بھیگی بھیگی سی فضا

دسمبر کا مہینہ ختم ہو نے کو ہے ۔ نئے سال کے شروع ہونے میں کچھ ہی دن باقی ہیں ۔ اس کے بعد یہ سال بھی اور سالوں کی طرح ایک قصئہ پارینہ بن کر گزرجائے گا ۔
ابھی تو لوگ نئے سال کے استقبال کے سلسلہ میں مصروف ہیں ۔ کچھ چھٹیاں منانے باہر جانے کا پروگرام بنا رہے ہیں ۔ کچھ لوگوں کا گھر میں رہ کر عزیز رشتے داروں کو بلا کر پارٹی کرنے کا ارادہ ہے ۔ اس سلسلے میں مصروف ہیں ۔ ایک گہما گہمی کا سا سماں ہے ہر طرف ۔ تحفہ تحائف خریدے جا رہے ہیں ۔
موسم بھی ٹہر سا گیا ہے ۔ برف باری تھم سی گئی ہے ۔ جو پچھلے دنوں پڑ چکی وہ اچھی خاصی تھی ۔ پھر بھی فٹ پاتھ اور سڑکیں صاف ہیں۔ یہ کیا کم ہے ۔ سڑک کے سائڈ میں اچھی خاصی برف موجود ہے وہ یقین دلا نے کے لئے کافی ہے کہ موسم سرما ابھی گیا نہیں ۔
کینیڈا میں سردیاں تو مارچ تک چلیں گی ۔ اس سے کیا گھبرا نا ۔ یہاں کون سے کام رکتے ہیں ۔ اب تو یہاں رہتے ہوئے ایک زمانہ گزر گیا ۔ یہاں کی سردی اور برف باری کے عادی سے ہو چلے ہیں ۔
اب تو پاکستان کی گرمی کا سن کر ہوش اڑ جاتے ہیں ۔
خیر ہم کون سا پاکستان جا رہے ہیں ۔ اماں کے بعد تو پاکستان بس ہمارے لئے ایک پردیس بن کر رہ گیا ہے ۔
کراچی سے ہماری خالہ زاد شائستہ کا فون آ یا تھا ہمیشہ کی طرح اسرار کر رہی تھی کہ بڑے دن ہو گئے پاکستان کا چکر کب لگائیں گی ۔ ہم نے ہمیشہ کی طرح اسے دلاسا دے دیا ۔ کہ دیکھو انشاء اللہ ۔
اب اسے کیا بتائیں کہ کنیڈا کون سا پاکستان کے پڑوس میں ہے ۔ جب دبئی میں تھے تو اور بات تھی جب منہ اٹھا یا پاکستان آ کئے ۔ اب تو ہم سات سمندر پار آ کے بس گئے ہیں ۔ پھر اب ہمت بھی نہیں رہی ۔ سب وقت وقت کی بات ہے ۔
اب تو پردیس میں ہی دل لگا لیا ہے ۔ اس کو ہی دیس سمجھ کر دل کو تسلی دے لیتے ہیں ۔ دل کو سمجھانے سے کافی مسئلے حل ہو جاتے ہیں ۔ بلکہ سچ پوچھو تو مسئلہ لگتے ہی نہیں ۔
ہر جگہ کی اپنی شناخت اپنی خوبیاں خامیاں ہوتی ہیں دور کے ڈھول ہمیشہ سہانے لگتے ہیں ۔ ہم نے مانا کہ یہاں لوگ نہیں ہیں ۔ ہیں بھی تو مصروف ہیں ۔ ایک دوسرے کے لئے وقت نکالنا مشکل ہی ہوتا ہے ۔ یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ۔
اپنے آ پ سے دل لگانا شروع کردیں ۔ اپنے لئے مصروفیات ڈھونڈ لیں زندگی بڑی آ سان ہو جائے گا۔ ساری شکایتیں دور ہو جائیں گی نہ زندگی سے کوئی شکایت ہو گی نہ ہی ملک سے ۔ آ زمودہ نسخہ ہے ۔ ہم تو اسی ڈگر پر چل پڑے ہیں ۔ بڑی مزے کی گزر رہی ہے ۔ سارے شکوے شکایت بھول چکے ہیں ۔
ویسے بھی شکوہ شکایت سننے کا وقت کس کے پاس ہے سب ہی دور بھاگتے ہیں ۔ ایسوں سے نظریں چرا تے ہیں۔ رونے والے کا ساتھ کون دیتا ہے بھلا ۔ بہتر ہے کہ دل کی دل میں رکھ کر زندگی ہنس کھیل کر گزار یں ۔ خدا کی دی ہوئی نعمتوں کی گنتی کریں ۔ زندگی بڑی خوبصورت لگے گی ۔
زندگی اک سفر ہے سہانا
کل کیا ہو کس نے جانا
ہم تو یہی راگ الاپتے ہیں اور بڑے آ رام سے گزار رہے ہیں
Comments
Post a Comment