پرت پرت زندگی

 No photo description available.

 

 آج اتوار کا دن تھا۔ ہمارے لئے ویسے تو ہر روز ہی اتوار کا دن ہے۔ ہم کو کون سا آفس جانا ہو تا ہے۔ پر ہفتہ اتوار کے دن بچے گھر پر ہوتے ہیں انہیں کالج یونیورسٹی نہیں جانا ہو تا تو چھٹی کے دن کا احساس ہونے لگتا ہے۔ پر یہ بہار کچھ ہی دیر کی ہوتی ہے۔ پھر سب اپنے اپنے پروگراموں کی تکمیل پر گامزن ہو جاتے ہیں۔ گھر پھر خالی کا خالی ہمارا منہ چڑا رہا ہو تا ہے۔ ہفتہ کے باقی دنوں میں تو پھر بھی آسرا ہوتا ہے کہ شام تک سب کی واپسی ہو جائے گی پر چھٹی کے دن یعنی سنیچر اتوار تو بھول ہی جائیں۔ سب کے پاس گھر کی چابیاں ہیں دروازہ کھولنے کے لئے بھی آ پ کی مدد درکار نہیں۔۔

 اب چھٹی کے روز یہ ہمارے اوپر ہے کہ اپنے کو ایک فالتو پرزے کی طرح سمجھ کر اپنے اوپر غم وغصہ طاری کر کے اپنا دن محرومیوں کی نظر کر ڈالیں۔ جی ہاں غم اور غصہ دونوں ہی آتا ہے۔ ہم کون سا کوئی روبوٹ ہیں کہ بٹن دبایا اور گھر کے سناٹے کو ہنسی خوشی گزارنے کے پروگرام بنا نا شروع کر دیں۔ پہلے تو تھوڑی دیر لگتی ہے سمجھنے میں کہ گھر میں خاموشی ہے پھر جب یقین آجا تا ہے تو اپنے دل کو سمجھا تے ہیں ۔ کہ ویسے بھی بچے زیادہ تر اپنے اپنے کمروں میں ہی  ہو تے ہیں  کون سا سارے دن ہماری نظروں کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں۔  پر یہ دل بھی بڑی ظالم شے ہے۔ اگر جرح کرنے پر آجائے تو نآکوں چنے چبانے پڑجاتے ہیں۔ ایسے ایسے پوائنٹ لاتا ہے کہ آپ کچھ دیر کے لئے لاجواب ہو جاتے ہیں۔ دلیل پر دلیل دینے لگتا ہے۔ یہ دل  توہے ہی پگلا۔ بڑی مشکل سے قابو آتا ہے۔ 

ہم بھی استاد ہیں ساری عمر گزاری ہے اسے قابو کرنے میں۔ کسی نہ کسی طرح مسئلہ سلجھا ہی لیتے ہیں۔ اگر دل کا ماننے لگتے تو ہمیں اپنے لڑکپن کے دنوں میں ایسے ایسے سبز باغ دکھا تا تھا کہ بس اللہ کی پناہ ہم لڑکھڑا لڑکھڑا جاتے۔ مگر ابا میاں کے دور حکومت میں ہماری کیا مجال جو ادھر ادھر کا کچھ سوچتے بھی۔ پھر اماں کی نظریں تو گویا تھیں ہی آر پار ایکسرے کی مانند  ہماری سوچ بھی ان کے راڈار میں آ جاتی۔ ابھی کوئی خیال ذہن میں آیا نہیں کہ ان تک خبر ہو جاتی۔ یہ مائیں بھی خدا نے عجب مخلوق بنائی ہیں ۔ پھر اعتبار بھی غظب کا کہ ما ں  کے قدموں کے نیچے جنت ہے ۔ اب جو کرنا ہے کر لو۔ کریں تو کیا خاک ۔ ہاتھ پاؤں تو باندھ دئیے پاؤں کے نیچے جنت بتا کے۔

 خیر تو ہم دل کے سوال جواب بتا رہے تھے۔ کہاں کہاں کے نکتے لاتا ہے ہمیں بھڑ کانے کے لئے ۔کہتا ہے کہ بچے پھر بھی بھی کھانا پانی لینے کے لئے کمروں سے باہر نکلتے تھے۔  اب تو سارا دن تنہائی کے سوا کچھ نہیں ۔۔ ہم نے کہا کہ وہ کون سا سارا دن ہمارے ساتھ بیٹھے ہوتے ۔ مجبوری میں ذرا سی دیر کو نظر آ تے تھے ورنہ سارا دن اپنے اپنے حجرون میں ۔ کمپیوٹر زندہ باد۔

ہم نے سوچا کہ اس دل کے چکر میں کچھ جاصل تو ہونے سے رہا ۔ فقط وقت کا زیاں۔ بحث مباحثوں سے بھی کبھی مسئلے سلجھانے گئے ہیں۔  پھر دل تو ہمیشہ الٹا سبق ہی پڑھایا کرتا ہے۔

 آج تک اس کی سن کے اپنی منزل ہی کھوٹی کی نتیجہ کیا خاک نکلنا تھا ہمیشہ نئی مشکلیں ا کھڑی ہوئی ہیں۔

ہمیں خود ہی راستہ نکالنا ہے۔ دل کا کہنا سنناچھوڑ کر عقل کا استعمال کر ین ۔ پورا دن گزارنا ہے۔

 ہنس کر گزار یا اسے رو کر گزار دے۔

 ہم کچن میں گئے اپنے لئے انڈا بنایا۔ شان پراٹھا زندہ باد۔ چائے کا سوچ رہے تھے پھر خیال آیا کہ چائے باہر جا کر پیتے ہیں۔ کافی ہاؤس دس پندرہ منٹ کے فاصلے پر ہے۔ سردی تو ہے درجہِ حرارت پندرہ ڈگری سینٹی گریڈ صفر سے نیچے۔ ہوا بھی ہے لیکن پہن اوڑھ کر جائیں گے۔ ہمت مردان مدد خدا۔ بس ہم اپنا آج کا دن اچھی طرح منانے پر تل گئے ۔ جب اکیلے آ ئیں ہیں اکیلے ہی جائیں گے تو پھر زندگی ہنس کھیل کراکیلے کیوں نہیں گزاری جا سکتی۔

اچھا خاصا خوش خوش چائے کے مزے لے رہے تھے کہ خدا جانے یہ شعر کہاں سے آ ٹپکا ۔

لازم ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل 

لیکن کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے 

ہمارا خیال ہے یہ ساری دل کی شرارت ہے ہمیں کنفیوز کرنے کے لئے ۔ چائے پیتے ہیں ایک عدد بلیو بیری مفن کا آ رڈر بھی دیتے ہیں مزہ آ جائے گا ۔


Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

لیڈییز کمپارٹمنٹ

نیل گگن کے تلے

مکھڑے پہ سہرا ڈالے