روشندان

جنوری کا مہینہ ہے سردی اپنے عروج پر ہے۔ ہر طرف برف ہی برف ۔ درجہ حرارت منفی بائیس ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ پر ہم یہاں کے رنگ میں خاصے ڈھل چکے ہیں۔ پہن اوڑھ کر نکل کھڑے ہوتے ہیں۔پھر یہاں بجلی پانی کا کوئی مسئلہ نہیں۔ شاپنگ مال۔ کافی ہاؤس ہر جگہ موسم خوشگوار۔ سردی کا نام و نشان تک نہیں ۔ گھروں میں بھی سکون ہی سکون ہے۔ بس گاڑی سے اتر کر اندر جانے کی دیر ہے پھر شانتی ہی شانتی۔
ہم گھر کے قریب والے پلازہ میں ہیں۔ ویسے تو یہاں قدم قدم پر پلازہ موجود ہیں لیکن اس پلازہ کی خوبی یہ ہے کہ یہاں ڈالاراما ہے ۔ یہ ایک طرح کا ڈالر اسٹور ہی ہے ۔ یہاں ایک سے پانچ ڈالر تک کی دنیا جہاں کی چیزیں موجود ہیں۔ ہر رنگ و نسل کے لوگوں کا یہ پسندیدہ اسٹور ہے۔ ہر وقت لوگوں کا رش لگا رہتا ہے۔ اس اسٹور کی وجہ سے ڈالر اسٹور کے بزنس کو یقینی طور پر بڑا نقصان ہوا ہے۔
خیر تو ہم کہ رہے تھے کہ ہم پلازہ میں ہیں۔ یہاں میٹرو کا اسٹور بھی ہے اس کی بیکری کی چیزیں بڑی اچھی ہوتی ہیں۔ ہم یہاں سے بلوبیری مفن لیی گے پھر ڈالاراما کا رخ کریں گے۔ وہاں دیکھنے کی بھی بڑی چیزیں ہوتی ہیں۔ وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا۔
ہم میٹرو سے شاپنگ کر کے ڈالاراما آ گئے ہیں۔ یہاں ہر طرح کا سامان بھرا پڑا ہے۔ ہم کو تو بس ایک عدد بال پن چاہیے لکھنے کے لئے۔ وقت کم ہے۔ بیٹے نے کہا تھا سردی بہت ہے میں آپ کو وہاں سےواپسی میں لے لو ن گا۔ وہ جم گیا ہوا ہے۔ آ تا ہی ہو گا۔ سردیوں کے موسم میں باہر جانے کا موقع کم ہی میسر آ تا ہے ۔ جم زندہ باد۔ لوگ ایکسرسائز کے لیے وہاں کا رخ کرتے ہیں ۔
ڈالاراما میں ہر طرح کے قلم پنسل کاغذ فائلیں۔ فائل کور وغیرہ وغیرہ۔ لکھنے پڑھنے کے لیے ہر سامان موجود ہے۔ میں سوچ رہی ہوں کہ خریدنے والے کتنے ہوں گے۔ لکھنے پڑھنے سے تو سب جانو فارغ ہی ہو چکے ہیں۔ نئی نسل کو تو قلم پنسل پکڑ نا بھی شاید ہی آ تا ہو ۔ استعمال کرنا تو دور کی بات ہے ۔
کمپیوٹر نے بہت کچھ سکھا دیا پر بہت کچھ بھلا بھی دیا۔ کتابیں کاپیاں۔ کاغذ قلم سب سے رابطہ ٹوٹ چکا ہے۔ اکثر تو اپنا نام بھی لکھنا بھول چکے ہیں۔
جمع تفریق۔ حساب کتاب ہر بات کے لئے مشین کا سہارا درکار ہے۔ ہمیں اپنا زمانہ یاد آگیا۔ بچپن میں لکڑی کی تختی پر لکڑی کے قلم کو دوات میں ڈبو ڈبو کر لکھا کرتے تھے ۔ ابا میاں چھری چاقو کی مدد سے قلم کی تراش خراش کیا کرتے ۔ پھر تھوڑی ترقی ہو گئی ۔
