موسم رنگیلے سہانے

اکتوبر گزر چکا نومبر بھی اب پرانا ہو چلا ہے۔ بس ایک مہینہ اور ۔ پھر یہ سال بھی اختتام پذیر ہو جائے گا ۔ وقت کو تو جانو پہیے لگے ہوئے ہیں ادھر سال شروع ہوا اور ادھر ختم ۔ پھر یہ سال بھی کہانی قصہ بن کر رہ جائے گا ۔ رات گئی بات گئی ۔
اکتوبر کا مہینہ بھی خوب تھا رنگوں سے بھرپور بہار دار ۔ درختوں سے رنگوں کی برسات کا موسم۔ زرد پتوں کی پت جھڑ سے تو یوں لگتا تھا گویا گھر کے باغیچے میں سونا برس رہا ہو ۔ پھر تو جیسے لائن لگ گئی ہو ۔ سرخ ۔ نارنجی ہر رنگ اپنی جوبن پر تھا قدرت کا کارخانہ ۔ سبحان اللہ ۔
پھر ادھر نومبر نے سر ابھارا اور لوگ سہم سے گئے لوگوں کا بھی کیا قصور ۔ کینیڈا کی سردیاں ہوتی ہی ایسی ہیں ۔ پندرہ بیس صفر درجہ حرارت سے نیچے تو یہاں روز کا معمول ہے ۔ خیر ہم بندے ہیں ہی سدا کے ناشکرے ۔ زرا سختی برداشت نہیں گرمیوں کے موسم میں کیا کچھ مزے نہیں کئے پکنک پارٹی ۔ سیر سپاٹے ۔ پر طبیعت میں سیر ہونا تو لکھا ہی نہیں ۔ چاہتے ہیں ہر روز عید اور ہر رات شب برات ہو ۔
اتار چڑھاؤ تو قدرت کا حسن ہے ۔ یکسانیت تو زندگی کا حسن ہی لے اڑے گی ۔ انتظار جان لیوا ہوتا ہے پر اس کا بھی اپنا ایک لطف ہوتا ہے ۔ ایک عجیب سی لذت ۔ آ نے والے دنوں کے خوابوں میں کھو جانے کا اپنا ایک الگ مزہ ۔
موسم سرما کا بھی اپنا الگ رنگ ہے ۔ ہر سمت برف ہی برف ۔ آ سمان سے روئ کے گالوں کی برسات ۔ سڑکیں برف سے سفید ۔ ڈرائیوے پر گاڑیاں برف پوش ۔ گاڑی پر سے برف ہٹا کر سڑک پر نکالنا بھی جان جوکھوں سے کم نہیں ۔
ویسے ہم انسان سخت جان ہو تے ہیں ۔ ہر موسم سہار لیتے ہیں اور اس میں سے بھی ہنسنے کھیلنے کے راستے ڈھونڈ نکال لیتے ہیں ۔
کینیڈا کی سخت سردیوں میں جب لیک کا پانی جم کر پکی سڑک بن چکا ہوتا ہے ۔ لوگ پانی کی سطح پر ہاکی کھیلتے ہیں ۔ آ ئس فنشنگ کر کے اپنے ارمان نکالتے ہیں ۔
آ ج نومبر کی دس تاریخ ہے برفباری کا پہلا روز ہے چار سو درخت عجب بہار دکھا رہے ہیں ۔ سفید پاؤڈر سے ڈھکے ہوئے ۔ سفید پوش ۔ روئ کے گالے درختوں سے لٹکے یوں لگ رہے ہیں گویا کپاس کے پھول بہار دکھا رہے ہوں ۔ قدرت کا ہر رنگ نرالا ہے شکر یا رب العالمین ۔ تیرا شکر ۔
اچھا ہوا ہم نے شازیہ کو پچھلے ہفتے بلا لیا ۔ آ ج کل سڑکوں کی حالت ایسی ہے کہ ذرا مشکل ہو تا ۔ ویسے تو ہر موسم میں زندگی رواں دواں رہتی ہے ۔ لوگوں کے کام کب رکتے ہیں پر مل بیٹھنے کے لئے موسم اچھا ہو تو مزہ دوبالا ہو جاتا ہے ۔ خیر یاد سلامت صحبت باقی ۔ زرا موسم دم لے لے تو پھر بیٹھک رکھیں گے انشاللہ ۔
ابھی تو گھر میں بیٹھ کر اپنے کمرے سے موسم کا نظارہ کرتے ہیں ۔ ہاتھ میں گرما گرم چائے کی پیالی سامنے کمپیوٹر کھلا ہوا یو ٹیوب پر وقار علی کی غزل ۔
نیند کے سرابوں میں
رات کے اندھیروں میں
جھانکتے ہیں جو دل میں
ایسے چور لمحوں میں
ایک تو ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ایک چیز اٹک کر رہ جاتی ہے ۔ اب یہ وقار علی کی غزل اٹک کر رہ گئ ہے ۔ یہی حال کپڑوں کا ہے چار جوڑوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں انہیں کو رگڑ تے رہتے ہیں ۔ چلیں خیر ابھی تو موسم کے مزے لے رہے ہیں چائے کی چسکیاں لے رہے ہیں اوپر سے یہ غزل لگتا ہے کوئی غم نہیں ۔ زندگی گلزار ہے ۔
Beautiful description well expressed
ReplyDelete