بھیگتے دسمبر میں

 No photo description available.

 روئی کے گالے آسمان سے برس رہے ہیں۔ یون لگتا ہے ہر طرف چاندی بکھری ہوئی ہے۔ درختوں پر اٹکی ہوئ برف کپاس کے پھولوں کی مانند بہار دے رہے ہیں۔ کچھ دنوں پہلے زمین پر ہر طرف سونا بکھرا ہوا تھا۔ درختوں سے زرد پتے بارش کی طرح بکھر  بکھرکر بہار دکھا رہے تھے اور اب ہر سو چاندی ہی چاندی۔ یوں لگتا ہے جنت میں ہیں ۔ ہرطرف سکون ہی سکون۔ 

 ہم نےtv کھول لیا ۔اب اس برفباری کے موسم میں کہاں جائیں ۔ اور جائیں بھی کہاں۔ اچھے موسم کے دنوں میں بھی جانا کہاں ہو تا ہے۔ بس ملا کی دوڑ مسجد تک۔ قریب کے کافی ہاؤس میں چلے جاتے ہیں اکیلے بیٹھ کر چائے کافی پی لیتے ہیں۔  اکیلے بیٹھ کر ہی پئں گے یہاں کون سے کوئی دوست احباب بیٹھے ہیں۔ 

دوست احباب کو تو ہم پاکستان میں چھوڑ کر اگئے ۔ ہاتھ میں ویزا کا پر چا کیا آ یا ہم نے تو آنکھیں ماتھے پر رکھ لیں تھیں ۔ کسی کو خاطر میں ہی نہیں لا تے ۔ رات دن کینیڈا کےخواب دیکھنے میں گزر رہے تھے۔ بس یوں جانو دن عید تو رات شبرات ۔

ہم کافی کے کچھ زیادہ شوقین تو ہیں نہیں۔ پر روٹی تو کسی طور کما کھائے مچھنرر ۔ اب وقت گزرا نے کے لئے کچھ تو کرنا ہے۔ یہ اپنا دیس تو ہے نہیں کہ سبزی ترکاری لینے جائیں تو بھی  وقت کا پتہ نہیں چلتا۔ دکاندار بآجی بآجی کی صدا لگا کر دل خوش کر دیتے ہیں ۔ اور چار چیزیں لینے جائیں پر گھنٹے گزر جاتے ہیں ۔ 

یہاں تو چپ کا روزہ ہے جو ٹوٹتا ہی نہیں ۔ لمبی سے لمبی شاپنگ کی لسٹ لے کر جائیں پر 

بس اک خامشی وہاں سب کے جواب میں 

مشین کا پرچہ ہاتھ میں پکڑ کر واپسی ہو جاتی ہے۔ بس یوں گئے اور یوں واپسی ۔ گروسری بھی کتی کریں ۔ جو پکتا ہے وہی ختم کرنے کے لالے پڑ جاتے ہیں ۔ بچے تازہ کھانا بی کھا لیں تو بڑی بات ہے ۔ فرج میں رکھنے کے بعد تو پھر بھول ہی جائیں کہ وہ ہاتھ لگا ئیں گے ۔

ٹورنٹو تو یوں جانو کینیڈا کا کراچی ہے ۔ بھانت بھانت کی مخلوقِ یہاں آباد ہے۔ ہر نسل ہر قوم کے لوگ یہاں آپ کو ملیں گے ۔ اس لئے ہر قسم کا کھانا دستیاب ہے ۔ قدم قدم پر اس کی دکانیں ملیں گی ۔ competition کی وجہ سے بزی مناسب قیمت پر تازہ اور مزیدار کھانا مل رہا ہو تو پھر کون جھنجھٹ میں پڑے کہ گھر پر کھانے کے لئے دسترخوان پر جمع ہوں جہاں کھانے کے ساتھ اماں باوا کا lecture بھی سننے کو ملے گا ۔

ایسے موقعوں پر ماسیاں بڑی یاد آ تی ہیں ۔ یاد تو وہ ہمیشہ ہی آ تی ہیں ۔ ہم انہیں بھولے ہی کب تھے۔ پر بچا ہؤا کھانا ٹھکانے لگاتے وقت بڑی یاد آ تی ہیں ۔ کیا شاہوں کی سی زندگی گزار رہے تھے ۔ اب تو ہم ہی ماسی ہیں ہم ہی بی بی بن کر مہمانوں کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں ۔  

اب جو منہ کا مزہ بدلنے کے لئے TV کھو لا تو وہاں تو دنیا ہی نرالی ہے۔ یوں جانو ہر طرف افرا تفری ۔ ہر جگہ آ گ لگی ہوئ ہے۔ ہم برفباری کے مزے لے رہے تھے ۔ اب لگ رہا ہے کہ ہم تو کبوتر کی طرح آ نکھیں بند کیے ہوئے ساری دنیا سے بیگانہ بنے بیٹھے ہیں ۔ پر ہم کر بھی کیا سکتے ہیں سوائے خونِ جلانے کے ۔ کبوتر کی طرح آ نکھیں بند کر نا ہی بہتر ہے۔ بس دعا ہی کر سکتے ہیں کہ یا خدا اس خون خرابے سے جان چھڑانے ۔ دنیا میں امن اور شانتی ہو جائے کسی طرح ۔ الاہی آ مین ۔ 

ہم نےدعا مانگ لی دل سے مانگی تھی اور کر بھی کیا سکتے ہیں ۔ ا ب TV بند کرتے ہیں اور دھیان بٹانے کے لیے computer کھولتے ہیں گوئ اچھی سی غزل لگاتے ہیں ۔

دیواروں سے باتیں کر نا اچھا لگتا ہے 

ہم تو پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہے 

یہ کیا ۔ ناصر کاظمی تؤ رلا ہی دیں گے ۔

کچھ اور ڈھونڈ تے ہیں ۔


نیند کے سرابوں میں رات کے اندھیروں میں 

جھانکتے ہیں جو دل کے سرد چور لمحوں میں  

مڑ کے تم جو دیکھو گے سرمئی سی شاموں کو

بھیگتے دسمبر میں ریشمی پہاڑوں کو

وقار علی کی آ واژ ہمیں بہت پسند ہے

ہم غزلیں سنتے ہیں ۔ دل کو روگ لگا نے سے کیا حاصل ۔ ہماری سنے گا بھی کون ۔ نقار خانے میں طوطی کی آواز کس نے سنی بھلا ۔  

اب زندگی تو گزار نی ہے 

ہنس کر گزار یا اسے رو کر گزار دے 

Comments

Popular posts from this blog

لیڈییز کمپارٹمنٹ

نیل گگن کے تلے

مکھڑے پہ سہرا ڈالے