چمکیلی صبح

چمکیلی صبح سورج پوری آ ب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہے ۔ رات کی بارش نے فضا کو نکھار کر رکھ دیا ہے ۔ درخت پودے نہا دھو کر نیا روپ لے کر جگمگا رہے ہیں ۔ رنگ برنگے خود رو پھول بھی اب نمودار ہوئے شروع ہو چکے ہیں ۔ یوں لگتا ہے کہ بہار کا موسم شروع ہو ہی چکا ہے ۔ انتظار کی گھڑیاں ختم ہو چکی ہیں ۔
ہم انسان بھی اللہ تعالیٰ کی عجیب مخلوقِ ہیں ۔ ہمارے ہزار روپ ہیں ۔ ہم بس ایسے ہی ہیں گھڑی میں تولہ گھڑی میں ماشہ ۔ ہر چیز ہر بات ہم پر اثر انداز ہو جاتی ہے ۔ سب سے بڑھ کر لوگوں کے رویے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ لوگوں میں رہنا بھی ہے اور ان کی باتوں پر غم بھی کھا نا ہے۔
اکیلے بیٹھا ہی نہیں جاتا ۔ لوگوں سے مل نہیں سکتے تو فون ہر وقت دستیاب ہے۔ خدا بھلا کرے سیل فون کا۔ ساری خلقت فون پر موجود ہے۔ جس کو چاہے بٹن دبا دو اور پھر گھنٹے بھر کی چھٹی ۔
گفتگو کے بعد ہماری قسمت کہ ہمارا موڈ کیسا رہے گا ۔ کبھی تو ہم فون شروع کر تے ہیں اچھے موڈ میں ۔ سوچتے ہیں کہ کچھ گھڑیاں ہنسی خوشی گزار لیں گے ۔ نتیجہ کچھ اور نکلتا ہے ۔ منہ کا مزہ خراب ہو جاتا ہے۔ کبھی تو پورے دن کا ہی بیڑا غرق ہو کر رہ جاتا ہے ۔ طبیعت اتنی بوجھل ہو جاتی ہے کہ کچھ کرنے کو جی ہی نہیں کرتا ۔
بہت پہلے ایک امریکن سائنسی جریدے میں پڑھا تھا کہ ہر انسان کے جسم سے خاص قسم کی شعاعیں نکلتی ہیں ۔ آ پ کسی انسان کو دیکھ کر بے اختیار اس کے قریب آ نا چاہتے ہیں ۔ اس لیے کہ اس کی شعاعیں آ پ کو اپنی طرف کھینچتی ہیں ۔ کچھ لوگوں سے آ پ کو بلا وجہ ہی فاصلہ رکھنے کا دل کرتا ہے ۔
میرے خیال میں یہ بات درست ہے ۔
پر یہ تو ملنے کے بعد ہی پتہ چلتا ہے کہ اس کے جسم سے نکلنے والی ریز ہم کو اپنی طرف کھینچ رہی ہیں یا دور لے جا رہی ہیں ۔ تب تک تو کافی دیر ہو چکی ہوتی ہے ۔
میرا خیال ہے کہ ہمارے جسم کی ریز کسی سے میل ہی نہیں کھاتیں ۔ اس میں لوگوں کا کیا دوش۔
ہم ہیں ہی کچھ سر پھرے ۔
جب پتہ ہے کہ شاہینہ کی طبیعت ہم سے میل نہیں کھاتی پھر بھی ہم ہر گھڑی اس کا ہی نمبر گھماتے رہتے ہیں ۔ اور سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں ۔
قسم کھا تے ہیں کہ بس یہ آ خر ی کال تھی ۔
پر سارا کچھ بھول بھال پھر اس کا نمبر ملانا شروع کر دیتے ہیں ۔ جب اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی ماریں تو دوسرے کو دوش دینا فضول ہے۔
خیر ہم بھی تھوڑی دیر غم کھانے کے بعد سب بھول بھال یوں ہو جاتے ہیں جانو کچھ ہوا ہی نہیں ۔
زندگی میں اتار چڑھاؤ تو آ تا ہی رہتا ہے ۔ دنیا میں رہتے ہیں تو لوگوں سے واسطہ پڑنا تو لازمی ہے ۔ ہر قماش کے لوگ آ پ سے ٹکرائیں گے ۔ کچھ ٹکر بھی ماریں گے ۔ دریا میں رہنا ہے تو مگر مچھ سے پچنا نا ممکن ہے ۔
سب سے آ سان ترکیب یہ ہے کہ اپنے آ پ سے دل لگا لیں ۔ اپنی ذات سے دوستی کر لیں ۔ لوگ تو پھر بھی چاہیے پوتے ہیں وقت گزاری کے لئے ۔
پر کچھ دیر اپنے آ پ کو بھی وقت دے کر دیکھیں ۔ بڑا سکون ملتا ہے ۔ یقین کریں سارے دکھ درد بھول جاتے ہیں ۔ زندگی حسین لگنے لگتی ہے ۔
دن کا کچھ حصہ ۔ چند لمحے گھر کے من پسند گوشہ میں چائے کی پیالی لے کر بیٹھ جائیں ۔ اپنی پسند کا گیت یا کوئی پروگرام لگا لیں
اپنی پسند کا کوئی کام کریں ۔ کچن میں اپنی پسند کی ڈش بنانے کا بھی اپنا مزہ ہے۔ گارڈن میں پودوں کو پانی ڈالنے سے تو دلی سکون ملتا ہے ۔
ہم تو چائے کی پیالی لے کر اپنی پسند کے پرانے گیت سنتے ہیں یا غزلیں ۔ سچ بڑا لطف آ تا ہے ۔
پھر کچن تو ہے ہی گھر کا سب سے حسین گوشہ ہے ۔ اپنی من پسند ڈشز بنانے میں کیا ہی لطف آ تا ہے ۔ ہر صبح چوبیس گھنٹے اللہ تعالیٰ ہمیں تحفے کے طور پر بخشتا ہے ۔
ہنس کر گزار یا اسے رو کر گزار دے
Comments
Post a Comment