موسم ہے سہانا

 May be an image of campsite
 
موسم بڑا زبردست ہے۔ رم جھم پھوار پڑ رہی ہے۔ گرمیوں کے موسم میں پھوار اور اوپر سے ٹھنڈی ہوا مزہ ہی آ گیا ۔ ابھی ہم اپنے گھر کے بیک گارڈن میں ہی اس کا لطف اٹھا رہے تھے کہ بے اختیار دل میں خواہش جاگی کہ کیوں نہ باہر واک پر جایا جائے ۔ یہ دل بھی عجیب شے ہے ۔ اس کے ہاتھوں لوگوں کو اکثر رلتے دیکھا ہے ۔
 ہم تو خیر ایک طرح سے چار دیواری میں ہی مقید تھے۔ مقید ذرا سخت لفظ ہے ۔ امی سن رہی ہوں گی تو کیا سوچیں گی۔ سوری اماں۔ چلیں ایک سورہ فاتحہ پڑھ لیتے ہیں آ پ کے لئے ۔ ابا میاں بھی تو اس کار خیر میں شامل تھے ۔ دونوں کی ہی ملی بھگت ہو تی تھی ۔
 ویسے تو دونوں ہر معاملے میں بلکل جدا تھے یوں جانو ایک مشرق تو دوسرا مغرب ایک شمال تو دوسرا جنوب پر جب ہماری باری آ تی تو دونوں ایک ہو جاتے۔ ذرا کسی دوست کی سالگرہ کا بلاوا آ تا ۔ بھئی دوست سے ہمارا مطلب ہے سہیلی ہمارے زمانے میں دوستی صرف اور صرف لڑکیوں سے ہی ہوتی تھی ۔ خیر آ ج کل تو اس کے بھی ہزار معنے نکل آ تے ہیں اب ہم اس کی تشریح کر کے کسی خرافات میں نہیں پڑنا چاہتے۔ نا با با نہ ویسے ہی کچھ کم گناہ ہیں جو اب مزید اضافہ کریں ۔ بس اب تو یہی دعا ہے کہ اللہ عزت سے پار لگا دے ۔ آ مین 
اوہو ہم کہاں سے کہاں بھٹک جاتے ہیں ۔ بات کچھ کر رہے ہوتے ہیں اور کہیں اور جا نکلثے ہیں ہاں تو ہم کہ رہے تھے کہ جب بھی کسی دوست کی سالگرہ میں جانا ہوتا اور ہمارا ہوم ورک شروع ہو جاتا ۔ امی سچ جلدی آ جائیں گے ۔ پھر وہ بھی تو جا رہی ہے ۔ ایک دو سہیلیوں کے نام گناتے جو امی کی نظر میں بگڑی ہوئی نہیں تھیں۔ امی وہ بھی جا رہی ہیں ۔ 
جواب ملتا تمہارے ابا سے پوچھوں گی ۔ اب ابا ہاتھ لگیں تو اماں پوچھیں ۔ ہم بھی گھاگ تھے ہمیں پتہ ہوتا کہ یہ ایک دو روز کا نہیں ہفتوں کا پراجیکٹ ہے ۔ ہم بھی کافی پہلے سے اس پر کام شروع کر دیا کرتے اور اکثر کامیابی ہمارے قدم چومتی ۔ 
 چلو رات گئ بات گئ ۔ آ ب کیا گئ گزری باتیں لے کر بیٹھ گئے ۔ چلیں کچھ ا چھا آچھا سوچتے ہیں ۔ ہم کو کالج یونیورسٹی جانے کی تؤ کھلی اجازت تھی ۔ یہ کیا کم تھا ۔ سچ بندہ بڑا نا شکرا ہے۔ چلیں ابا میاں اور اماں دونوں کے لئے سودہ فاتحہ پڑھ لیتے ہیں ۔ سوری بھی بول دیتے ہیں ۔ 
یہ کیا کم ہے کہ روکھی سوکھی کھا کر بھی ہمیں پڑھایا لکھایا ۔ اس میں کوئی کمی نہیں آ نے دی ۔ خیر ہم نے بھی تو پوری طرح کواپریٹ کیا چار جوڑوں میں ہی یونیورسٹی کالج کا زمانہ گزار دیا پھر اپنی کہانی لے کر بیٹھ گئے ۔ 
جو گزر گیا اسے بھول جا تے ہیں ۔ سوری سوری اماں اور ابا میاں ۔ 
ہاں تو ہم موسم کی بات کر رہے تھے ۔ موسم سچ مچ بڑا سہانا ہو رہا ہے ۔چلیں باہر جانے کا سوچتے ہیں ۔ تیار ہو تے ہیں ۔ واک پر چلتے ہیں ۔ 
کیسا حسیں ہے موسم 
کیسا حسیں سفر ہے 
ساتھی ہے خوبصورت 
موسم کو بھی خبر ہے
اس میں ساتھی ہے خوبصورت تو خوامخواہ ہی لکھ مارا ۔ ساتھی تو اس وقت بھی ملنا مشکل تھا جب ملنے کے دن تھے ۔ پھر آ ب بھلا اس کی تمنا کیا کرنا ۔ اب تو اپنی کمپنی کی عادت سی ہو چلی ہے۔ ہم اپنی ذات میں خود کفیل ہو چکے ہیں کمپنی پر کب کے کراس مار چکے ہیں ۔ 
موسم بڑا سہانا ہے ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی ہے ۔ ہم نے ہڈ والی جیکٹ پہن لی اب بارش ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔ 
ہم کافی ہاؤس پہنچ چکے ہیں ۔ کافی کے مزے لے رہے ہیں ۔ یہاں بڑی چہل پہل ہے۔ لوگ گروپ میں بیٹھے گپیں مار رہے ہیں ۔ ہم اپنی ٹیبل پر بیٹھے کافی کا لطف اٹھا رہے ہیں ۔پھر سیل فون ژندہ باد کمپنی کا کوئی مسئلہ نہیں ۔ سیل فون کو سچ مچ ژندہ باد کہنے کا دل کرتا ہے ۔ اس پاس اچھا ہو تو زندگی تو حسین لگنے ہی لگتی ہے ۔ 
کتنا حسیں ہے موسم 
کتنا حسیں سفر ہے 
ہم زندگی کے سفر کی بات کر رہے ہیں ۔ زندگی کا سفر بھی ٹھیک ٹھاک ہی تھا اور اب بھی ٹھیک ہی ہے ۔ حسین کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ 

Comments

Popular posts from this blog

لیڈییز کمپارٹمنٹ

نیل گگن کے تلے

مکھڑے پہ سہرا ڈالے