ہائے ہمارا سیل فون

بقر عید آ ئ اور گزر بھی گئ۔ جیسے دبے پاؤں آ ئ ویسے ہی خاموشی سے گزر گئ ۔ نہ آ نے کا پتہ چلا نہ جانے کا ۔ یہ گوروں کا دیس ہے یہاں سڑکوں پر گائے بکرے ذبح کرنے کا بھول ہی جائیں ۔ سڑک پر ٹشو پیپر تک پھینکنے کی بھی خاصی بڑی سزا بھگتنی پڑتی ہے نہ کہ گائے بکری زبح کرنا اور پھر اس کے بعد ان کی باقیات جو ہم پاکستان میں بغیر کسی تردد کے سڑک پر چھوڑ گوشت اٹھا کر چلتے بنتے تھے ۔گوشت گھر لا کر تھوڑا بہت عزیز رشتے داروں اور پڑوسیوں کو دے کر فرج اور فریزر میں بھر لیتے تھے ۔ اللہ اللہ خیر صلا ۔ پاکستان زندھ باد ۔
کھال کوئ سی انجمن جس کا اس زمانے میں پڑلہ بھاری ہوتا وہ لے جاتی ۔گائے ۔ بکرے کے با قی لوازمات سڑک پر ہفتوں پڑے رہتے سٹی کونسل کے رحم و کرم پر ۔ جب چھٹیاں ختم ہوں گی اور ان کی نظر کرم ہوگی پھر دیکھا جائے گا ۔ اس وقت تک وہ مکھیوں کی افزائش نسل کا کام انجام دیتی رہتیں ۔ کراچی شہر میں ویسے تو عام دنوں میں بھی مکھیوں کی خاصی بہتات ہے خدا جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر کو سلامت رکھے ۔
ہمارا شہر اور کچھ نہیں تو کم از کم مکھیوں میں تو خود کفیل ہے ۔ لیکن بقر عید کا زمانہ آف میرے خدا ۔ گھر سے باہر نکلنا دوبھر ہو جاتا ۔ ابھی گھر سے قدم باہر نکلا نہیں کہ مکھیوں کا غول استقبال کے لئے دروازے پر موجود ۔
پر یہ دوسری دنیا ہے ۔ یہاں حالات بلکل مختلف ہیں یہ گوروں کا دیس ہے ۔ ہر چیز بند کمروں میں ہوتی ہے ۔ سڑک پر خوشیاں منانے کی اجازت نہیں جیسا دیس ویسا بھیس ۔ ہم بھی یہاں کی دنیا میں کسی حد تک رچ بس گئے ہیں ۔ گھر کے اندر ہی خاموشی سے ہر تہوار عید بقر عید منانا سیکھ گئے ہیں ۔
بقر عید تو آ کر گزر چکی پر ہم غلطی سے بھائ کے گھر اپنا سیل فون بھول آ ئے ۔ بقر عید تو گزر گئ ۔ لیکن ہم ابھی تک اپنے سیل فون سے محروم ہیں ۔ بھائ کا گھر ہمارے گھر سے صرف بیس منٹ کے فاصلے پر ہے اگر گاڑی سے جائیں ۔ پر گاڑی سے جائے تو کون جائے ۔ نہ بھائی ڈرائیو کرتے ہیں نہ ہم ۔
اور یہ انگلینڈ تو ہے نہیں جہاں بس پاس اؤر ٹرین ٹکٹ دیکھتے دیکھتے سونے کے بھاؤ تک پہنچ چکے ہیں پھر بھی کم از کم بندہ خود کفیل تو ہوتا ہے ۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ آ رام سے پہنچ سکتے ہیں ۔ یہاں کینیڈا میں تو ٹرین ۔ بس ساری سہولیات موجود ہیں پر ہم جیسوں کے لئے بیکار ہی لگتی ہیں ۔ اسٹیشن تک پہنچنے کے لیے بھی گاڑی درکار ہے ۔
ہر گھر کے دروازے پر ایک چھوڑ تین تین چار چار گاڑیاں کھڑی ہیں پر چلائے کون۔ سب کے بچے تو اس قدر مصروف نظر آتے ہیں کہ ان سے تو بات کرتے وقت بھی دس دفع سوچنا پڑتا ہے کہ کہیں ہم ان کا قیمتی وقت ضائع تو نہیں کر رہے ۔ سارے وقت تؤ وہ سڑکوں پر ہوتے ہیں جب دن ڈھلے خیر سے گھر میں داخل ہوتے ہیں تو کمپیوٹر پر یوں نظریں گاڑ کے بیٹھے ہوتے ہیں گویا ذرا نظر چوکی اور کوئ کمپیوٹر لے اڑے گا ۔ ان سے بات کریں تو کس وقت اور پھر وہ بھی اپنے سیل فون لانے کے لئے ۔ نا بھائ نا بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنا اپنے بس کی بات نہیں ۔
بھائ اپنی جگہ مجبور ہم ادھر لاچار ۔ اب اللّٰہ ہی کوئ سبب نکالے تو نکالے ۔ فی الحال تو ہم کوکوئ آ ثار نظر نہیں آتے ۔ اپنے سیل فون کے بنا ہمیں تو اپنی دنیا اندھیر نظر آ رہی ہے۔ جانو جیسے مچھلی کو پانی سے نکال دو ۔ ہم ذرا بھی مبالغہ سے کام نہیں لے رہے ۔ آ پ کا فون چند دنوں کے لئے لے لیا جائے تو آ پ کو ہماری حالت کا اندازہ ہو جائے گا ۔
ہمارے حق میں دعا کریں کہ خدا کوئ سبب نکال دے آور ہمارا فون ہمیں جلدی سے واپس مل جائے الاہی آ مین ۔ بچوں کو کیا کہیں جبکہ ہمارا اس عمر میں فون کے بغیر وقت کاٹنا مشکل ہو رہا ہے ۔ ان کی تو عمر ہے ۔ ان کا تو حق بنتا ہے ۔
Comments
Post a Comment