لیڈییز کمپارٹمنٹ

May be an image of coffee cup


مئی کا آ خر آ خر ہے اور سردی ابھی تک نہیں گئ ۔ کینیڈا کی سردیاں لمبی ہوتی ہیں پر اس سال تو کچھ زیادہ ہی لمبی ہو گئیں ۔ ختم ہو نے کا نام ہی نہیں لے رہیں ۔ صبح سے بارش ہو رہی ہے اس کی وجہ سے موسم مزید ٹھنڈا ہو گیا ہے۔ دو روز پہلے ہلکی سی جیکٹ پہن کر واک کے لئے نکلے تھے ۔ آ ج تو لمبا والا کوٹ لینا پڑا اس کے نیچے سوئٹر اوپر سے اونی مفلر گلویز ۔ باہر نکلنے کا ارادہ کرو تو سب کچھ پہننے میں دس پندرہ منٹ لگ جاتے ہیں۔ پھر چائے پینے کافی ہاؤس جائیں تو سویٹر کوٹ وغیرہ اتارنے میں پانچ دس منٹ رکھ لو پھر کہیں جا کر کہانی شروع ہو تی ہے ۔ 

یہاں ہر جگہ ہیٹنگ ہوتی ہے یہ بھی ایک بڑی نعمت ہے ۔ جا کر ہلکے پھلکے ہو جاتے ہیں چائے کافی پینے سے پہلے ۔ 
کافی ہاؤس تک کا سفر بھی بہت حسین بڑا خوبصورت ۔ جگہ جگہ رنگ برنگے خود رو پھول اپنی بہار دکھلا رہے ہیں ۔ درختوں نے ابھی پوری طرح جان نہیں پکڑی ۔ ٹھنڈ کی وجہ سے سبزہ پوری طرح نظر نہیں آ رہا ۔ پھر بھی گھروں کے باہر گرائونڈ میں گھاس سر سبز و شاداب نظر آ رہی ہے ۔ چڑیوں کی چہچہاہٹ سے یوں لگ رہا ہے جیسے کہ فضا میں جلترنگ بکھر گئ ہو ۔ قدرت بھی کیسے کیسے دلفریب مناظر پیش کر تی ہے ۔ ہر گھڑی سین تبدیل ہو جاتا ہے ۔ آ سمان پر نظر ڈالیں تو وہاں کچھ اور کہانی ۔ بارش ذرا کی ذرا رکی اور جانو سورج انتظار ہی میں تھا سرمئی بادلوں کے بیچ سنہرا روشن چہرہ نمودار ہو گیا ساتھ میں قوس قزح ۔ سات رنگوں والی ۔ کیا دلکش نظارہ ہے۔ 
دیکھا نہ جائے ۔ پر ذرا نظر چوکی اور منظر تبدیل۔ آ نکھیں کھلی رکھنی ہوتی ہیں ۔ ورنہ آ سمان کے کینوس پر کوئی نئ سینری پینٹ ہو نی شروع ہو جائے گی ۔ یوں لگتا ہے جیسے کہ پکچر ہاؤس میں پردہ پر سین چینج ہو رہا ہو ۔ 

کافی ہاؤس کے راستہ میں بچوں کا ہائ اسکول  بھی آ تا ہے ۔ راستہ ہی کتنا ہے ہم کو پندرہ بیس منٹ لگتے ہیں کافی ہاؤس تک پہنچنے میں ۔ اس میں بھی طرح طرح کے مناظر ہم کو لطف اندوز ہونے کو ملتے ہیں ۔ مزہ آ جا تا ہے ۔ بہت پہلے کہیں پڑھا تھا ۔ 
گھر سے نکلے بنا کچھ نہیں لبنا ۔ 
 بلکل سچ ۔ اگلے وقتوں کے لوگ بھی کیا خوب تھے ۔ یونیورسٹی کالج گئے بغیر اپنی ذات میں مکمل یونیورسٹی کا درجہ رکھتے تھے ۔ ہم اتنی جماعتیں پڑھ کر بھی نا مکمل ہی رہے ۔ ان کو تو گوگل کا سہارا بھی نہیں تھا ۔ یا شاید ان کو سہاروں اور بیساکھیوں کی ضرورت ہی نہ تھی ۔ وہ بڑے لوگ تھے اپنی ذات میں مکمل ۔ پر اعتماد 

