نیا زمانہ

رمضان آ یا بھی اور گزر بھی جائے گا دبے پاؤں سحری میں گھڑی کے سہارے اُٹھتے اور چپ چاپ سحری کرکے سؤ جاتے ۔ اٹھو روزے دارو سحری کا وقت ہو گیا سننے کو کان ترس گئے ۔ اب عید بھی اسی طرح دبے پاؤں آ کے گزر جانے گی۔
نئے
کپڑے پہن کر جائیں کہاں
اور بال بنائیں کس کے لئے
پا س پڑوس میں تو گورے
رہ رہے ہیں ۔ ان سے بس واجبی سی ہلو ہائے ہو جاتی ہے ۔ آ نے جانے کا تو سوال ہی نہیں ۔ وہ لوگ یہ جھول جھال نہیں پالتے ۔
یہ تو ہم
ہیں کہ اسلام کے باقی ارکان پر عمل کریں یا نہ کریں پر آ نحضرت صلعم کے اس
فرمان کو پلے سے باندھ لیا ہے کہ پڑوسی کو گھر کا ہی فرد سمجھتے ہیں ۔
ہم
نے جب پاکستان چھوڑا تھا اس زمانے میں تو یہی طور طریقہ تھا اب کا پتہ نہیں
۔ سنا ہے کہ وہاں بہت کچھ بدل چکا ہے ۔ اب پاکستان کم انگلستان زیادہ لگتا
ہے ۔ بچے تو بچے بڑے بھی اردو بھول چکے ہیں ۔ بلکہ یوں کہیں کہ اردو بولنا
فیشن کے خلاف مانا جاتا ہے ۔
خدا کرے کہ یہ سب سنی
سنائی ہو۔ خیر ہم خوامخواہ ہی اردو کے وکیل بن بیٹھے ہیں ۔ ہم تو خود اردو
بھولتے جا رہے ہیں ۔ یہاں تو ہر جگہ انگریزی دانوں سے ہی واسطہ پڑتا ہے ۔
اور تو اور بچے بھی سارا دن اسکول کالج میں انگریزی بول بول کر اردو سے بے
بہرہ ہو چکے ہیں ۔ ان سے اردو میں بات کریں تو ہماری شکل دیکھنے لگتے ہیں ۔
اردو بولیں تو کس سے۔ بس فون اٹھا کر ذرا کی ذرا آپنا شوق پورا کر لیتے
ہیں اور تھوڑی بہت پریکٹس ہو جاتی ہے ۔ برائے نام ۔
تو ہم
عید کا ذکر کر رہے تھے اور اردو کی داستان سنانے بیٹھ گئے ۔ ہم ہیں ہی ایسے بات کہیں سے شروع کر تے ہیں اور بھٹک کر کہیں کے کہیں نکل جاتے ہیں ۔
پردیس کی عید
بھی بس ایسی سی ہوتی ہے ۔ پھیکی پھیکی سی ۔ اب تو نیا زمانہ ہے ۔ ہر جگہ
کارڈ سسٹم ہے ۔ پیسے کسی کی جیب میں نہیں ہوتے۔ عیدی لینے دینے کا رواج ہی
نہیں رہا۔ بچے بھی کمپیوٹر کی دنیا میں مگن ہیں۔ ان کو ہر گیم انٹرنیٹ پر
مہیا ہے۔ وہ خود کفیل ہیں ۔ عیدی دیں تو کیا دیں۔
باہر
ہر طرف ہر قسم کے کھانوں کی دکانیں موجود ہیں ۔ گھر کا کھانا بھی نظروں
میں نہیں سماتا ۔ ہم جان مار کر پکاتے ہیں تو یوں کھاتے ہیں گویا ہم پر
احسان ہو رہا ہو۔ عید کا مزہ ہی نہیں رہا۔ بس خانہ پوری ہے۔
ہم
کچھ زیادہ ہی جذباتی ہو رہے ہیں ۔ شاید عمر کا تقاضا ہے ۔ بچوں کے لئے تو
ہر روز عید اور ہر رات شب برات ہے۔ رات رات بھر جگائ رہتی ہے کمپیوٹر ژندہ
باد ۔ پھر اللہ رکھے دوست احباب کو۔ سارا دن بچوں کی شکل دیکھنے سے تقریباً محروم
ہی رہتے ہیں ۔
ہم عید کا تذکرہ کر رہے تھے ۔ اور خدا جانے کہاں کہاں کے کہانی قصے لے کر بیٹھ گئے ۔ سردیوں کا موسم ختم ہو چکا ہے ۔ برفباری کم کے ختم ہو چکی ۔ بہار کی آ مد آ مد ہے ۔ سورج پوری آ ب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہے ۔ فضا رنگین موسم حسین ۔ نیا دیس نیا زمانہ ۔
ہم نے بہت پہلے کہیں پڑھا تھا
پیچھے مڑ کر دیکھو گے تو پتھر کے بن جائو گے ۔
ہاں تو ہم پیچھے مڑ کر کب دیکھنا چاہتے ہیں ۔ یہ تو ہمارے دماغ میں خدا جانے کون سا ویڈیوز کیمرہ فٹ ہے جو خدا جانے ہمیں کہاں کہاں لئے پھر تا ہے ۔ اور پھر بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیتا ہے ۔
چلیں ویڈیو کیمرہ آ ف کرتے ہیں ۔
گرم گرم چائے کا کپ لے کر بیٹھتے ہیں ۔ کمپیوٹر
ژندہ باد ۔ یو ٹیوب کھول کر پرانے گانے سنتے ہیں
سہانا سفر اور یہ موسم حسیں
ہمیں ڈر ہے ہم کھو نہ جائیں کہیں
زندگی اک سفر ہے سہانا
کل کیا ہو کس نے جانا
لازم ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل
لیکن اسے کبھی تنہا بھی چھوڑ دیں
زندگی واقعی حسین ہے ۔ قدرت کا انمول تحفہ ۔ بس ذہن کو قابو کر یں بھٹکنے نہ دیں ۔ باقی سب خیر ہی خیر ہے ۔
Zabardast MashaAllah you remind me that golden time Allah Mola ap ko hamesha kush rahay Ameen
ReplyDelete