سفر ہے سہانا

 Discover 580 Coffee and Flowers and Coffee Photography Ideas ...

 

نومبر کا چل چلاؤ ہے ۔ دسمبر دروازے پہ کھڑا دستک دے رہا ہے ۔ موسم میں گرمی ختم اور خنکی اپنے عروج پر ہے ۔ یہ تو ہونا ہی تھا۔ آ خر کو یہ کینیڈا ہے پاکستان نہیں ۔ وہاں تو کل ہی بہن سے بات ہوئی کہ رہی تھی آ پا گرمی ختم ہو نے کا نام ہی نہیں لے رہی ۔ رات نسبتاَ بہتر ہو جاتی ہے پر دن گزار نا مشکل ہو تا ہے ۔ 


ہم انسان ہیں ہی سدا کے ناشکرے ۔ وہاں پاکستان میں گرمی سے نالاں تھے یہاں سردی کی ہائے ہائے کرتے دسمبر جنوری گزر تی ہے ویسے تو فروری بھی کچھ کم نہیں ۔ سرد ہوائیں تو مارچ کے شروع تک دم نہیں لینے دیتں 
 ہم جیسے لوگ جو وقت گزار ی کے لئے سڑکیں ناپنے نکل کھڑے ہوتے ہیں ۔ ہر روز جان ہتھیلی پر لے کر گھر سے نکلتے ہیں ۔ اس میں سے بھی بہت سے دنوں میں گھر بیٹھے کھڑکی سے ہی باہر کا نظارہ کر لیتے ہیں ۔

 ہر طرف رف ہی برف ۔ سرد برفانی ہوائیں دیکھ کر دل تھا م کر رہ جاتے ہیں ۔  ہم کونسا سڑکیں ناپنے کے شوقین تھے۔  یہ تو یہاں کینیڈا میں وقت گزاری کے لئے گھر سے نکل کھڑے ہوتے ہیں ۔ گھر میں کتنا دل لگائیں ۔ نہ کوئی آ نے والا نہ جانے والا ۔ پاکستان تو ہے نہیں کہ جتنی بھی صفائی کر لو گرد مٹی ختم ہو نے کا نام نہیں لیتی ۔ اب رہ گیا لے دے کے ایک چکن ۔ تو اس میں کتنا دل لگائیں اور کس کے لیے کتنا کھانا بنائیں۔ دن تو گزارنا ہے ۔ 

ہنس کر گزار یں یا رو کر۔ تو دل بہلانے کے لئے تیار ہو کر سوئٹر مفلر دستانے سب کچھ چڑھا کر لمبا والا گرم کوٹ پہن کر نکل کھڑے ہوتے ہیں ۔ باہر کا نظارہ کرتے ہیں ۔ اکیلے بیٹھ کر قریب کے کافی ہاؤس میں جا کر چائے کافی پی لیتے ہیں ۔ ورنہ ہم کونسا سڑکیں ناپنے کے شوقین تھے ۔

اماں کی نظریں اور اباجی کا پہرا ۔ اسکول کالج یونیورسٹی سے سیدھا گھر کا رخ کر تے تھے ۔ کنجی کبھار بھولے بھٹکے کسی دوست نے بلا لیا تو اجازت لینے کے لئے سو جتن کرنے پڑتے ۔ ا باجی کی عدالت میں پیشی ہوتی ۔ اماں بھی کچھ کم سیاست دان نہیں تھیں ۔ ویسے تو اماں ابا دونوں میں کوئی خاص بنتی نظر نہیں آتی تھی پر ایسے موقعوں پر اماں جھٹ اباجی کو صدارت کی کرسی پر بٹھا خود بریاذمان ہو جاتیں ۔ ہم بھی ماہر ہو چکے تھے۔ 

سیکھ چکے تھے کہ ابا میاں کو شیشے میں کیسے اتارنا ہے۔ پھر مغرب سے پہلے گھر پہنچنے کی شرط تو گویا لازمی قسمت میں لکھی تھی ۔ ہمارے زمانے میں رکشہ ٹیکسی تو شاذ و نادر ہی ہوتے تھے ۔

