دنیا رنگ رنگیلی

 May be a doodle

 

کبھی کبھی اپنے آ پ کو خراج تحسین پیش کرنے کو جی کرتا ہے ۔ دنیا میں آ نے کے بعد سے اب تک ایک پوری صدی نہیں تؤ آ دھی سے کہیں زیادہ گزر چکی ہے ۔ کیا گیا نشیب و فراز دیکھے ۔ زندگی کی ہر اونچ نیچ سے گزرتے ہوئے اب تک کا سفر طے کرتے ہوئے یہاں تک پہنچ گئے ۔ خدا کا شکر تو لازمی بنتا ہے پر اپنے کو شاباش دینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ۔ 


اماں ابا نے ہجرت اختیار کی اور پاکستان میں قدم جمانے کی خاطر شہر شہر قریہ قریہ کی خاک چھانی تو ہم بھی ہر منزل پر ان کے ساتھ تھے ۔ ہم نے بھی ان کے ساتھ در در کی خاک چھانی ۔ ہجرت کے بعد پاکستان کو اپنا وطن بنانے میں ان کو بڑی مشکلات کا سامنا رہا ۔ زندگی تو گزر ہی جاتی ہے ۔ وقت کب رکا ہے ۔ یہ تو پانی کے دھارے کی طرح رواں دواں رہتا ہے ۔ جو کہ ایک طرح سے اچھا ہی ہے ۔ بس آ ج کا دن گزار لو پھر خیر ہی خیر ۔ یوں لگتا ہے جیسے رات گئ بات گئی ۔ انسان بھی عجب مخلوقِ ہے ۔ بڑا سخت جان ۔ نرم گرم گزار کر اگلے روز کے لئے پھر سے تازہ دم ۔ 

ہاں تو ہم کہ رہے تھے کہ ہم بھی اماں ابا کے ساتھ ساتھ تھے ۔ نہ صرف چشم دید گواہ بلکہ سب کچھ ہمارے اوپر بھی گزر رہا تھا ۔ آ ج کینیڈا میں بیٹھے ہوئے اپنے مکان کو دیکھ کر سوچ رہے ہیں کہ ماں باپ اور ہم پانچ عدد بچے دو کمروں کے مکان میں کیسے گزارا کرتے تھے ۔ ہم نے گذارا تو کیا ۔ پر ہمیں کبھی لگا ہی نہیں کہ ہم گزارا کر رہے ہیں ۔ ہم تو آ ج بھی اپنے بچپن کے دنوں کی یاد میں کھوئے رہتے ہیں ۔ پیسے پاس نہیں تھے ۔ اماں ابا کے پاس ہی نہیں تھے تو ہمیں کہاں سے ملتے۔ روکھی سوکھی کھا کر بھی یوں لگتا گویا جنت میں رہ رہے ہوں ۔ 

نہ پانی ۔ نہ کھائے کو مرغ مسلم ۔ پانی بھی قطرہ قطرہ راشن کی مانند استعمال کرنے کو ملتا ۔ واشروم جا رہے ہیں تو پیچھے لائن لگی ہوئ ہوتی

 ۔ یہاں تو بچوں کے الگ الگ کمرے اور تین چار واشروم پھر بھی پچوں کی شکلوں پر بارہ بج رہے ہوتے ہیں ۔ یوں لگتا ہے گویا ان کو عمر قید کی سزا ملی ہوئی ہے جیسے ہی پوری ہو جائے گی رسے تڑا کر آزادی کا سانس لیں گے ۔ اور ہم ان کے سامنے یوں دم سادھے رہتے ہیں جیسے کہ ہم نے ان پر جھوٹا الزام لگا کر ان کو قید میں رکھا ہوا ہے ۔ 

اچھا وہ تو چھوڑ یں۔ ہاں تو ہم کیا کہ رہے تھے ۔ ہم اپنی کہانی سنا رہے تھے ۔

ہم نے چار جوڑوں میں لالٹین کی روشنی میں اپنا بچپن اور کافی حد تک جوانی بھی گزار ی ۔ اسی میں ڈگریاں بھی لیں کالج یونیورسٹی جا کر ۔ آ ج بچوں کی خاطر اپنا دیس چھوڑ کر پردیس میں بس گئے ۔ اپنے کو شاباش دینا تو بنتا ہے ۔ کیا خیال ہے ۔ 

بس تو گئے لیکن آ ج بھی اپنا دیس اور اپنا بچپن ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتا ۔ ہم جب بھی جگجیت کی غزل سنتے ہیں یادوں میں ڈوب ڈوب جاتے ہیں ۔

یہ دولت بھی لے لو یہ شہرت بھی لے لو 
بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی 
 مگر مجھ کو لوٹا دو بچپن کا ساون 
وہ کاغذ کی کشتی وہ ساون کا پانی 

جبکہ دیکھا جائے تو اس میں سے کوئی بات بھی سچ نہیں ۔ شہرت اور جوانی تو کب کی رخصت ہو چکی ۔ دولت بھی بس نام کی ہے۔ پتہ نہیں ہے بھی یا نہیں ۔ 

اب رہی بچپن کی کہانی ۔ تو ہم بھلا کب کاغذ کی کشتیاں ندی میں چلا یا کرتے تھے ۔ اور محلہ کی نانی سے راتوں کو کہا نیاں سننے جایا کرتے تھے ۔ ہمیں تو اماں اپنے پروں میں سمیٹے بیٹھی رہتں ۔ یہ سب کہانی قصے ہیں ۔ اور تو اور ساون کا پانی تو بڑا ہی غضب ڈھا تا تھا ۔ یوں جانو اندر باہر پانی ہی پانی ۔ گھر کا جو تھوڑا سامان ہوتا اس کو بچانے کی فکر پڑ جاتی ۔ ساون کے مزے کیا خاک لیتے ۔ 

یہ سب تو سچ ہے پر بچپن پھر بھی بڑا یاد آ تا ہے ۔ ایک سہانے خواب کی صورت ۔ رنگوں سے بھرپور ۔ جھلمل کرتا قوس قزح کی مانند ۔ جگمگ کرتا ۔ اور جی کرتا ہے کہ کاش  

کوئی مجھ کو لوٹا دے وہ بچپن کے دن 

سچ وہ بھی کیا دن تھے زندگی سے بھر پور ۔ اب تو بس گزارا ہو رہا ہے ۔ پھر بھی خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے ۔ خدا نے اچھے حالات میں رکھا ہوا ہے ۔ ہم انسان تو ہیں ہی نا شکرے۔ کسی حال میں خوش نہیں ۔ اے میرے رب کریم میرے گناہوں کو معاف فرما ۔ نا شکری بھی ایک طرح سے گناہ ہے ۔ اس کی نعمتوں سے انکارِ ۔ 

Comments

  1. Carry on writing please, bohat maza aata hai, lunchtime par parh rahi hon hahaha

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

لیڈییز کمپارٹمنٹ

نیل گگن کے تلے

مکھڑے پہ سہرا ڈالے