تاروں سے کریں باتیں
سردیوں کا زمانہ ہے راتیں لمبی دن چھوٹے۔ فروری کا مہینہ قریب قریب آدھا ہو چکا ہے۔ سردی اور برف دونوں اپنے عروج پر ہیں۔ یہ کینیڈا ہے یہاں سردی آتی ہے تو دیر تک رہتی ہے سکون سے جاتی ہے۔ مارچ میں اس کا زور کچھ کم ہو جاتا ہے۔ پر اس میں ابھی وقت ہے۔ سردیوں کی راتیں لمبی ہوتی ہیں یہ تو پتہ تھا ۔
پر کچھ زیادہ ہی لمبی لگ رہی ہیں ان دنوں۔ ہو سکتا ہے عمر کے اس حصہ میں ہمارے اعضاء تو جواب دینا شروع ہی ہو چکے ہیں ان کے ساتھ ساتھ ہماری قوت برداشت میں بھی کمی آ گئی ہے شاید ۔ چھوٹی چھوٹی باتیں بھی گراں گزر نے لگی ہیں۔
گاڑی میں بیٹھتے ہیں تو بچے گاڑی چلا تے وقت میوزک تیز کر لیتے ہیں ۔ جب ہاکی گیم آتا ہے تو فل آواز میں ٹی وی لاؤنج میں۔ کرکٹ سے تو بچے نا واقف ہیں۔ ہاکی اور باسکٹ بال ہی لگا ہوتا ہے۔
قصور سارا ہمارا ہے۔ کسی اور کا نہیں۔ اب تیز آوازیں کانوں کو گراں گزرنے لگی ہیں تو لوگوں کا اس میں کیا قصور ۔ خیر آوازوں کا تو کوئی مسئلہ نہیں۔ ہم کون سا سارا وقت ٹی وی روم میں بیٹھے ہوتے ہیں۔
گاڑی میں تیز میوزک کا بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ ہم کون سا گاڑی میں لمبے لمبے سفر کرتے ہیں۔ بس ملا کی دوڑ مسجد تک ۔ ڈاکٹر کے اپاوٹمنٹ۔ یا پھر منہ کا مزہ بدلنے کے لئے ڈالر اسٹور اور کبھی کبھی چھوٹی موٹی چیز لینے گروسری اسٹورکا چکر لگا لیتے ہیں۔ وہ بھی اگر موسم زیادہ خراب نہیں تو مولا کا کرم ہے ہم خود ہی نکل کھڑے ہوتے ہیں۔
جب تک ہاتھ پاؤں چل رہے ہیں انہیں استعمال کرتے رہنا چاہئے۔۔ ورنہ ابھی سے بستر پر پڑ جائیں گے۔ وہ تو پڑ نا ہی ہے ایک نہ ایک دن۔ جب تک ٹال سکیں اچھا ہے۔ ہاں تو ہم کہ رہے تھے کہ آوازوں کا کوئی مسئلہ نہیں۔ مسئلہ ہے تو لمبی لمبی راتوں کا۔ آتی ہیں تو جانے کا نام ہی نہیں لیتیں۔ یوں لگتا ہے کہ قسم کھا کر آتی ہیں کہ اب جانے کی نہیں۔
ہم بستر پر کروٹیں بدلتے بدلتے تھک جاتے ہیں تو کمپیوٹر اور فون کا سہارا لے لیتے ہیں ۔
چاندنی راتیں تاروں سے کریں باتیں
یہ بھی نہیں کر سکتے ۔ اس سردی کے موسم میں باہر یخ بستہ ہوائیں چل رہی ہوتی ہیں ۔ اپنا دیس تو ہے نہیں کہ دروازہ کھولا اور صحن میں ہوا کھانے چل دئیے ۔ پہن اوڑھ کر بیک یارڈ میں نکل بھی جائیں تو مطلع ابر آ لود ہر طرف دھند ہی دھند