 پتھر کا زمانہ تو نہیں تھا ۔ پر بجلی گیس پانی جیسی چیزیں میسر نہیں تھیں ہمیں یاد ہے ہمارے گھر میں مٹی کے تیل کا ایک چھوٹا سا اسٹو تھا ہم چھ عدد بہن بھائی اور اماں ابا کل ملا کر آ ٹھ لوگوں کا کھانا اماں اسی پر پکاتی تھیں ۔

کچھ گھروں میں چولھے کے لئے لکڑیاں جلا ئ جاتی تھیں ۔ گھر میں روشنی کے لئے لالٹین ہوتی تھی ۔ اس میں روز مٹی کا تیل چیک ہوتا تھا شیشا چمکا یا جاتا تھا ۔ اس کی لو کاٹ کر برابر کی جاتی تھی ۔

 ہم نے پکرنگ مارکیٹ کی انٹیک شاپ میں لالٹین دیکھی تو سارا زمانہ نظر وں میں گھوم گیا ۔ ہم بھی بھٹک کر کہاں سے کہاں پہنچ جاتے ہیں ۔ بات کوئ کر رہے ہوتے ہیں اور ادھر ادھر کی کہانیاں سنانی شروع کر دیتے ہیں ۔ 

ہاں تو ہم کہ رہے تھے کہ ابا میاں کی عدالت سے نمٹ کر تیاری شروع کر تے ۔ تیاری بھی کیا لے دے کے چار جوڑوں میں کیا تیاری کیسی تیاری ۔ سفید شلوار پر کوئ سی قمیس پہنی سفید دوپٹہ سر پر جمایا اللّٰہ اللّٰہ خیر صلا ۔ ہو گئ تیاری ۔ 

اب بس لینے کی فکر ہو تی بس اسٹاپ خاصا دور تھا ۔ بس میں گھسنا بھی جان جوکھوں سے کم نہیں تھا ۔ بسوں میں لیڈیز کمپارٹمنٹ میں جگہ ملنی ایک معجزہ سے کم نہ ہوتا ۔ ہم بھی بسوں میں دھکے کھاتے کھاتے ماہر ہو چکے تھے کسی نہ کسی طرح بس کے پائدان پر قدم ٹکا ہی لیتے ۔

 دوست کے گھر پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ۔ اس کا گھر بھی کونسا اسٹاپ پر تھا ۔ بس سے اتر کر خاصا چلنا پڑتا ۔ پھر پہنچتے ہی واپسی کا دھڑکہ لگا ہوتا ۔ آ دھا دن تو پہنچنے میں ہی گزر جاتا مغرب سے پہلے گھر پہنچنا ہو تا ۔ وہ تو لازم تھا ۔ اس میں کوئی رعایت نہیں تھی پتہ تھا کہ آ ج اگر بھول چوک ہو گئ تو آ گے لئے دروازے ہمیشہ کے لئے بند ہو جائیں گے ۔ 

خیر جو بھی تھا بڑے مزے کی گزر رہی تھی۔ آ ج بھی جب جگجیت کی آ واز میں سنتے ہیں 

یہ دولت بھی لے لو یہ شہرت بھی لے لو 
بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی 
مگر مجھ کو لوٹا دو بچپن کا ساون 
وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی 

ذہن بھٹک کر برسوں پیچھے چلا جاتا ہے ۔ بچپن کے دن جگمگانے لگتے ہیں ۔ چھوٹی چھوٹی خوشیاں لے کر یوں لگتا کائنات مل گئی ۔ اب تو سب کچھ ملنے پر بھی دل شاد نہیں ہو تا ۔ خدا جانے کیا چاہئے ۔ چلیں جو بھی ہے اللّٰہ کا لاکھ شکر ہے ۔ ہم بھی قنوتیوں کی طرح کیا باتیں لے کر بیٹھ گئے ۔

 اب بچپن کو تو بیتنا ہی تھا ۔ وقت کے تو جانو پہیے لگے ہوئے ہیں ۔ ذرا نظر بچی اور دن ہؤا ہو گیا ۔ سردیوں میں تو یوں بھی شام چار بجے سے ہی اندھیرا ہو جاتا ہے ۔ زرا دیر میں مغرب ہونے والی ہے ۔ نماز کی تیاری کریں ۔ باتیں تو ہوتی رہیں گی ۔ 

Comments

Popular posts from this blog

لیڈییز کمپارٹمنٹ

نیل گگن کے تلے

مکھڑے پہ سہرا ڈالے