کچھ ادھر ادھر کی

ہمیں تو پہلے ہی پتہ تھا کہ شاہینہ کے آ گے بھلا ہم کہاں کچھ بولنے والے ۔ ہمیں معلوم تھا کہ وہ بچ نکلے گی اور ہم پھنس جائیں گے یہی ہوا ۔ اس کو دیکھتے ہی ہمارا ماتھا کھٹک گیا تھا کہ یہ ا ب عنبر کا قصہ چھیڑ ے گی ۔ اسی وقت بات بدل دیتے ۔ کہ چلو کچھ اور بات کرتے ہیں ۔
پر ہم ہیں ہی سدا کے بیوقوف ہمیشہ لوگوں کی باتوں میں آ جاتے ہیں ۔ اور دوسروں کے سامنے تو ہماری بولتی ہی بند ہوجاتی ہے ۔ اماں سچ کہتی تھیں ۔ کبھی اپنی عقل بھی لڑا لیا کرو ۔
عنبر کی بات اس نے شروع کی ہم نے تو صرف گردن ہلا دی ۔ اب یہ نمک مرچ لگا کر اسے بتائے گی۔
عنبر نے گھر پر ون ڈش پارٹی رکھی تھی اس کو نہیں بلایا ۔ شاہینہ کو کہکشاں سے پتہ چلا ۔ اس کو یہ بات بہت بری لگی ۔اب وہ اس بات کو لے کر کافی ناراض ہو رہی تھی ۔ ہم بھی حیران تھے کہ اسے کیوں نہیں بلایا ۔ دونوں کی کافی دوستی تھی ۔
اماں کہا کر تی تھیں کہ دوسروں کی باتوں میں دخل مت دیا کرو۔ ۔سارے جہاں کا درد کیوں پال لیتی ہو اپنے کام سے کام رکھا کرو۔
خیر اماں تو بہت کچھ کہتی تھیں ۔ ہم نے کبھی کب ا ماں کی باتوں پر دھیان دیا ۔ ہم تو بقول ان کے ہر وقت ہوا کے گھوڑے پر سوار رہتے تھے ۔
اماں کو شاہینہ کبھی اچھی نہیں لگی ۔ کہتی تھیں ادھر ادھر کی باتیں لے کر بیٹھ جاتی ہے ۔ خود بھی گناہ بٹورتی ہے اور تم کو بھی شامل کر لیتی ہے ۔
خیر اماں کو ہماری کون سی دوست پسند تھی ۔ ریحانہ نزہت عنبر ۔ ہماری سب دوستوں میں انہیں کچھ نہ کچھ نظر آ جاتا ۔ اب ہمارے لئے کوئ آ سمان سے تو اترنے سے رہا۔
کلاس میں کچھ لڑکیوں کو ہم سمجھ میں نہ آ ئے کچھ ہماری سمجھ میں نہ آ یں ۔ لے دے کے یہ دو چار ہی بچی تھیں ۔ ان سے اچھی خاصی مزے کی گزر رہی تھی
ریحانہ کا گھر ہمارے گھر کے قریب تھا اس وجہ سے وہ اکثر ہمارے گھر آ جاتی ۔ اماں کو اس پر اعتراض تھا جب دیکھو منہ اٹھا کر آ جاتی ہے ۔ اپنا وقت بھی برباد کر تی ہے تمہارا بھی ۔ اب
اماں سے کوئی پوچھے کہ ہمارا وقت کون سا قیمتی تھا جو برباد ہو رہا تھا ۔
ہم تو سارے کام جو اماں نے ہمارے زمہ لگا رکھے تھے ان سے کب کا فارغ ہو چکے ہوتے ۔ آ ٹا گوندھنا سل بٹے پر مصالحہ پیسنا اور لالٹین صاف کر کے ان میں تیل ڈالنا ہماری زمہ داری تھی ۔ ہم کافی عرصہ سے یہ کام کرتےآ رہے تھے اس لیے ان تینوں کاموں میں ماہر ہو چکے تھے ۔ جھٹ پٹ کر لیتے ۔
چلیں ریحانہ بقول اماں ہر وقت گھر میں گھسی رہتی تھی ۔ نزہت باتیں بناتی تھی ۔ عنبر فیشن بہت کرتی تھی ۔
عنبر کے متعلق تو اماں ٹھیک ہی کہتی تھیں ۔ ایک تو اس کی رنگت اجلی تھی اوپر سے جو بھی پہنتی جچ جا تا ۔ سب لوگوں میں بالکل الگ نظر آ تی ۔ خیر ہمیں اس کے فیشن سے کیا لینا دینا ۔ اس کے ساتھ مزہ آتا تھا ۔
شاہینہ اماں کی نظر میں سب سے زیادہ کھٹکتی تھی ۔ کہتں یہ دنیا جہان کے قصے تم کو سنانے آ جاتی ہے ۔ اسے کوئی اور نہیں ملتا ۔ تم کو پکڑ لیتی ہے ۔
اماں تو کب کے چلی گئیں ۔ آ ج شا ہینہ آ ئ تو جانے کیوں اماں کی باتیں بھی یاد آ گئیں ۔
شاہینہ جب بھی آ تی فرصت سے آ تی ۔ دنیا جہان کے قصے سنا تی ۔ ہم کو بھی مزہ آ تا ۔ یہ تو بعد میں خیال آتا کہ سارا کام پڑا رہ گیا ۔
پر آ ج اس کے جانے کے بعد اماں کا خیال آ گیا ۔ ان کو شاہینہ کی یہ بات پسند نہیں تھی کہ یہ ساری دنیا کی باتیں تمہیں کیوں سناتی ہے ۔ تم کو بھی گناہ میں شامل کر تی ہے ۔ خود گناہ بٹور تی ہے وہ الگ ۔
اماں کی بات پر کبھی دھیان ہی نہیں گیا ۔ آ ج جانے کیوں شاہینہ کے آ نے کی بالکل خوشی نہیں ہو رہی دوسروں کی باتیں سن کر کتنی رکعت کا ثواب ملا ۔
ویسے ہی جانے انجانے میں دن رات خدا جانے کتنے گناہ سر زد ہو تے رہتے ہیں ۔ اوپر سے یہ اور ۔ غیبت نہیں کی پر اس میں شریک تو ہو گئے ۔
خدا وند ہ تو رحیم ہے ہمارے کردہ اور نا کردہ گناہوں کو معاف فرما ۔ اب سے شاہینہ ادھر ادھر کی شروع کرے گی تو ہم وہیں اس کو ٹوک دیں گے
Comments
Post a Comment