نیا رنگ نئ صبح

نیا دن نئی صبح۔ رنگوں سے بھرپور۔ ہوا کی سرگوشیاں۔ بارش کی ٹپ ٹپ کرتی بوندوں کی جلترنگ۔ قدرت کتنی مہربان ہے ہم پر۔ ہماری ہر کوتاہیوں سے بےنیاز۔ ہر خطا درگزر۔ ہم پھر بھی شکر کے بجائے شکوہ شکایت کا کوئی لمحہ نہیں جانے دیتے۔ کبھی گرمی سے بیزار کبھی سردی سے۔ روپیے پیسے کی تنگی اولاد کا رونا ۔ آ پ کوئی بات چھیڑیں اور پھر ہماری قسمت کا مرثیہ سننے کے لئے تیار ہو جائیں۔
ہم سے پہلے کے لوگ بھی کیا لوگ تھے۔ قناعت پسند۔ گھر سے کبھی نکلتے نہ تھے۔ نہ ہی نکلنے کی تمنا تھی پر ان کا نام گلی گلی پہچانا جاتا۔ ہم گلی گلی گھوم کر بھی پہچانے جانے سے محروم۔ ان کو نام و نمود کی جستجو تھی نہ تمنا۔ ہم نام و نمود کی خواہش میں ہی مرے جاتے ہیں اور نام و نمود مل کر ہی نہیں دیتا۔
وہ لوگ آ ج پر focus رہتے تھے۔
ہمارا focus نہ آ ج پر ہے نہ کل پر۔ ہماری تو بس ایک ہی تمنا ہے کہ لوگ ہمیں پہچانے۔ پر یہاں تو ہمارے جیسے ہزاروں موجود ہیں۔ ہماری جگہ ان میں کیسے بنے۔ ہم اسی غم میں رہتے ہیں۔ سب کچھ کر کے دیکھ لیا۔ status بڑھا لیا۔ لوگوں سے رابطے بڑھانے کے لیے ایک سے بڑھ کر ایک دعوتیں کر کے دیکھ لیا۔ پر ہمارے جیسے ہر طرف موجود ہیں۔ یا اللہ کریں تو کیا کریں۔
دنیا کے سفر پر نکل گئے کہ لوگوں کو وہاں کے قصے سنائں گے۔ پر لوگ تو خود ہر جگہ جا چکے ہیں۔ کسی کو ہمارے قصے کہانیاں سننے میں دلچسپی نہیں۔ ہمیں منفرد ہونے کی تمنا چین نہیں لینے دیتی۔ ہم تھک کر ہار چکے ہیں۔
جانے وہ کیسے لوگ تھے جن کو
گھر بیٹھے سب کچھ مل جاتا تھا
چین سکون اطمینان قلب
ہم تو بس ٹکریں ہی مار رہے ہیں۔ کچھ کر نے کی لگن میں۔پر نہ تو لگن ہی سچی ہے نہ جستجو۔ راتوں رات کچھ بن جائے کا خواب بھی کبھی پورا ہوا ہے۔ وہ تو بس خواب ہے دیوانے کا۔
سب کچھ بھول کر آج پر دھیان دیں۔ خوشیاں کلیوں کی مانند ہوتی ہیں ۔ہمارے اندر چھپی ہوئی۔ ارد گرد ہر طرف بکھری ہوئی۔ قدرت کے نظاروں میں چھپی ہوئی۔ ذرا دھیان سے نظریں دوڑائیں۔ آ پ پا لیں گے۔ سکون شہرت سے زیادہ قیمتی ہے۔ اس کی تلاش کی جستجو کریں۔ شہرت کے چکر میں زندگی برباد مت کریں۔
نہ خدا ہی ملے گا نہ وصال صنم۔
ہم سے پہلے کتنے آ ئے
آ ئے اور آ کر چلے گئے
وہ بھی اک پل کا قصہ تھے
ہم بھی اک پَل کا قصہ ہیں
میرے خیال سے گلزار صاحب کی شاعری ہے۔ اگلے وقتوں کے لوگ بھی کیا تھے۔ اتنے سادہ الفاظ ۔ کوزے میں دریا بلکہ سمندر سما دیا۔ سوچنے بیٹھیں تو ڈوبتے چلے جائیں۔ حقیقت سے کتنا قریب۔ ہر انسان کی کہانی۔
شہرت سایے گی مانند ہے۔ اس کے پیچھے کیا وقت ضائع کرنا۔
خوش رہیں خوشیاں بانٹیں۔ زندگی حسین لگنے لگے گی۔ انشاالاہ ۔
Comments
Post a Comment