہاری ۔ بریانی کی دکانیں قدم قدم پر موجود ہیں ۔ یہاں تو کچھ بھی بنا لو سب دال چاول ہی ہے ۔ بلکہ سچ پوچھو تو سب کو دال چاول بریانی کا مزہ دیتے ہیں ۔ 

بدھ تو پرسوں ہے۔ پرسوں کی پرسوں دیکھی جائے گی اج تو پیر ہے ۔ ابھی تو کئ روز ہیں کچھ بھی سوچ لیں گے کہ کیا بنایا جائے ۔  

موسم زبردست ہے ۔ اس وقت دن کے گیارہ بج رہے ہیں ۔ بارہ ڈگری ٹمپریچر ہے ۔ ہلکا کوٹ پہن کر باہر ۔کلتے ہیں ۔ باہر کانظارہ کرتے پیں ۔ رنگوں کی بہار کا لطف اٹھاتے ہیں ۔ کافی ہائوس جا کر چائے پیتے ہیں 

 ہم نے تو یہی اصول اپنا یا ہواہے 
زندگی زندہ دلی کا ۔نام ہے
مردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں

جتنے دن رہںں زندگی میں رنگ بھرتے رہیں ورنہ تو زندگی بے ر۔گ ہو کر رہ جائے گی۔ خوش رہیں ۔ مسکراہٹیں بکھیرنے کی لگن میں لگے رہیں ۔ زندگی حسین لگنے لگے گی ۔

سہانا سفر اور یہ موسم حسیں
ہمیں ڈر ہے ہم کھو نہ جائئں کہی

یہ شعر تو جیسے ہمارے ذہن کے کمپیوٹر میں کسی پروگرام کی طرح فٹ ہو کر رہ گیا ہے نکل کے ہی نہیں دیتا ۔ پر ہمیں پسند بھی تو ہے ۔ پھر کیا غم ۔ فٹ ہی رہنے دیتے ہیں ۔ 

Comments

Popular posts from this blog

جا کر کہیں کھو جاؤں میں

پگڈنڈیاں

بھیگی بھیگی سی فضا