بازار میں قلم آ سانی سے ملنے لگے ۔ انگریزی تو پہلے سے ہی موجود تھی لیکن اس میں تیزی آگئی۔ قلم بھی دو قسم کے ملنے لگے۔ زیڈ اور جی ۔ ان کی طراش خراش فرق ہوتی تھی۔ جی کا سرا با ریک اور زیڈ کا سرا مو ٹا ہوتا تھا۔ خاص طرح کا۔ دوات موجود رہی کافی زمانہ تک۔ پھر تعلیم ترقی کرتی گئی اور کافی کچھ پیچھے رہتا گیا۔ ایسے قلم بازار میں دستیاب ہو نے لگے کہ دوات کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی ۔
طورطریقے بدلنے لگے۔ ماں باپ ۔ استاد۔ خاندان سب کی قدریں بدلنے لگیں۔ اب تو بچوں سے ماں باپ اور اساتذہ سب ہی لوگوں کی جان نکلی رہتی ہے کہ بچوں کی شان میں کوئی گستاخی نہ ہو جائے اور استاد اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ٹیچر اپنی کلاس کے خاتمے پر خدا کا شکر ادا کرتا ہے کہ سب کچھ خیر خیریت سے ہو گیا۔ بچے قابو میں تؤ کیا خاک رہتے ہیں لیکن اگر کلاس بغیر زیادہ ہنگامہ کے گزر جانے تو وہی بڑی بات ہے ۔استاد اپنی عزت بچانے کسی نہ کسی طرح اپنی نوکریوں پر آ تے ہیں۔ آ خر کو بال بچے پالنے ہیں گھر چلانا ہے۔ نوکری ہر نہ آ ئیں تو پھر کیا کریں ۔ مرتا کیا نہ کرتا۔
میں بالکل مبالغے سے کام نہیں لے رہی ۔ کسی ٹیچر سے بات کر کے دیکھ لیں کہ ان کے شب و روز کیسے گزرتے ہیں۔ ہمارا زمانہ نہیں رہا کہ استاد اور شاگرد کا بھی ایک رشتہِ ہوتا تھا ۔ تقدس والا۔
ماں باپ بھی جیسے تیسے خاندان سمیٹ کر رکھنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔ زندگی میں وہ بیفکری نہیں ایک عجیب سا دھڑکا لگا رہتا ہے ۔ بچوں کی شکل بلکہ نگاہوں پر نظر ہوتی ہے کہ کوئی بات ان کے خلاف تو نہیں ہو ئ ۔
کسی بات پر روک ٹوک زور زبردستی تو بھول ہی جائیں ۔ یہاں تو کھٹکا لگا رہتا ہے کہ زیادہ کچھ کہا تو آ پ کے پاس پولیس پوچھ گچھ کر نے نہ پہنچ جانے۔ سب اپنی اپنی عزت بچانے کی فکر میں اللہ آمین کر کے زندگی گزار رہے ہیں۔
وہ سکون اطمینان خواب ہو کر رہ گیا جب سب روکھی سوکھی کھا کر بھی خوش باش رہتے۔
پنکج ادھاس کی غزل بڑی شدت سے یاد آ رہی ہے
دادا کا تھا زمانہ
کھاتے تھے روکھی سوکھی
سوتے تھے نیند گہری
اب تو نیند کے لئے بھی اکثر گولیوں کا سہارا لینا پڑتا ہے اس کے بغیر نیند ہی نہیں آ تی۔ خدا جانے غلطی کہاں ہوئ ۔
تعلیم گھر میں آ ئ تازہ وچار لائ ۔
اگر خبر ہوتی کہ یہ گل کھلائے گی تو گھر میں گھسنے ہی نہ دیتے ۔ پر اب تو بہت دیر ہوچکی ۔ اب تو وہ اندر تک گھس چکی ہے اور ہم گھرکے کسی کو نے کھدرے میں سر چھپانے بیٹھے ہیں۔
خدا سے یہی دعا ہے کہ جو کچھ باقی رہ گیا ہے خدا اس کی حفاظت کرے آ مین ۔ الاہی آ مین ۔
بہت خوب
ReplyDelete