رم جھم رم جھم

صبح سے یہ وقت آ گیا کام ہے کہ سمٹنے میں ہی نہیں آ رہا ۔ ایک تو یہ شاہینہ وقت بے وقت ٹپک پڑتی ہے۔ بس پھر تو اللہ ہی حافظ ۔ اس کی باتیں ختم ہی ہونے میں نہیں آ تیں ۔ بس ریل گاڑی ہے جو چلے جا رہی ہے اپنی مرضی کے اسٹیشن پر ہی جا کے رکے گی۔ آ پ کے بس میں کچھ نہیں۔ اس کے ساتھ سفر کرتے رہیں اور راستہ سے لطف اندوز ہوتے رہیں ۔ اسی میں خیریت ہے۔
خیر شاہینہ کے وقت بے وقت آ نے سے تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ۔ شاہینہ اور ہمارا ساتھ بہت پرانا ہے۔ نصف صدی سے بھی زیادہ کا عرصہ ہم نے ساتھ گزارا ۔ زندگی کی نرم گرم اونچ نیچ سارے سفر میں ہم ساتھ ساتھ رہے۔
وہ میری کلاس میں تو نہیں تھی پر ہمارے گھر قریب قریب تھے ۔ گھر بھی کیا بس سر چھپانے کے لئے ابا میاں نے دو کمروں کا خستہ حال گھر خرید لیا تھا اپنی تھوڑی بہت پنشن سے ۔
ابا میاں مرحوم تھے بڑے دور اندیش۔ ہم چار بہن ۔ دو بھائی ۔ اماں اور ابا میاں ۔ ہم سب اس میں مزیے سے رہنے لگے ۔
شاہینہ کا گھر قریب تھا تو اسے کھلی چھٹی ملی ہوئی تھی ۔ جب جی کرتا آ دھمکتی۔ خیر اس کا گلہ کیا کریں ۔ ہمارا بھی یہی وطیرہ تھا ۔ ہماری بس یہی ایک آ وٹنگ تھی ۔ کہ ایک دوسرے کے گھر وں کا چکر لگا لیں ۔
پھر اللہ کا کرنا کیا ہوا کہ ہمارا ایک ہی کالج میں داخلہ ہو گیا ۔ اور جانو بلی کے بھاگوں چھیکا ٹوٹا
دو سال کالج کے بعد ہماری راہیں جدا ہو گئیں ۔
یونیورسٹی میں ہمارے الگ الگ ڈپارٹمنٹ تھے ۔ پھر میری شادی ہو گئی تو لائن ہی ڈراپ ہو گئ ۔
شادی کے بعد تو سین ہی یکساں تبدیل ہو جاتا ہے ۔ کافی سالوں کے بعد رابطہ بحال ہوا ۔ اس دوران بہت کچھ ہؤا بڑے مراحل آ ئے ۔ اور گزر گئے ۔ زندگی میں اتار چڑھاؤ تو آ تا ہی رہتا ہے ۔ پر شاید ہمیں گزار نا نہیں آ یا ۔ یا پھر ہمارے حصے میں کچھ زیادہ ہی اتار چڑھاؤ آ ئے ۔ بہرحال کچھ عرصہ بعد ہم بھی ابا میاں کی طرح ایک عدد دو کمروں کا اپارٹمنٹ لینے میں کامیاب ہو گئے ۔
دو کمروں میں پانچ عدد بچے اور ہم ملا کر چھ لوگ رہنے لگے ۔ میاں تو پہلے ہی اللہ میاں کو پیارے ہو چکے تھے ۔ انہوں نے سوچا ہوگا کہ حالات ایسے ہیں تو بہتری اسی میں ہے کہ اللہ میاں کو پیارے ہو جائو۔
حالات بچپن کے جیسے ہی تھے بس فرق صرف یہ تھا کہ اب ہم بچے نہیں تھے ۔ بچوں کی اماں بن چکےتھے ۔ ہماری بچپن کی دوستوں کی آ مد و رفت پھر سے شروع ہو گئی ۔ سلسلہ وہیں سے بحال ہو گیا جہاں سے منقطع ہؤا تھا ۔
نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ دنیا کے ساتھ ساتھ ہم نے بھی کافی ترقی کر لی ہے ۔ ہمارے گھر میں اب اللّٰہ کے فضل سے ڈرائنگ روم بھی ہے اور ڈائننگ روم بھی ۔ پر ہماری دوستوں اور ملنے جلنے والوں کو تو سیدھے آ کر کچن کے ساتھ والے فیملی روم میں ہی بیٹھنا ہو تا ہے ۔ سب ہمارے جیسے ہی ہیں ۔ جیسی روح ویسے فرشتے ۔
شاہینہ بھی کچن کے پاس والی ٹیبل کے ساتھ کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی ۔ اس کے بے وقت آ نے سے ہم سمجھ گئے کہ ہو نہ ہو اس کی ریحانہ سے مد بھیڑ ہو ئ ہے۔
اس کی اور ریحانہ کی کبھی نہیں بنی ۔ ہزار بار کہا جب طبیعت میل نہیں کھاتی تو کیوں ملتی ہو پر وہ شاہینہ ہی کیا جو سمجھ جائے ۔ اس کو تو اپنی من مانی ہی کرنی ہوتی ہے پھر میرا دماغ کھا تی ہے ۔ جب تک دل کا پورا غبار نہ نکال لے اسے چین نہیں پڑتا ۔
پر جو بھی ہے ۔ ہمیں شاہینہ کی یہ بات بہت پسند ہے ۔ ایک بار دل ہلکا کر لے ۔ تو پھر سب بھول بھال دل شفاف آ ئینہ کی مانند ۔ کوئی کینہ کھپٹ نہیں پالتی۔ ہماری طرح نہیں کہ دل میں گرہ لگا کر ہی بیٹھ جاتے ہیں ۔
دل کو لاکھ سمجھاتے ہیں کہ معاف کرنا درگزر کرنا اللہ تعالیٰ کو کس قدر پسند ہے۔ معاف تو کر دیتے ہیں بھول نہیں پاتے ۔ خدا ہمیں بھی شاہینہ کی طرح کی خصلت عطا فرمائے آمین ۔ اللہی آ مین ۔ ایسے لوگوں کی زندگی میں نرا سکون ہی سکون ہو تا ہے۔ سچ بڑے خوش قسمت ہو تے ہیں ۔
Golden Memories ko story bana Dia MashaAllah
ReplyDelete