ہمیں ڈر ہے ہم کھو نہ جائیں کہیں

دسمبر کا مہینہ کب کا شروع ہو چکا ۔ سال ختم ہو نے کو ہے ۔ اکتدوبر میں درختوں میں ہریالی کی جگہ رنگوں کی بہار تھی ۔ سبز پتوں کے درمیان سرخ نارنجی اور ذرد رنگوں کی آ میزش نے فضا کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیا تھا ۔
ہر موسم جدا ہے ۔ نئے رنگ نئ بہار لے کر آ تا ہے ۔ پر ہمارے مزاج ہی نہیں ملتے ۔ کبھی جو خدا کا شکر ادا کریں ۔ شکوے شکایتوں کی ایک لمبی فہرست ہر وقت تیار ہو تی ہے ۔ جو ملتا ہے وہ تو کبھی نظروں میں جچتا ہی نہیں ۔ خوامخواہ کی خواہشات پال رکھثے ہیں ۔ ان کے پیچھے ہی بھاگتے رہتے ہیں ۔
دسمبر کا مہینہ ہے پر طرف برف ہی برف چاندی کی مانند جھلمل کر رہی ہے ۔ سورج کی کرنیں اس پر پڑتی ہیں تو اس کی چمک میں چار چاند لگا دیتی ہیں ۔ قدرت کے بھی کیا کارخانے ہیں ۔
نیا سال شروع ہو نے میں چند ہی ہفتے رہ گئے ہیں ۔ سال ابھی تو شروع ہو ا تھا اور اب کیلنڈر کا صفحہ پلٹنے کا بھی وقت آ گیا ۔ وقت کا تو پتہ ہی نہیں چلتا ۔ دسمبر جنوری میں تو ادھر صبح ہوتی ہے اور زرا کی زرا میں دن ڈھلنا شروع ہو جاتا ہے۔ ابھی ظہر عصر ختم نہیں ہوئی کہ مغرب کا وقت آ گیا ۔
باقی کام دھندہ آ دمی کرے تو کس وقت ۔ ابھی افشین سے فون پر بات ہو ئ ۔ کہ رہی تھی کہ ریحانہ کی بیٹی کی شادی ہے اگلے ہفتہ ۔ تمہارے پاس بھی کارڈ آ یا ہو گا ۔ میں نے کہا کہ ابھی تو نہیں آ یا ۔ وہ بو لی میرے پاس بھی نہیں آ یا ۔ شازیہ کے پاس آ یا ہے ۔ می نے کہا کیوں خوامخواہ کے وسوسے پال رہی ہو ۔
اور بھی غم ہیں زمانے میں شادیوں کے بلاوے کے سوا ۔
ایک تو یاد رکھو
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
پھر سب پوچھو تو اب تقریباًت میں جانے کا مزہ ہی نہیں رہا ۔ زندگی میں بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہے ۔ اب اس عمر میں سج دھج کہاں زیب دیتی ہے ۔ شکل دیکھیں تو یوں لگتا ہے جیسے یہ ہم نہیں کسی اور کا چہرہ دیکھ رہے ہیں ۔
نہ وہ زمانہ رہا نہ وہ امنگ ۔ پلوں کے نیچے سے کافی پانی گزر چکا ہے ۔ اچھا ہی ہے شادی کا کارڈ نہیں آ یا ۔ اب تو کارڈ ہاتھ میں آ تے ہیں سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ کیا پہنیں ۔ ہر عمر کے اپنے تقاضے ہو تے ہیں ۔
ہم بھی کیا باتیں لے کر بیٹھ گئے ۔ کہاں سے کہاں نکل جاتے ہیں ۔ یہ ہماری پرانی عادت ہے ۔ خیر اس عمر میں عادتیں کب بدلا کرتی ہیں ۔
ارے شام کے چار بج چکے ۔ کھڑکی سے باہر نظر ڈالی تو یوں لگ رہا ہے برف کچھ زیادہ ہی پڑ رہی ہے ۔ طوفان کی آ مد آ مد ہے ۔ محکمہ موسمیات نے پیشین گوئی کر رکھی تھی ۔ لگ رہا ہے کہ ٹھیک ہی تھی ۔
اچھا ہوا ہم صبح ہی ٹم ہارٹن چائے پینے چلے گئے تھے ۔ چائے پینے کا تو بس ایک بہانہ ہوتا ہے ۔ گھر سے کوٹ سوئٹر مفلر دستانے پہن پہنا کر ہوا خوری کے لئے نکل جاتے ہیں ۔ با ہر کی فضا سے لطف اندوز ہو لیتے ہیں ۔ اچھا وقت کزر جاتا ہے ۔ ہر وقت نماز روزہ بھی تو نہیں ہو سکتا ۔
وقت کو خانوں میں بانٹ لیتے ہیں ۔ تو زندگی بار نہیں لگتی ۔ ہلکی پھلکی خوبصورت لگتی ہے ۔ دن کے چوبیس گھنٹے ہمارے ہاتھ میں پوتے ہیں ۔ اب یہ ہمارے اوپر ہے ۔
ہنس کر گزاریں یا اسے رو کر گزاریں ۔ رونے والے سے سب ہی کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں ۔ اپنے بچے بھی دامن بچاتے نظر آ تے ہیں ۔
دن اچھا گزار لیں تو خوش رہیں گے ۔ مسکراہٹ صدقہ جاریہ ہے ۔ روشنی کی مانند ساری فضا کو منور کر دیتی ہے ۔ خوش رہنے کی کوشش کریں ۔ اپنے آ پ کو خوش کرنے کے جتن کریں ۔ زندگی ایک نعمت لگے گی۔ اللّٰہ تعالیٰ کا بیش بہا عطیہ ۔
سہانا سفر اور یہ موسم حسین
ہمیں ڈر ہے ہم کھو نہ جائیں کہیں
زندگی ایک سفر ہی تو ہے ۔
Comments
Post a Comment