ہاشمی سرمہ تبت اسنو

یہ دل بھی عجب شے ہے جانے کیا کیا خیالات ذہن میں جگا تا رہتا ہے ۔ ہم بھی نرے ڈھیٹ اس کے چنگل میں کب آ نے والے ۔ اس وقت تو آ گے آ یا نہیں جب ا نے کے دن تھے ۔ اب کیا فایدہ جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ اب ہمارے دل لگانے کے دن گزر گئے ۔ ا ب اس کی یہ فرمائش کہ اگراب ہم کو دوبارہ زندگی گزارنے کا چانس ملے تو ہم کیا کریں گے۔ کیسے گزاریں گے ۔
ہم بھلا کیسے گزاریں گے ۔ ویسے ہی گزاریں گے جیسے کہ گزاری ہے۔ ہم میں اتنا دم خم ہے نہ اتنی صلاحیت کہ سپنے بننے بیٹھیں اور پھر ان کے پورا ہونے کے انتظار میں راتوں کی نیندیں حرام کرتے پھر یں۔ نہ با با نہ ۔ ہم نے سپنے دیکھنے والوں کا حشر دیکھا ہے ۔ ان لوگوں نے تو جب بھی
کلیاں مانگیں کانٹوں کا ہار ملا ۔
ہم ایسے ہی بھلے۔ اپنا ذہن ہٹانے کے لئے ہم نے سوچا کہ کمپیوٹر پر کوئی اچھی سی غزل سنتے ہیں ۔ پروین شاکر ہمیں پسند ہے۔ اسے لگاتے ہیں ۔ یہ کیا مہدی حسن غزل سنا رہے ہیں ۔ یہ تو صبح سے شام کر دیں گے ۔ پوری غزل سنانے میں ۔
چلیں پروین شاکر کی زبانی ہی ان کا کلام سنتے ہیں ۔ اشعار تو ہیں ہی خوبصورت پر خود بھی کم خوبصورت نہیں ۔ زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے ۔
کسی مشاعرے میں اپنا کلام سنا رہی ہیں ۔
اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی ۔
یو ٹیوب پر غزل چل رہی تھی ۔
پر ہم تو کہیں اور جا پہنچے تھے ۔ ذہن وہاں جا کر اٹک گیا کہ خدا جانے وہ کون لوگ ہوتے ہیں کیسے ہوتے ہیں جن کو خوشبو کی طرح پزیرائی ملتی ہے ۔ ہم کو تو حسرت ہی رہی ۔
خیر ہم نے ایسے فالتو کے چونچلے پالے ہی نہیں تھے ۔ ہم کو ا پنے حالات کا اندازہ تھا اس لیے اپنی لمٹ میں رہے ۔
ایک تو ہمارے زمانے میں یہ مال مسالے نہیں تھے کہ ہم اپنی ڈینٹنگ پینٹنگ کرتے۔ خوشبوئیں لگا تے پھرتے ۔ تو پھر گلہ کیسا ۔ بس ایک ہاشمی سرمہ اور اللہ بھلا کرے تبت اسنو کا سہارا تھا ۔ ہمارے بس یہی سولہ سنگھار تھے ۔ اسی کے سہارے زندگی گزر گئ ۔ کچھ ایسی بری بھی نہیں گزری ۔ کیوں نا شکرا پن کریں ۔ اور پھر وہ بھی اس عمر میں ۔
رات گئ بات گئ ۔
چلیں کچھ اور لگا تے ہیں۔
وقار علی بھی ہمیں پسند ہے ان کی غزلیں لگا تے ہیں ۔
کھوئ کھوئ سی بھینی بھینی سی
تھوڑی ان کہی تھوڑی سی مسکراتی
مرا نام ہے محبت ۔
اس میں بھی مزا نہیں آ رہا ۔ شاید یہ محبت وحبت کر نے کا زمانہ بیت چکا ۔ اب اس کے لئے دیر ہوگئی۔
کچھ اور سنتے ہیں ۔
سہانا سفر اور یہ موسم حسیں
ہمیں ڈر ہے ہم کھو نہ جائیں کہیں
بس یہ ٹھیک ہے ۔
اس وقت ویسے بھی ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی ہے ۔ موسم کے لحاظ سے بڑا مناسب گیت ہے۔ بس یہی سنتے ہیں۔ خوب سے خوب تر کی تلاش کرنے والوں کے ہاتھ کچھ نہیں آتا ۔ خسارے میں ہی رہتے ہیں۔
ہم اپنے روم سے موسم کے مزے لے رہے ہیں اور ساتھ میں یہ گانا ۔ سونے پر سہاگا ۔ کچھ نغمے سدا بہار ہو تے ہیں۔ زمانہ بیت جانے پر ان کی تازگی کم نہیں ہوتی ۔
ارے ہاں دل بھی تو کچھ کہ رہا تھا ۔ ہم تو بھول ہی گئے ۔ چھوڑ یں اس کی کون سنے ۔ یہ تو ہمیشہ کوئ نہ کوئ نئ کہانی لے کر آ جاتا ہے ۔ ہمارا ذہن الجھا کر رکھ دیتا ہے۔
موسم انجوائے کرتے ہیں نغمے سنتے ہیں ۔ خدا جانے کب اور کہاں پڑھا تھا ۔ پیچھے مڑ کر دیکھو گے تو پتھر کے بن جائو گے ۔ ماضی میں جھانکنا فضول لا حاصل ۔ آ ج کی فکر کریں ۔ ہنس کھیل کر گزر جانے۔ بس یہی بہت ہے ۔
Comments
Post a Comment