چکن بریانی

ہم سکون سے بیٹھے ہوئے ہیں ۔ کافی کام پڑا ہوا ہے پھر آ ج شازیہ نے بھی آ نے کو کہا ہے ۔ اس کے آ نے کا پتہ ہی نہیں ہو تا ۔ کبھی جو صحیح وقت پر آ ئے ۔ سارے دن کا حساب کتاب رکھنا ہو تا ہے ۔ بس انتظار کر تے رہو ۔ دن کے کسی بھی حصے میں ٹپک پڑے گی ۔ اب انسان کیا بنائے کیا پکائے ۔ کھانے کا انتظام کریں تو کیسے ۔
وہ تو شکل دکھا کر چل دے گی۔ اگر کھانا نہ کھایا تو ا س کھانے کا کیا ہوگا ۔ جو ہم نے اس کے لئے بنایا ہوا ہے۔ بچوں نے تو جانو قسم کھا رکھی ہے کہ سالن روٹی دال ترکاری کو ہاتھ نہیں لگائیں گے ۔ لے دے کے بس ایک چکن ہی رہ جاتی ہے۔ وہی اوڑھنا ہے وہی بچھونا ۔
پھر اس کے بعد چاول۔ پسٹا ۔ نوڈلس قسم کی چیزوں پر استخارہ آ تا ہے۔ روٹی تو جانو ممنوعہ ہے ۔ شاید حضرت آ دم یاد آ جاتے ہوں اسی لئے ہاتھ نہیں لگا تے ۔ ایک ہم ہیں کہ ہمارا روٹی کے بغیر گزارہ نہیں ۔
ہاں تو ہم کہ رہے تھے کہ آ ج شازیہ کے آ نے کا ہے ۔ اس کا کچھ پتہ نہیں کہ انیلہ کو بھی ساتھ لے آ ئے۔ وہ ایسی ہی ہے من موجی ۔ ہماری طرح نہیں کہ ہر چیز پر بڑی سوچ بچار کر یں پھر قدم اٹھائیں اس کے بعد بھی سوچتے رہ جائیں کہ صحیح ہے کہ نہیں ۔ وہ تو بس کر گزر تی ہے اور ہم ہیں کہ
آ گے پیچھے کا ہی سوچتے رہ جاتے ہیں ۔
پہلے آ نے والے کی خاطر مدارت کی فکر میں ہلکان ۔ کیا پکائیں کیا کھلائیں ۔ پھر آ نے والا تو نکل لیا اب ہم ہیں کہ چیزوں کو سوارت کرنے کی فکر میں ہلکان ۔ پتہ ہے کہ بچے ہاتھ نہیں لگائیں گے تو ایسی چیزیں کیوں بنائیں کہ بعد میں ٹھکانے لگا نا مشکل ہو جائے ۔
ہمارا یہ ایک دن کا رونا تھوڑا ہی ہے ۔ ہم ہیں ہی ایسے ۔ ہمیں زندگی گزارنے کا سلیقہ ہی نہیں آ یا ۔
ہزار بار دل کو سمجھایا کہ آ ج میں ژندہ رہنا سیکھ لے پر دل تو ہے ہی دیوانہ اس نے کب کسی کی سنی جو ہماری سنے گا ۔
دروازے پر بل بج رہی ہے دیکھیں تو کون ہے ۔ کیا پتہ شازیہ ہی ہو ۔ ہاں شازیہ ہی ہے انیلہ اور ساتھ میں شائستہ بھی ہے۔ شائستہ سے تو سالوں بعد ملاقات ہو رہی ہے ۔ اچھا ہوا ہم نے کھانا زیادہ بنایا ۔ شازیہ کا تو پتہ تھا کہ ایک دو کو اور ساتھ لے آ ئے گی ۔
وہ ایسی ہی ہے بڑے کھلے دل کی ہر کسی کو دوست بنانے والی ۔ اس کے گھر کبھی بھی چلے جاؤ ۔ کھانے کے بغیر نکلنے نہیں دیتی ۔ کچھہ نہیں تو دال روٹی ہی سامنے رکھ دیے گی ۔
سچ ہی تو ہے لوگ کھانے سے زیادہ کمپنی کی تلاش میں آ تے ہیں ۔ کھانا تو ہر گھر میں ایک سے ایک ڈش دسترخوان پر موجود ہے ۔
لوگوں کو کھانے کی کب پرواہ ہے ۔ سب ہی مرغ مسلم اپنے اپنے گھروں میں کھا رہے ہوتے ہیں ۔ لوگ تو کمپنی کی تلاش میں آ تے ہیں ۔ پرائے دیس میں ہمیں کھانے کی بھوک نہیں ۔ کمپنی کا فقدان ہے وہ ڈھونڈ ے سے ملتی ہے ۔ اس کو ڈھونڈ نےکے لئے لوگوں کا دروازہ کھٹکھٹا تے ہیں ۔ چکن بریانی کسے کھانی ہے ۔ ہم نے پھر بھی دسترخوان سجا دیا ۔
لوگوں کی قدر یہاں ہو تی ہے ۔ کبھی کبھی ہی کوئی بھولا بھٹکا آ نکلتا ہے ۔ پاکستان تو ہے نہیں کہ اوپن ہائوس کی طرح لوگوں کا تانتا بندھا رہتا تھا ۔ اس وقت لوگوں کی آ مد ورفت سے تنگ تھے ۔ سر اٹھانے کی فرصت نہیں ملتی تھی ۔
اب سکون ہی سکون ہے تو انتظار کی گھڑیاں گنتے ہیں ۔ کہ کوئی تو بھولا بھٹکا آ جائے ۔ سچ انسان ہے بڑا نا شکرا ۔ کسی حال میں بھی خوش نہیں ۔
Comments
Post a Comment