نور

 No photo description available.

 

 

وہ نیند میں ڈوبی ہوئی تھی اک بار گی سورج کی کرنیں اس کے چہرے پر پڑیں۔ کسی نے جہاز کی کھڑکی کا shutter کھول دیا تھا۔شاید منزل قریب آگئ ہے۔ منزل کیسی۔ اس کی نہیں جہاز کی منزل۔ اس کی منزل تو کب کے کھو ٹی ہو گئی وہ تو اب در بدر صحرا نورد ہو کر رہ گئی۔ امی تو اس کو ہی دوش دیتی ہیں۔ تم نے تو خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری۔ کوئی مرد کو یوں بے مہار چھوڑتا ہے۔ 

اور وہ سوچتی ہم تو سدا سر جھاڑ منہ پھاڑ رہے۔ ہمیں کبھی خود کو سنوارنا سجا نا نہیں آ یا۔ مجھ میں تھا کیا ۔ پھر بھلا احمد کو کیوں دوش دوں۔ وہ تو سدا کے بھوکے۔ کھانے کی خوشبو کے پیچھے کچن تک پہنچ جانے والے۔ پھر اللہ نے موقع بھی چھپر پھاڑ کر دیا۔ اچھی job . میٹنگ۔ کانفرنس۔ بزنس ٹور۔ سب کچھ ہی میسر تھا۔ پھر بھلا نور کی کیا خطا۔ اللہ شکرخورے کو شکردیتا ہے پیٹ بھر کھانے کولیکن امی کو تو میری ہی غلطی نظر آتی ہے۔ 

تم کو تو سدا بہنا پا بنانے کا شوق رہا۔ ہر کسی کو سگا بنا لیتی هونور کو اتنا قریب کر لیا کہ گھر کا فرد بن کر رہ گئی۔ اور پھر نور اور احمد اتنا قریب ا گئے کہ تم تماشائی بن کر رہ گئیں۔ احمد کو کیا کہیں جب خود تمہاری ہی عقل پر پتھر پڑ گئے۔ پتہ نہیں تم کو آنکھ کا شہتیر کیسے نظر نہ آیا۔

میں سوچتی اب احمد کوئی دودھ پیتے بچے تو تھے نہیں کہ میں ان کی چوکیداری کرتی ساری زندگی۔ آخر کب تک۔ کتنی دفعہ انجان بن کر آنا کانی کی۔ لیکن سچ ہے چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہیں۔ جب ان کو پتہ چل گیا کہ مجھے شک پڑ ہی چکا ہے تو وہ ڈھیٹ بن گئے۔ اور میں نے سینہ پر پتھر رکھ لیا۔ 

میری تو بچپن سے عادت تھی۔ ذرا کسی نے نظریں پھیریں اور میں نے دامن بچا یا۔ دوسرا بھی خوش ۔ تم روٹھے ہم چھوٹے۔ اسی جگہ شاہینہ تھی۔ تھی مجھ سے چھوٹی لیکن ہمیشہ اڑجاتی۔ اور اپنا جصہ لے کر ہٹتی۔ اور سب اس سے گھبرا تے تھے۔ بڑے بھیا تک اس کا خیال کرتے تھے۔ کہتے ارے دے دو خوامخہ جھگڑا کرے گی۔

 اس کا بچپن بھی اچھا گزرا اور اب ریحان ایک پاوں سے کھڑے رہتے ہیں۔ بچہ وہ سنبھال رہے ہیں۔ گھر میں ہر وقت کام کے لئے شاہینہ ان کو آواز دیتی رہتی ہے اور وہ بوتل کے جن کی طرح حاظر۔ مجھے تو ریحان پر ترس آتا ہے۔ بیچارے آفس۔ گھر۔ بچے میں گھن چکر بنے رہتے ہیں۔ اوپر سے شاہینہ کی فرمائشیں۔ ہفتہ کو کھانا باہر کھانا ہے۔ ویسے شاہینہ کو گھر بھی سنبھالنا آتا ہے اور گھر والا بھی۔ امی ہمیشہ اس کی مثال دیتیں۔ آخر شاہینہ بھی تو ہے۔ تم سے چھوٹی ہے۔ کتنی خوش اسلوبی سے گھر سنبھالا ہوا ہے۔ 

میرے پاس بھلا اس کا کیا جواب ہوتا۔ یوں لگتا میں اور شاہینہ ایک ہی کارخانہ میں تیار ہونے۔ ایک product مارکیٹ میں hit ہو گیا۔ دوسرا reject ۔ میں کیا کروں۔ میرا خمیر ہی دوسرا تھا۔ ہم سدا کتابوں کا کیڑا۔ ہمیں کچھ اور آیا ہی نہیں۔ میں امی کو دوش نہیں دے رہی لیکن آخر امی نے مجھے کیوں نہ سکھایا۔ امی نے تو دنیا دیکھی ہوئی تھی۔ انہوں نے کیوں نہ سوچا میرے لئے۔ 