یا پھر شاید ہماری آ نکھوں کا ہی قصور ہے دن کے وقت بھی چیز یں صاف نظر نہیں آ تیں ۔ بار بارعینک کا شیشہ صاف کرنا پڑتا ہے ۔ ابھی تو عینک کا نمبر بدلا گیا تھا ۔ ہماری آ نکھوں کا ہی قصور ہے ۔ دھندلا نظر آ نے لگا ہے۔ خیر اس وقت تؤ ہمارا قصور نہیں ۔ آ سمان سچ مچ ابر آ لو د ہے ۔ اب اس میں کہاں چاند کو ڈھونڈ یں اور کہاں تاروں کو ڈھونڈ کر ان سے باتیں کر نی شروع کر دیں۔
ویسے بھی اس عمر باتیں کرنے کی عادت ہی نہیں رہی ۔ باتیں تو بہت ہیں کرنے کے لئے پر سننے والے کہاں رہے۔ اب تو زمانہ ہی الگ ہے ۔ یوں لگتا ہے ایک افرا تفری ہے ۔ سب بھاگے چلے جا رہے ہیں ۔ کسی کے پاس کسی کے لئے وقت نہیں نہ سننے کا نہ سنانے کا۔ سب بھا گم دوڑ میں لگے ہوئے ہیں
ان کے پاس خود اپنے لئے وقت نہیں ۔ ہمیں کہاں سے دیں گے کہ ہم ان کو اپنی کچھ سنائں ۔ اب تو ہم نے چاند تارے ڈھونڈنے ہی چھوڑ دئیے ۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری ۔
یہاں تو مطلع ابر آ لود ہی رہتا ہے خاص کر سردیوں کے موسم میں ۔
ہماری یہ بڑی بری عادت ہے کہ بات کہیی سے شروع کر تے ہیں اور کہیں اور نکل جاتے ہیں ۔ پٹری بدل لیتے ہیں ۔ خیر پٹریاں بدلنے کی عادت تو ساری عمر کی ہے۔ بڑی پرانی ۔ بننا کچھ چاہتے تھے بن کچھ گئے ۔ ڈاکٹری کے خواب دیکھتے دیکھتے ماسٹرز کر لیا ۔ کراچی سے بڑا پیار تھا ۔ سارا بچپن ساری جوانی وہاں گزری۔ اب سب چھوڑ چھاڑ یہاں آ ن بسے ۔ اللہ میاں کے پچھواڑے ۔ سات سمندر پار ۔
ہم تو ہیں پر دیس میں
دیس میں نکلا ہوگا چاند
ہم بھی کن چکروں میں پڑ گئے ۔ کہاں کے قصے کہانیاں لے کر بیٹھ گئے ۔ یہاں کے اپنے مزے ہیں۔
سردیوں کے موسم میں گھر میں ہیٹنگ چوبیس گھنٹے موجود ۔ نہ بجلی جانے کا کھٹکا نہ گیس جانے کا۔ نہانے کے لئے گرم پانی ہر گھڑی دستیاب ۔ برفباری کا بھی اپنا الگ لطف ہے ۔ نرالا منظر ۔
درختوں میں روئ کے گالے کپاس کے پھولوں کی مانند اٹکے ہوئے بہار دکھا رہے ہیں۔ آ سمان سے برف اڑ اڑ کر گر رہی ہے ۔ زمین پر پاؤں رکھتے ہوئے سوچنا پڑ رہا ہے کہ جگمگ کرتی زمین ہمارے قدموں کے نشان سے میلی نہ ہو جائے ۔
چلیں باہر کون نکلے ۔ کمرے میں بیٹھتے ہیں گرم گرم چائے کی پیالی لے کر کھڑ کی سے باہر کا نظارہ کر تے ہیں ۔ کیا حسین منظر ہے۔ قدرت کا شاہکار ۔ بےاختیار شکر اللہ ۔ سبحان اللہ کہنے کو جی کرتا ہے ۔
ہم بندے ہیں ہی سدا کے ناشکرے۔ ہمیں اپنا گلاس ہمیشہ آ دھا خالی ہی لگتا ہے جبکہ آ دھا بھرا ہوا ہوتا ہے ۔ سارا قصور ہماری سوچ کا ہے۔ زندگی تو خدا کا عطیہ ہے ۔ خوش رہنا سیکھ لیں تو سب کچھ اچھا لگنے لگے گا ۔ زندگی حسین لگنے لگے گی ۔ انشاء اللہ ۔
Comments
Post a Comment