می کجا تو کجا ۔
ہاں تو ہم کہ رہے تھے کہ راستے میں ایک سکینڈری اسکول آتا ہے ۔ بچے گاڑیوں سے اتر کر اسکول میں داخل ہو رہے ہیں ۔ ماں باپ کی کوشش ہے کہ گاڑی قریب سے قریب تر کھڑی کر یں تا کہ بچوں کو آ سانی ہو جائے ۔ بچوں کی تین ساڑھے تین بجے چھٹی ہوتی ہے اس وقت بھی اکثر ماں باپ گاڑی لے کر کھڑے ہوتے ہیں تا کہ بچوں کو پریشانی نہ ہو ۔ گھر میں مرغ مسلم تیار رات کو کھانے کے وقت ۔ آ ج کل لوگ ڈائٹ کو بڑی سختی سے فالو کرتے ہیں خاص طور پر بچے تو ترازو میں تول تول کر کھانا کھاتے ہیں ۔ اور صرف چکن پر ہی استخارہ آ تا ہے ۔ 

ہمیں اپنا زمانہ یاد آ گیا ۔ اس زمانے کو گزرے ہوئے بھی نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے پر دماغ میں تو گویا وڈیو کیمرہ نصب ہے۔ جب دیکھو کوئی بھی بات ہو کھٹاک سے کیمرہ چلا کے سین آ ن کر دیتا ہے ۔ 
ہم کو وہ منظر یاد آ گیا جب ہم گھر سے اسٹاپ تک سٹر سٹر کر تے جاتے اور سردی گرمی ہر موسم میں بس کا انتظار کر تے تھے ۔ بسوں میں لیڈییز کمپارٹمنٹ میں گاجر مولی کی طرح گھس کر سفر طے کر تے تھے ۔ اسکول کالج اور یونیورسٹی تک ہماری آ مد و رفت کا یہی ذریعہ تھا ۔ ہم اسی میں خوش اور مطمئن تھے ۔ کیونکہ ہماری اگلی نسلوں کی خواتین تو اس سے بھی محروم رہیں ۔ 
ہم کو نئ نئ آزادی ملی تھی ۔ اپنے کو بڑا خوش قسمت سمجھتے اور اپنی قسمت پر رشک کرتے ۔ ہماری ماؤں نے تو اسکول کی شکل تک نہ دیکھی
ہم اماں باوا کے احسان مند تھے کہ انہوں نے ہم کو پڑھنے گھر سے باہر بھیجا ۔ ابا کے ہی احسان مند تھے ۔ ان کا ہی حکم چلتا تھا ہمارے دور میں اماں کی بس واجبی سی چلتی تھی ۔ 

ہم بھی کیا کہانی لے کر بیٹھ گئے ۔ ہم کافی ہاؤس پہنچ چکے ہیں ۔ یہاں خاصی چہل پہل ہے ۔ ہماری عمر کے کچھ لوگ اپنے ساتھیوں کے ساتھ انجوائے کر رہے ہیں ۔ کچھ نئ نسل کے نوجوان اپنے کمپیوٹر پر مصروف ہیں ۔

 ہم نے ایک خالی میز سنبھال لی ۔ آ ج کافی کے بجائے چائے پیتے ہیں ۔ زندگی میں تبدیلی اچھی لگتی ہے ۔ موسم کی تبدیلی جگہ کی تبدیلی مینیو مختلف ہو جائے تو اچھا رہے گا ۔ 
یکسانیت جمود کی علامت ہے ۔ زندگی روانی کا نام ہے ۔ کچھ نیا کرنے لگن ہی زندگی ہے ۔
 چائے کا کپ لے کر بیٹھتے ہیں ۔ اپنا آ پ انجوائے کر تے ہیں ۔ اپنی خود کی کمپنی بھی کیا بری ہے۔ کبھی کبھی اپنے آ پ کو بھی وقتِ دینا چاہیے ۔ بڑے سکون کی گھڑیاں ہوتی ہیں ۔ کوئ ہلچل نہیں ۔ کبھی کبھی اپنے ساتھ وقت گزارنے کا اپنا ہی مزہ ہے ۔ 

Comments

Popular posts from this blog

نیل گگن کے تلے

مکھڑے پہ سہرا ڈالے