امی بیچاری نے تو اچھا ہی سوچا تھا۔ احمد کا رشتہ آیا تو امی نے آنکھیں بند کر کے کر دیا۔ سچ احمد تھے ہی ایسے۔ ان کی امی جب خالہ ہمیرا کے ذریعے ہمارے گھر پہنچین تو ایک دو دفعہ کے بعد ہی منزلیں آسانی سے طے ہو ثی چلی گئیں۔ اور پھر جلد ہی احمد اپنی امی کے ساتھ ہمارے ڈرا ئنگ روم میں بیٹھے نظر آئے۔ 

ان کی امی بڑی نیک بڑی نیک خاتون تھیں۔ اور احمد تو منہ میں لڈو ڈالے ہر بات پر دھیمے دھیمے مسکراہٹ بکھیر رہے تھے۔ اچھا ڈیل ڈول۔ گندمی رنگت۔ جبیب بینک میں VP تھے۔میں تو ان پر پہلی نظر میں ہی لٹو ہو گئی ۔ شاہینہ اٹھتے بیٹھتے مجھے چھیڑتی رہتی۔ 

آپا تمہارے تو عیش ہو گئے۔ مجھے لگتا سچ مچ عیش ا گئے۔ گھر بیٹھے اتنا اچھا دولھا ہاتھ ا گیا۔ ہم میں ایسے گن کہاں کہ ہم ہاتھ پاؤں مار کر حاصل کر تے۔ یہ کسے معلوم تھا کہ یہ خوشی کرانے کی ہے۔ شادی کے شروع دنوں میں تو احمد نے بڑے عیش کر اے ۔ آے دن گفٹ۔ اٹھتے بیٹھتے میری اور میرے کپڑوں کی تعریفیں۔ لیکن جھوٹی تعریفیں کب تک ساتھ دیتیں۔ 

کبھی جھوٹ پر بھی عمارت تعمیر ہو سکتی ہے۔ وہ بھی گھر کی۔ وہ اور میں دونوں تھک چکے تھے۔ شاید محبت کا بینک اکاؤنٹ ختم ہو چکا تھا۔ credit کہاں تک چلتا۔ احمد کے لہجے میں الجھا ئو آتا چلا گیا۔ چند مہینوں میں ہی دونوں کو اندازہ ہو گیا تھا کہ گاڑی  چلنی مشکل ہے۔ امی کے یہاں جاتی تو احمد واری نچھاور ہوتے۔ مسکراہٹ بکھیر تے ۔ قہقہے بکھیرتے۔ کسی کو گمان بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ شیشے میں کب کا بال پڑ چکا ہے۔ میری مسکراہٹ ساتھ نہ دیےپاتی تو امی میری اتری شکل دیکھ کر مسکرا نے لگتیں۔ 

وہ اور ہی خیالوں میں تھیں۔

اب اپنا خیال رکھا کرو۔

شاہینہ کی شادی کے بعد میری زندگی میں ٹہراو آگیا۔ احمد کی آفس سے واپسی دیر میں ہو نے لگی۔ پھر تھوڑے دنوں بعد عینی اگئ ہمارے گھر۔ ایک ننھی پری کی طرح۔ میں اس میں بہل گئی۔ احمد کی امی زہرا آنٹی اور کلثوم باجی کے پاس امریکہ چلیں گئیں۔ ان کے یہاں جڑواں بچوں کی ولادت ہوئی تھی۔ ایک بیٹا ایک بیٹی شادی کے سات سال کے بعد۔ اللہ جب دیتا ہے چھپر پھاڑ کر دیتا ہے۔ اگر عینی نہ ہو تی تو  میں گھر میں گھٹ گھٹ جاتی۔ 

پھر ایک روز صفیہ خالہ نے شور مچا یا۔ امی کے پاس ا یں کہنے لگیں۔ خالدہ۔ احمد میرے پاس آئے تھے نور کا ہاتھ مانگ رہے ہیں۔ مجھے تو ہول ا رہے ہیں۔ میں نے کہا کیسی باتیں کر تے ہو۔ ثمینہ میری بیٹیوں جیسی ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے نور کو کیسے بیاہ دوں۔ ثمینہ پر سوکن بٹھا دوں۔ تو میرے پاؤں پڑ گئے۔ کہ رہے تھے میں نور کے بنا مرجاؤں گا۔ خالہ ہاں کر دو۔ ثمینہ کو کوئی دکھ نہیں ہونے دوں گا۔ کوئی کمی نہیں آ نے دوں گا۔ 

اب کیا کروں کیسے منع کر وں ۔ا می خالی آنکھوں سے انہیں دیکھتی رہ گئیں۔ پھر ہمارے دل تو جدا ہو ہی گئے تھے۔ کمرے بھی الگ ہو گئے۔ میں پورے گھر کی رانی بنی ہوئی تھی لیکن راجہ سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ میں خود ہی تنگ ا گئی۔ کسی کا بھلا کیا دوش مجھے ہی گھر بسانا نہ آیا۔

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

لیڈییز کمپارٹمنٹ

نیل گگن کے تلے

مکھڑے پہ سہرا ڈالے