رم جھم

کرسمس کا دن ہے۔ سارا شہر بند ہے۔ آ خر جائیں تو جائیں کہاں۔ وقت گزارنے کے لیے کیا کیا جائے۔ خیال آیا کہ lake تو کھلی ہوئی ہے۔ وہاں چلے جاتے ہیں۔ ہمارے گھر سے کافی قریب بھی ہے۔
اس وقت دن کے گیا رہ بجے کا وقت ہے۔ ہم lake پر ہیں اس کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا پانی دیکھ کر ہمیں اپنا کراچی کا سمندر یاد آ گیا۔ کلفٹن ہاکس بے سینڈز پٹ ۔ سب خواب ہو کر رہ گئے۔
چلو یہ lake بھی کیا بری ہے۔ اب یہاں آ گئے تو انہی چیزوں سے دل لگانا ہو گآ۔
مطلعِ ابر آ لود ہے۔ گھٹا چھائی ہو ئ ہے۔ دھند ہی دھند۔ دسمبر کا مہینہ ختم ہو نے کو ہے۔ ہر طرف برف ہی برف۔ بڑا خوبصورت منظر پیش کر رہی ہے۔ اکثر درختوں کے پتے جھڑ چکے ہیں وہ ڈھانچے میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ان پر سفید پاؤڈر سا چھڑکا ہوا بڑا ہی خوبصورت لگ رہا ہے۔ یوں لگ رہا ہے کہ قدرت نے آ ج کے دن ان کو سنوار دیا۔ کچھ درختوں پر ابھی سبزہ موجود ہے۔ ان پر انکے ہوئے برف کے گالے سفید پھولوں کی مانند دل لبھارہے ہیں۔ کپاس کے پھولوں کا سا منظر پیش کر رہے ہیں۔
کرسمس کے دن کے سبب لوگ اپنے گھروں میں مصروف ہیں۔ یہاں لوگ نہ ہو نے کے برابر ہیں۔ اکا دکا لوگ اپنے کتوں کو سیر کے لیے لائے ہو ئے ہیں۔ ایک دو jogging کر رہے ہیں۔ ہم سے سامنا ہوا تو بھاگتے بھاگتے ہمیں Merry Christmas کہنا نہ بھولے۔ گورے ہیں اخلاق والے۔ خیر ہم بھی کچھ کم نہیں ہم نے بھی جلدی سے جو اب دیا۔ اس سے پہلے کہ وہ آ گے نکل جائیں۔ان کے پاس اتنا وقت کہاں کہ وہ ہمارے جو اب کا انتظار کر یں۔ Merry Christmas کہنے میں کیا مضائقہ آ خر کو حضرت عیسیٰ ہمارے بھی تو برگزیدہ پیغمبر ہیں۔
Lake کے سامنے چلنے کے لیے راستہ بلکل صاف ہے وہاں پر برف کا نام و نشان تک نہیں۔ تہوار اور چھٹی کے روز بھی یہ لوگ اپنے فرائض سے غافل نہیں رہتے۔ ہم تو جب تک عید کی چار چھٹیاں نہ کر لیں ہمیں چین نہیں آتا اور اس کے بعد بھی جب جاتے ہیں تو گویا احسان کر رہے ہیں۔ کام کرنا تو اس روز بھول ہی جائیں۔
یہ لوگ ہیں ہی اسی لائق خدا ان کو اسی لئے نواز رہا ہے۔ ہم خوامخواہ ان کو دیکھ دیکھ کر اپنا خون جلاتے رہتے ہیں۔
آ سمان پر چڑیاں قطار در قطار جا رہی ہیں غالباً کینیڈا کی برفباری سے بچنے کے لیے کہیں اور کا رخ کر رہی ہیں۔
ہمیں بہت زمانہ پہلے کا پڑھا ہوا اپنے کالج کے زمانے کا انگریزی کا سبق یاد آ گیا۔ intelligence of birds اس میں بڑے ہی مختصر انداز میں ان کی ذہانت کے بارے میں مصنف نے بیان کیا تھا۔ مصنف بڑا مشہور ہے ہمیں یاد نہیں آ رہا ۔ ہمیں بھلا وقت پر کوئی بات یاد آئ ہے۔
خیر تو اس نے لکھا تھا کہ چڑیاں آ سمانی اور زمینی آ فات کو سب سے پہلے جان جاتی ہیں۔ زلزلے۔ آ ندھی طوفان کاانہیں فوراً پت چل جاتا ہے۔ ہم اپنےاو پر اشرف المخلوقات کا label بلا وجہ ہی سجائے پھر رہے ہیں۔ اماں کے بقول
نہ کام کے نہ کاج کے
من بھر اناج کے
خیر ہمارے اگلوں نے تو بڑے کارنامے انجام دئیے بس ہم ہی کچھ پیچھے رہ گئے۔ ہم کیا کر ثے حالات ہی سازگار نہیں تھے ۔
کچھ شہر کے لوگ بھی ظالم تھے
کچھ سانوں بھی مرن کا شوق رہا
اصل شعر کیا ہے۔ ہے بڑا مشہور اور حسبِ حال۔ ہم نے بس ملی جلی اردو پنجابی میں سنا دیا۔
تسی سمجھ تو گئے ہوگے۔
Comments
Post a Comment