رنگوں کی برسات

 May be an image of plate rack, range hood and kitchen island

 

 

انگلینڈ جانے کا پروگرام بنا رہی ہوں ۔ اب پاکستان تو ایک طرح سے پردیس بن کر رہ گیا ہے۔  ہم نے اب نگلینڈ کا سہارا لے لیا۔  اسی کو اپنا دیس بنا لیا ۔ بچے چاروں طرف بکھر گئے اور ہم ان کے چکر میں مسافر بن کر ملک ملک کی خاک چھان رہے ہیں،  تین بیٹیاں انگلینڈ کے مختلف علاقوں میں آباد ہیں۔ بچوں کو فرصت کہاں اپنے اپنے جھمیلوں میں الجھے ہوئے ہیں ۔ نوکریاں گھر داری پھر اپنے اپنے بچوں کے  مسئلے مسائل ۔

 اماں کہتی تھیں پیدا کرنے سے پالنا زیادہ مشکل ہے ۔ ان کی زندگی میں تو سمجھ نہیں پائے۔ خیر ان کا کون سا کہا ان کی زندگی میں سمجھنے کی کوشش کی ۔ جہاں انہوں نے کچھ کہنے کو منہ کھولا اور ہم  گھبرا کر سوچنے بیٹھ جاتے کہ لو اب ایک اور نصیحت سننے کو تیار ہو جاؤ۔ جیسے تیسے سن کر جان چھڑا تے ۔ آدھی کان میں پڑتی آدھی اوپر سے گزر جاتی  ۔ جو کان میں پڑتی وہ بھی بس برائے نام  ۔ ایک طرح سے اوپر سے ہی گزر تی تھی  ۔ امی بھی تھیں استاد ۔ دنیا دیکھی ہوئی تھی  ۔ جانتی تھیں کہ  سب کچھ انرر اتر رہا  ہے  ۔ایک روز یاد ا ئے گا  ۔ اور آج ہم کو اگلا پچھلا سب یاد آ رہا ہے  ۔  یوں لگتا ہے اماں سامنے بیٹھی سمجھا رہی ہوں  ۔

 بس ایک فرق  ہے  ۔ پہلے ہم ان کی باتوں پر الجھ جاتے تھے ۔ کیا ہر وقت کی نصیحتیں ۔ بیوقوف سمجھ رکھا ہے۔ ہم اپنا اچھا برا خود سمجھتے ہیں ۔ کب تک ہمیں انگلی پکڑ کر چلا یا کریں گی ۔ قدم قدم پر نصیحتوں کے علاوہ کوئی اور بات ہی نہیں ۔ یہ نہ کرو وہ نہ کرو۔ ہم کوئی بچے ہیں۔ آخر کو۔ یونیورسٹی میں ماسٹرز کر رہے ہیں ۔

 پر جیسے جیسے بڑے ہو تے جا رہےتھے ۔ نصیحتوں میں مزید اضافہ ہوتا جارہا تھا ۔ اور ہم سوچتے کہ آخر کب جان چھوٹے گی ان نصیحتوں سے۔ یقین کریں شادی ہو گئی بچے ہو گئے۔ نصیحتوں میں اضافہ ہو تا گیا،  ان سے جان نہ چھوٹنی تھی نہ چھوٹی۔ 

آج اماں دور بیٹھی دیکھ رہی ہوں گی کہ ان کی کہی ہوئی ساری باتیں روز اول کی طرح یاد ہیں۔ اس وقت تؤ سمجھ نہیں سکے اب ساری کی ساری سمجھ میں آ رہی ہیں ۔ اب ان نصیحتوں کی قدر ہو رہی ہے ۔ وہ ساری باتیں قدم قدم پر ہماری مشعل راہ رہیں۔

جی کرتا ہے کہیں کہ اماں یقین کریں ہم آپ کی ان تمام باتوں کو پلے سے باندھ کر ہی زندگی کا کٹھن راستہ گزرانے کے قابل ہو سکے۔ کاش ان کی زندگی میں کچھ بتا سکتے ۔ اس وقت تؤ بھاگنے کی جلدی ہو تی کہ بیٹھیں گے تو مزید نصیحتیں سننی پڑیں گی ۔ کبھی جم کے بیٹھے ہی نہیں ۔ اماں کو وقت تؤ دیا پر اتنا نہیں جتنی کی وہ حقدار تھیں ۔ اب سوچنے بیٹھتے ہیں تو لگتا ہے کہ وہ ترستی ہی چلی گئیں اور ہم دوستوں کے چکر میں رہے ۔ ہمیں کیا خبر تھی کہ وہ کبھی ساتھ بھی چھوڑ دیں گی ۔ 

ہم نے تو انہیں ہمیشہ کچن کے کاموں میں مصروف دیکھا ۔ سب کی پسند کے کھانے بنا نا ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا ۔ کبھی اظہار ہی نہیں کیا کہ ان کی بھی کچھ پسند نا پسند ہے ۔ مائیں بھی کیا عجب مخلوقِ ہوتی ہیں ۔ اسی لئے تو خالق ہمیں خلق کر کے ان کے سپرد کر کے مطمئن ہو گیا ۔  اور ان کے پائوں تلے جنت بتا دی۔ 

ہم بھی بات کہاں سے شروع کر تے ہیں اور کہاں نکل جاتے ہیں ۔ بات انگلینڈ جانے سے شروع کی تھی ۔ بیٹیاں لندن میں ہیں اب ان سے ملنے کا جی کرتا ہے تو ہم کو ہی تؤ جانا ہو گا ۔ ان کو تو گھر کے دھندوں سے فرصت کہاں ۔ پھر بچوں کے جھمیلے ۔ بچوں کی پرورش سچ ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔  پھر یہ تو زمانہ ہی نرالا ہے ہمارے زمانے سے بلکل مختلف ۔ پھوک پھوک کر قدم اٹھانا ہو تا ہے ۔ ورنہ پرورش تو بعد میں ہو گی بچوں سے ہی ہاتھ دھونا پڑجاتا ہے ۔

آج کل کے زمانے میں بچے خودکفیل ہیں ۔ اسٹیٹ ژندہ باد ۔ سب کچھ دینے کو تیار ۔ تعلیم گھر سب حاظر ۔ سب مفت ۔ شکر کریں کہ آ پ کے بچے آ پ کے ساتھ آ پ کی چھت کے نیچے رہ رہے ہیں ۔ ہاتھ ہولا رکھیں ۔ ان کی قدر کریں ۔

 اماں سچ کہتی تھیں پیدا کرنے سے پرورش کرنا زیادہ کٹھن مرحلہ ہوتا ہے ۔ خدا ہمارے بچوں کو اپنے بچوں کی صحیح تربیت کرنے کی توفیق اور ہمت عطا فرمائے آمین ۔ الاہی آ مین ۔


Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

لیڈییز کمپارٹمنٹ

نیل گگن کے تلے

مکھڑے پہ سہرا ڈالے