یادوں کی پرچھائیاں

 May be an image of the Cotswolds

 

آج بیٹھے بٹھائے ہمیں سوجھی کہ اپنی میز کی دراز صحیح کریں کافی دنوں سے چیک نہیں کی آج وقت ہے۔ کہیں جانا بھی نہیں۔ جانے کا تو ارادہ تھا پر درجہ حرارت منفی بائیس سنٹی گریڈ ہے اور ہوا کے جھکڑ بھی چل رہے ہیں برف میں کہیں گر گرا گئے تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ اس لئے وقت گزاری کے لئے اپنی میز کی دراز کھول کر بیٹھ گئے۔  کہتے ہیں کہ گیدڑ کی شامت آتی ہے تو شہر کا رخ کرتا ہے۔ ہمارا بھی وہی حال ہوا۔ 

پتہ نہیں ہم نے گیدڑ والا محاورہ بھی صحیح استعمال کیا یا نہیں۔ ہم جس دیس کے باسی ہیں وہاں گنگا تو نہیں بہتی البتہ لیک انٹاریو ضرور بہتی ہے۔ بہتی  بھی کیا ہے۔ یہ تو اتاہ سمندر کی مانند ایک سرے سے شروع ہوتی ہے تو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔ 

ہاں تو ہم کہ رہے تھے کہ محاورہ پتہ نہیں صحیح ہے یا غلط۔ شوق میں لکھ دیا۔ اس دیس میں پاکستان سے دور تو ہیں ہی اردو سے بھی دوری ہوتی چلی جا رہی ہے بلکہ یوں کہیں کہ ہوچکی ہے۔ اندر باہر ہر جگہ انگریزی کا راج ہے۔ گھر میں بچوں سے اردو میں بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو جواب انگریزی میں ملتا ہے۔ سودا سلف لینے جائیں تو وہاں بس ایک ہائے سے استقبال ہوتا ہے اس کے بعد مشین سے ایک پرچہ بل کی صورت میں پکڑا کر فورا بائ ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب کہ آپ کا ٹائم ختم۔ اپنا راستہ پکڑیں اور ہماری جان چھوڑیں۔ پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو لوگوں کی قطار بھری ہوئی ٹرالیاں لئے لائن لگائے کھڑے ہوتے ہیں۔

 خیریت اسی میں ہوتی ہے کہ وہاں سے نکل لیں۔ اپنی عزت اپنے ہاتھ۔ یہاں پردیس میں تو ویسے بھی عزت ہر وقت خطرہ میں ہی نظر آتی ہے۔ یہاں کے طور طریقے بہت کچھ سیکھ گئے ہیں پھر بھی یہاں کے باسی تو ہیں نہیں۔ لاکھ کوشش کے باوجود کہیں نہ کہیں بھول چوک ہو ہی جاتی ہے اور کچھ نہ کچھ غلط ہو جاتا ہے۔ 

اردو تو بس کبھی کبھار میلاد مجلس کی محفلوں میں سننے کو ملتی ہے۔ وہ بھی برائے نام ۔ بس سلام دعا اور بڑی مختصر سی گفتگو کی حد تک کیا حال ہے ٹھیک ہیں۔ اور گفتگو ختم۔ کسی سے اتنی ملاقات ہی نہیں کہ بات چیت آگے بڑھنے پائے۔ 

ایسے معوقوں پر اپنا دیس بڑا یاد آتا ہے۔ وہاں  بازار جاتے تو ہر طرف سے باجی باجی کی صدائیں سنائی دینے لگتی تھیں۔ اس وقت تو ان آوازوں کی قدر نہیں تھی بلکہ الجھن ہوتی تھی کہ کیا باجی باجی کی رٹ لگائے ہوئے ہیں۔ اب سب یار آ رہے ہیں۔ کپڑوں کی دکان والے سید برادرز ۔ رحمان جیولرز جن کی دکان سے اپنے بچوں کی شادی کے سلسلے میں زیور خریدار کرتے تھے اور شکیل ٹیلر۔ جن کو کپڑے دے کر مطمئن ہو جاتے کہ مرضی موافق سلیں گے اور وقت پر مل جائیں گے ۔

وقتِ گزرنے کا تو پتہ ہی نہیں چلتا ۔ سبزی والے سے آ لو ٹماٹر لینے میں ہی گھنٹہ بھر لگ جاتا بھائو تائو کرنے میں ۔ پھر اللہ بھلا کرے ماسیوں کی آمد رفت ۔ ایک گئ دوسری آئ ۔ مالی جمادار ۔ 

ہم بھی کیا باتیں لے کر بیٹھ گئے ۔ دراز کا سامان نکال کر بیٹھ گئے ۔ سارے کاغذ بکھریے ہوئے ہیں ۔ اب جو دیکھنا شروع کیا تو پتہ چلا 

اس میں تو ماضی ہے اور مرا عہدِ شباب 

اس میں تو میری بہت قیمتی تصویریں ہیں 

سب سمیٹ سماٹ کر رکھ دیا ۔ ہم بھی کیا کچھ پرچوں پر لکھ لکھ کر جمع کرتے جاتے ہیں ۔ یادوں کو دراز میں بند ہی رہنے دیتے ہیں ۔  چنگاریاں کریدنے سے کیا حاصل ۔ 

نیند کے سرابوں میں رات کے اندھیروں میں 

جھانکتے ہیں جو دل میں ایسے چور لمحوں میں 

چلیں وقار علی کی غزل سنتے ہیں ۔ 

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

لیڈییز کمپارٹمنٹ

نیل گگن کے تلے

مکھڑے پہ سہرا ڈالے