ہم نہ بھولیں گے کبھی

ستمبر کا مہینہ ختم ہو نے کو ہے ۔ اکتوبر کے مہینے میں کچھ ہی دن باقی رہتے ہیں ۔ موسم ابھی تک خوشگوار ہے۔ ہمیں وہ زمانہ اچھی طرح سے یاد ہے جب ستمبر میں سرد ہوائیں اپنے عروج پر ہوتی تھیں ۔ خدا بھلا کرے اس گلوبل وارمنگ کا اس نے تو سارے کا سارا نظام ہی الٹ پلٹ کر کے رکھ دیا ہے۔
آ ج صبح سے بلکہ رات گئے سےبارش ہو رہی ہے ۔ پر یہاں کی بارش نے کسی کا کیا بگاڑنا ہے ۔ سارے کام اسی طرح چلتے رہتے ہیں ۔ زندگی اسی طور پر رواں دواں رہتی ہے ۔ یہ اپنا کراچی تھوڑا ہی ہے کہ ادھر بارش کی بوند ٹپکی اور سڑک میں ایک اور گڑھے کا اِضافہ ہو گیا ۔
میرا تو خیر کب سے پاکستان جانے کا اتفاق نہیں ہو ا ۔ اماں نے دنیا سے منہ کیا موڑا ۔ کراچی ہمارے لئے علاقہ غیر ہو کر رہ گیا ۔
نئے کپڑے بدل کر جا ئوں کہاں
اور بال بنائوں کس کے لئے
وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا
اب کراچی جائوں تو کس کے لئے
اماں ہی نہیں رہیں کہ ان کی زیارت کے لئے وطن جانے کا رخت سفر باندھیں
پر ابھی پچھلے ہفتے شاہینہ سے ملاقات ہوئی تھی اس کے اماں باوا اللہ رکھے حیات ہیں ۔ اس کا کراچی کا ہر سال ہی چکر لگتا ہے ۔ کہ رہی تھی ۔ کراچی بلکل ویسے کا ویسا ہی ہے جیسا کہ آ پ بیس برس پہلے چھوڑ کر آ یں تھیں ۔ زرا بھی نہیں بدلا ۔ آ پ کچھ مس نہیں کر رہیں ۔ سب کچھ ویسے کا ویسا ہے۔
ہاں البتہ سڑکیں مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی ہیں ۔ کچرے کے ڈھیروں میں مزید اِضافہ ہو چکا ہے۔ مکھیاں مچھر مزید ابلے پڑ رہے ہیں ۔ یوں لگتا ہے ۔ کراچی کی آ بادی کے مقابلہ پر تلے ہوئے ہیں ۔ بارش کے بعد تو پوچھیں ہی مت ۔ گٹر الگ ابلے پڑتے ہیں ۔ سڑکیں جھل تھل کا سماں پیش کر تی ہیں ۔ ان سب چیزوں میں یقیناً اضافہ ہو چکا ہے ۔ ا ب آ پ اسے ترقی سمجھ لیں یا کچھ اور ۔
یہ سب تو ہمیں بھی پتہ ہے پر کیا کریں یہ کمبخت وطن ماں کی گود کی طرح ہوتا ہے۔ پیچھا ہی نہیں چھوڑتا ۔ اگر خدا نے چاہا تو انشاللہ جنت پہنچ کر بھی جی کر ے گا کہ ایک چکر کراچی کا لگا آ یں ۔
ہم اس دیس کے باسی ہیں جہاں گنگا تو نہیں بہتی ہاں البتہ بارش کے دنوں میں سڑکیں راوی اور چناب کا منظر پیش کرتی نظر آتی ہیں ۔
آ ے وطن پیارے وطن پاک وطن پاک وطن
اے میرے پیارے وطن
تجھ سے ہے میری تمناؤں کی دنیا پر نور
پاکستان ژندہ باد
شاد باد منزل مراد
اے وطن پیارے وطن پاک وطن
Comments
Post a Comment