دھنک رنگ

نیا سال بھی آ گیا۔ یہاں نیا سال بڑے دھوم دھڑ کے کے ساتھ آ تا ہے۔ ہمارے زمانے کی طرح دیے پاوں نہیں آ تا۔ اب تو اپنے دیس میں بھی یہی طور طریقے ہیں۔ ہم نے ہر چیز میں ان کا چال چلن اپنانے کی ٹھانی ہوئ ہے۔ پھر اس میں کیوں پیچھے رہیں۔ وہاں بھی نئے سال کے موقعہ پر جب تک فائرنگ سے کئ لوگ جان سے نہ جائیں اور زخمی نہ ہوں لوگوں کو نئے سال کا لطف نہیں آ تا۔ گوروں کے یہاں جان کی بڑی قیمت ہے چاہیے وہ ہمارے جیسے کالے پیلے لوگوں کی ہی کیوں نہ ہو۔ یہ بات تو ماننی پڑے گی۔ نئے سال پر جتنا بھی دھوم دھڑ کا ہو سب کی جانیں سلامت رہتی ہیں۔ بہت سی باتوں میں ان کو داد دینی پڑتی ہے۔
ہاں تو ہم نئے سال کی بات کر رہے تھے۔ ہمارے لئے تو پورا شہر بند اور کرنے کو کچھ نہیں۔ موسم سرد برف جا بجا بکھری ہوئ۔ سرد ہوائیں آ پ کے استقبال کے لئے سرگرم مانا کہ ہمیں یہاں رہتے ہوئے خاصا زمانہ بیت گیا پر ابھی پرزے کی طرح یہاں کی مشینری میں پوری طرح فٹ نہیں ہو ئے۔ ice hockey. Skating. Skiing. وغیرہ ابھی ہماری ڈکشنری میں نہیں داخل نہیں ہو ئ۔ ہم تو بس پہن اوڑھ کر اپنے کو لپیٹ لپاٹ کر یہاں کے سرد موسم میں باہر جا کر چہل قدمی کر نے کے قابل ہو نے کو ہی بڑا غنیمت جانتے ہیں۔ برف میں باہر جا کر تھوڑی بہت walk کر لیتے ہیں۔ بس اللہ اللہ خیر صلا۔ اس سے آ گے کی نہ اب عمر ہے اور نہ صلاحیت ۔
وہ زمانہ یاد آتا ہے جب پہلی برفباری کے دنوں میں گھر سے باہر نکلنے کی ہمت ہی نہیں ہوتی تھی۔ جان نکلی رہتی تھی کہ اب slip ہو ئے اور ہڈی ٹوٹی۔ اتنے دنوں میں کافی کچھ سیکھ گئے۔ پر انسان کو تو ہمیشہ خوب سے خوب تر کی تلاش رہتی ہے۔ تلاش تو خوش آئند ہے۔ آگے بڑھنے کی لگن سے کس کافر کو ا نکار ہے ۔ پر کبھی کبھی شکر کرنے میں بھی کیا مضائقہ ہے ۔ جو پاس ہے وہ تو نظروں میں جچتا ہی نہیں۔ گلے شکوے ہماری فطرت ہے۔
یا رب کریم تیرا لاکھ شکر ہے۔ ہم یہ تو نہیں کہیں گے کہ
وہ آ یا اور اس نے فتح کر لیا
پر اپنے وطن سے یہاں آ کر نئی بستیاں بسانے والوں کو سلام کرنے کو ضرور دل چاہتا ہے۔ بڑے دل گردے کا کام ہے۔ بڑی جان مارنی پڑتی ہے۔ قدم قدم پر بند گلی کا سامنا ہوتا ہے۔ کشتیاں جلا کر آ نے کے بعد ۔
نہ جائے رفتن نہ پائے ما نند ۔ پرا نسان ہے بڑا سخت جان۔ ماننا پڑے گا۔ بلکہ یوں کہیں ہمت والا۔ جہاں تعریف بنتی ہے کرنی چاہیے۔ گھس پٹ کر اپنے کو یوں تیار کر لیتا ہے گویا برسہا برس سے یہیں رہتا آ یا ہو۔ لباس رہن سہن کافی کچھ سیکھ گئے بس رنگت سے مار کھا جاتے ہیں۔ اب یہ تو اللہ کی دین ہے اس پر تو ہمارا بس نہیں۔ ویسے بھی گورے کون سا ہمیں اپنے برابر کا سمجھیں گے۔ دل کیوں چھوٹا کریں ۔
نیا سال نئی صبح کیوں نہ اس کا استقبال کریں ۔
نیا سفر ہے پرآنے چراغِ گل کر دو
چراغ گل کر یں نہ کر یں پرانے دکھ درد گلے شکوے بھول کر نئے سفر نئے سال کا آغاز کر یں ۔ خدا ہم سب کو سکون قلب عطا کرے آمین ۔ دلی سکون خوشیوں کا پیش خیمہ ہوتا ہے ۔ انسان روکھی سوکھی کھا کر بھی حاصل کر لیتا ہے ۔ اور سب کچھ حاصل ہونے کے بعد بھی سکون نہیں ملتا ۔ یہ تو خدا تعالٰیٰ کی عطا ہے۔ جسے چاہے نواز دے ۔ شکر کریں سکون آ پ کے قدم چومے گا ۔ انشاء اللہ ۔
Comments
Post a Comment