نیا زمانہ نئی کہانی

 May be an image of 1 person

 

 

رمضان کا مہینہ شروع ہو گیا کہیں پہلا روزہ ہے  کہیں دوسرا ۔ سال میں چند ہی مہینوں میں چاند دیکھنے کی اتنی گرما گرمی دکھائی دیتی ہے ۔ رمضان اور عید ان میں سر فہرست ہیں ۔ رمضان کا مہینہ تؤ پھر بھی گزر جاتا ہے ۔ جو روزہ رکھنے والے ہوتے ہیں ان کے لئے چاند دیکھنے کا اتنا مسئلہ نہیں ہوتا ۔ وہ روزے شروع کر دیتے ہیں کہ چاند کے چکر میں روزہ قضا نہ ہو جائے ۔ جو روزے نہیں رکھتے وہ تو بس شوقیہ ہی چاند دیکھ لیتے ہیں ۔ اصل مسئلہ تو عید کے چاند کا ہے اس میں سب ہی کو دلچسپی ہوتی ہے ۔ روزے نہ رکھنے والے بھی پیچھے نہیں رہتے بلکہ کچھ ا گے ہی ہوتے ہیں ۔

 پاکستان میں تو آفس سے چھٹی لینے کا کوئی مسئلہ نہیں ۔ وہاں تو عید کی کئی روز کی چھٹیاں پہلے سے ہی کر دی جاتی ہیں ۔ مسئلہ تو پاکستان سے باہر رہنے والوں کا ہوتا ہے ۔ کہ کیا ک کر چھٹی لی جائے ۔ اب تو انگریزوں کو بھی ہماری عادت ہو چلی ہے ۔ شروع شروع میں تو ان کے پلے ہی نہ پڑتا کہ عید ہو گی تو کل چھٹی کریں گے ورنہ پرسوں ۔ وہ حیران پریشان ہماری شکل دیکھتے جب پتہ چلتا کہ ہمیں خود ہی نہیں پتہ ۔ ہمیں تو خود آ دھی رات کے بعد ہی پتہ چلے گا ۔ ک عید کل ہوگی یا پرسوں ۔ 

ان کی شکل دیکھ کر اندازہ ہوتا ک ہماری عقل پر ماتم کر رہے ہوں گے دل ہی دل میں ۔  سوچتے ہوں گے کہ آخر پورے نظام شمسی میں چاند ہی کا ہماری زندگی میں اس قدر عمل دخل کیوں ہے ۔ ہم کیا بتاتے کہ اماں ہمیں پالنے میں ہی اس کے بارے میں کافی کچھ بتا چکی ہوتی ہیں ۔

چندا ماموں دور کے بڑے پکاویں پور کے
آپ کھائیں تھا لی میں ہم کو دیں پیالی میں 

ذرا بڑے ہو تے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ چاند نگری میں ایک بڑھیا رہتی ہے اور سوت کاٹتی رہتی ہے 

جیسے جیسے بڑے ہوتے چاند کے متعلق طرح طرح کے انکشافات ہوتے رہتے ۔
 بچپن بیتا تو پتہ چلا کہ شاعروں کی شاعری میں تو چاند کا بڑا عمل دخل ہے ۔

ہم کو بھی چاند چہرہ ستارہ آنکھیں پڑھ کر بڑا ہی لطف آ تا تھا ۔ 

تم چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو 
کو تو سن کر جھوم جھوم اُٹھتے 

پردیس سدھار ے تو 

ہم تو ہیں پردیس میں دیس میں نکلا ہوگا چاند سن کر کھو سے جاتے ۔ 
اب ہم ان کو کیا سمجھائیں کہ چاند ہماری زندگی کے سفر میں ساتھ رہا ہمیشہ ۔ہر قدم ۔ میرا خیال ہے کہ اماں کی لوریاں 
چندا ماموں دور کے 
کام کر گئں۔ چاند ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتا اور ہم خود کون سا اس کو چھوڑ نا چاہتے ہیں ۔ میرا خیال ہے کہ بچپن کی باتیں آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑتں ۔ پھر اماں کی کہی ہوئی باتیں تو زندگی بھر پیچھا کرتی ہیں ۔ 

Comments

Popular posts from this blog

لیڈییز کمپارٹمنٹ

نیل گگن کے تلے

مکھڑے پہ سہرا ڈالے