لمحہ لمحہ زندگی

دسمبر کا آ خری ہفتہ گزر رہا ہے بلکہ یوں کہیں کہ بس آ خری چند روز باقی رہ گئے ہیں ۔ کرسمس آ ئ اور آ کر گزر بھی گئی ۔ یہاں کرسمس کا بڑا شور ہوتا ہے ۔ بڑی گہما گہمی رہتی ہے ۔
کارڈ اور تحفے خریدے جا رہے ہوتے ہیں شاپنگ مال بھرے ہوتے ہیں ۔ پھر کرسمس کے اگلے روز باکسنگ ڈے کا شور ہوتا ہے ۔ وہ سب ختم ہو جائے تو نئے سال کے استقبال کے لئے لوگ تیاریاں شروع کر دیتے ہیں ۔
یہاں کے لوگ ہوتے زندہ دل ہیں ۔ یہ تو ماننا پڑے گا ۔ ہماری طرح خوامخواہ کے روگ نہیں پالتے ۔ پر دکھ درد تو زندگی کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں ۔ خدا جانے کیا کچھ اپنے دلوں میں چھپا رکھے ہو تے ہوں ۔ خیر جو بھی ہے ۔ یہ بھی بڑی بات ہے کہ خوش باش رہتے ہیں ۔
ہم تو کچھ نہ بھی ہو تو ڈھونڈ ڈھانڈ کے خوشی میں دکھوں کی ملاوٹ کئے بغیر نہیں رہتے ۔
ہم بھی کہاں کے کہانی قصے لے کر بیٹھ گئے ۔ آ ج شازیہ نے اپنے گھر بلایا ہے ۔ نوشین اور فرزانہ نے بھی آ نے کو کہا ہے ۔ پھر ریحانہ تو اس کے گھر سے دو قدم کے فاصلے پر ہے ۔ وہ تو ضرور پہنچے گی ۔
ہم لوگوں کا مسئلہ ہے ۔ کون پہنچ پاتا کون نہیں ۔ بچے مصروف ہو تے ہیں ۔ یہاں بسیں تو ہیں پر ہر جگہ جانے کے لئے کئ بسیں بدلنی پڑتی ہیں ۔ اسی میں شام ہو جائے گی ۔
اس کو کہا بھی تھا کہ میرے گھر آ جاؤ ۔ یا پھر رخسانہ کے گھر جمع ہو جاتے ہیں ۔ پر شازیہ تو اپنے نام کی ایک ہے جوسوچ لیا بس سمجھو پتھر کی لکیر بن جا تی ہے ۔
میرے گھر بھی سیدھی بس آ تی ہے اور رخسانہ کے گھر کا بھی سیدھا راستہ ہے ۔ پر اس کو شوق چڑھا تھا اپنے گھر رکھنے کا ۔ پھر شاید اس کو فرزانہ کی بات بری لگ گئی ۔
فرزانہ کو کیا ضرورت تھی کہنے کی کہ شازیہ کبھی اپنے گھر بھی بلا لیا کرو ۔ بڑے دن ہو گئے ہم تو تمہارے گھر کا راستہ ہی بھول گئے ۔
مانا کہ ہماری پرانی دوستیاں ہیں ۔ پھر بھی بندے کو سوچ سمجھ کر بولنا چاہئے ۔ اب انسان ہر وقت تو مزاق کے موڈ میں نہیں ہوتا ۔ شازیہ کا بھی بھرا پرا گھر ہے ۔ بیٹا بہو ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی پوری فیملی کا ساتھ ہے۔
اب وہ زمانہ نہیں رہا ۔ بچوں سے بھی سوچ کر بولنا ہو تا ہے ۔ افرا تفری کا زمانہ ہے ۔ اسکول کالج یونیورسٹی ۔ آ فس سب جگہ اپنی جگہ بنانے کے لئے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ۔
یونیورسٹی میں داخلوں کا بھی اپنا ایک مسئلہ ہوتا ہے بچے بیچارے اپنے چکروں میں الجھے ہوئے ہیں ۔ ان کے ماں باپ بچوں کے مسئلوں سے پریشان ۔ ۔ ہم بھی شاید زمانے کے رنگ میں رنگ گئے ہیں ۔ ذہن کبھی کبھی الجھ سا جاتا ہے ۔
بہرحال شازیہ نے اسی ہفتے ہم سب کو بلا لیا ۔ کسی کو بھی جانے میں مزہ نہیں آ رہا چھٹی کا دن ہے ۔ سب لوگ گھر پر ہوں گے ۔ ہماری وجہ سے سب بے آ رام ہوں گے ۔ خیر اب جو ہے وہ ہے ۔
اس کی بہو تو بڑی اچھی طبیعت کی ہے ہم سے مل بھی چکی ہے ۔ پھر بھی چھٹی کے روز بلانے کی کیا ضرورت تھی ہم کسی اور دن چلے جاتے ۔ خیر جلدی اٹھ جائیں گے ۔
میں نے شلجم گوشت بنا لیا ہے لے جانے کے لئے ۔ زیادہ کر کے بنایا ہے ۔ اس کی بہو کو بھی شلجم گوشت پسند ہے شازیہ کہ رہی تھی ۔
لے جانے کا مسئلہ تھا ۔ ہمارا بیٹا اپنے دوست سے ملنے اسکاربورو جا رہا ہے اسی طرف شازیہ کا گھر ہے ۔آ سانی ہو جائے گی ۔ بچے بھی کتنا خیال کرتے ہیں ۔
ہماری پریشانی بھانپ لیتے ہیں ۔ اللّٰہ تعالٰی ان کو ہر پریشانی سے دور رکھے اور ان کے بچوں کو اسی طرح ان کے دکھ سکھ میں شریک رکھے آ مین ۔
Comments
Post a Comment