جلترنگ

ٹورنٹو بھی کیا عجب شہر ہے ۔ابھی دو روز پہلے اچھی خاصی برفباری ہوئ تھی اور اب برف کا نام و نشان بی نہیں ۔ سورج پوری آ ب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہے ۔ یہ اور بات ہے کہ درجہ حرارت صفر سے پانچ ڈگری نیچے ہے اور ہمیں باہر نکلنے کے لئے کوٹ سوئٹر مفلر گلوز ساری چیزوں سے مسلح ہو کر ہی نکلنا ہو گا ۔
یہاں موسم سرما کا سورج بس ایسے ہی ہو تا ہے ۔ دھیما دھیما ۔ دبے پاؤں آ تا ہے سہما سہما ۔ سورج کیا ہے بس چاند ہی سمجھ لیں۔ اس میں وہ گرم جوشی نہیں ہوتی جو اس کا مزاج ہے ۔ یہی کیا کم ہے کہ اپنا جلوہ دکھا کر ہمارے دنوں کو روشن کر دیتا ہے ۔ اب گرمی کی کمی زیادتی کی تو خیر ہے ۔
ہم کپڑوں کی تہیں چڑھا کر حساب برابر کر لیتے ہیں ۔ جتنا بھی مل رہا ہے رب کا شکر کرنا چاہیے ۔ اپنے سے کم پر نظر ڈالنے سے تسلی ہو جاتی ہے ۔ میں پچھلے نومبر دسمبر میں بچوں کے پاس انگلینڈ گئ ہوئ تھی ۔ وہاں سورج دیکھنے کو نظریں ترس جاتی تھیں ۔
آ ج موسم خوشگوار ہے۔ سردی تو ہے لیکن نہ تو بارش ہے اور نہ ہی برفباری کے آ ثار ۔ کینیڈا میں سردیوں کے دنوں میں اس موسم کو خوشگوار ہی کہتے ہیں ۔
تو آ ج ہم نے ریحانہ اور فرزانہ کو بلایا ہے وہ آ ئیں گی تو کھانا بھی ساتھ کھائیں گے ۔ ان سے کیا تکلف ۔ پھر ریحانہ اور فرزانہ کو بلائیں تو شازیہ تو لازمی آ ہے گی ۔ اس کو تو جیسے خوشبو آ جاتی ہے ۔ آ دم بو آ دم بو کر تی خود ہی پہنچ جائے گی ۔
سچ پوچھو تو اس کے آ نے سے محفل سج جاتی ہے اس کے لچھے دار کہا نی قصے رنگ جما دیتے ہیں ۔ فرزانہ کہ بھی رہی تھی کہ ہر بار تمہارے ہی یہاں کیوں سب جمع ہوں ۔ اب دوستی میں کیا حساب دوستاں رکھنا ۔ کچھ زیب نہیں دیتا ۔
اب ہم دوستوں میں رہ ہی کتنے گئے ہیں ۔ غنیمت ہے کہ ہم صورت یہاں دو چار بیٹھے ہیں ۔
یہاں پردیس میں تو جیسے لوگوں کا کال ہے ۔ گھر کے کام میں کہاں تک دل لگائیں ۔ پاکستان تو ہے نہیں کہ گرد و غبار صاف کرتے کرتے ہی دن گزر جاتا تھا پھر بھی گھر میں خاک ہی اڑتی نظر آ تی تھی ۔ ما سی بھی ہوتی تھی اور ہم بھی سارا دن لگے رہتے تھے ۔ گھر کا کام ہی ختم ہو نے میں نہیں آ تا تھا ۔
بڑے زمانہ کی بات ہے امی کے گھر میں ایک ملازم تھا نہ پڑھا نہ لکھا اس نے کیا پتہ کی بات کہی تھی کہ گھر کا کام تو سمندر موافق ہے کرتے جائو ختم ہی نہیں ہو تا ۔
پر یہاں تو گھر اور گھر کے کام کا سسٹم ہی الگ ہے نہ ہر وقت جھاڑو پوچا چاہیے ۔ نہ ہی کراچی کی طرح لوگ جب جی اٹھا آ دھمکتے ہیں ۔
یہاں تو لوگوں کا کال ہے ۔ سب اپنے اپنے میں الجھے ہوئے ہیں ۔ کسی کے پاس کسی کے لئے وقت نہیں ۔ گھر میں کتنا دل لگائیں ۔ سبزی ترکاری لینے جائو تو وہاں بھی مشینیں ہی ٹکرا تی ہیں ۔ اب ان سے کیا متھا ماریں ۔
تھک ہار کے گھر کا رخ کر لیتے ہیں ۔ ایسے میں چار لوگ آ جائیں اور پھر گئے دنوں کی باتیں بھی چھڑ جائیں تو جانو رونق ہی لگ جاتی ہے ۔ یوں لگتا ہے کچھ دیر کے لئے پردیس سے اٹھ کر دیس پہنچ گئے اور ہم اسے بھول بھال جاتے ہیں کہ
ہم تو ہیں پردیس میں
دیس میں نکلا ہو گا چاند
ایک عمر گزر گئی یہاں ۔ وطن چھوڑ ے ہوئے عرصہ گزر گیا ۔ اب تو پردیس ہی دیس ہے ۔
ہنس کر گزار یا اسے رو کر گزار دے ۔
رو کر کیوں گزار یں ۔ ہنس کر ہی گزر رہی ہے ۔
او ہو وقت کا اندازہ ہی نہیں ہو ا۔ ساڑھے گیارہ بج گئے شازیہ ۔ ریحانہ وغیرہ بس آ تے ہی ہوں گے ۔ دال چاول مٹر قیمہ تو بن گیا ہے ۔ پر میٹھے کے بغیر تو شازیہ کا گزارا نہیں۔
تھوڑی سی سویاں بھی بنا لیتے ہیں ۔ مل بیٹھیں گے تو یہ سادہ سا کھانا دعوت کا لطف دے گا ۔ جلدی سے سویاں بنا لیتے ہیں ۔ وہ لوگ بس آ تے ہی ہوں گے ۔
Comments
Post a Comment