شازیہ

 No photo description available.

 
شازیہ

ھیتھرو ایرپورٹ پر ڈپارٹمنٹ لونج میں کوئی رس سا رس تھا بس یوں جانو کھوے سے کھوا چھل رہا تھا۔ کیا قسمت ہے انگریزوں کی۔ لندن شہر میں ٹورسٹ کی ریل پیل۔ سردی گرمی خزاں بہار ہر موسم سدا بہار۔ ہم ایرپورٹ پر کھڑے لوگوں پر نظریں جمائے اپنے خیالوں میں گم تھے کہ انیلا نے صدا لگائی۔ جلدی سے ٹوائلٹ ڈھونڈ ین۔ اس کو ہمیشہ الگ ہی سوجھتی ہے۔

میں نے کہا کہ سامان تو چیک ان ہو جائے دو مگر وہ انیلا ہی کیا جو سن لے۔ اس کو تو دھن سی لگ جاتی ہے ایک بات کی۔ انیلا میری چھوٹی بیٹی دبئی جا رہی تھی اور میں اس کو رخصت کرنے اس کے ساتھ ھیتھرو ایرپورٹ آئی ہوئی تھی۔

انیلا تو ٹوائلٹ ڈھونڈ نے چل دی میں سامان کے پاس کھڑی تھی۔ میں نے تی وی اسکرین پر نظریں دوڑائی شروع کر دیں دیکھنے کے لئے کہ فلائٹ کتنی دیر میں ہے۔ میری نظریں جدہ کی فلائٹ پر ٹک گئیں۔ فلائٹ نمبر A877 جدہ براستہ ریاض اور جانے کیوں جدہ دیکھ کر شازیہ یا د آگئی ایک زمانے کے بعد۔

شازیہ میرے بچپن کی دوست جو شادی کے بعد جدہ جا بسی۔ پھر اس کی کوئی خبر ہی نہ ملی۔ میں نے اپنا سارا بچپن اس کے ساتھ گزارا تھا۔ ہم ساتھ رہتے تھے۔ ہم نے لڑائیاں بھی کی تھیں۔ ہمارے ایک جیسے گھر تھے۔ ہم نے زندگی کے کئی باب ساتھ پڑھے تھے۔ پھر وہ جانے کدھر کھو گئی۔  بالکل اسی طرح جیسے شادی کے بعد لوگ گم ہو جاتے ہیں۔ میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ اب شازیہ کی سوچ میں گم ہو گئی۔

شازیہ مجھ کو ہمیشہ اچھی لگی۔ وہ ہمارے گھر کے پاس رہتی تھی۔ ہمارا بچپن ساتھ گزرا ۔ نہ ہماری رشتہ داری تھی نہ ہمارا اسکول ساتھ تھا۔ ہاں بس کالج کے دو سال ساتھ گزارے ۔ یونیورسٹی میں ہماری فیکلٹی الگ۔ عادتیں  بالکل الگ ۔

ہم گم سم رہنے اور سدا عم کھانے والے۔ شازیہ پٹاخہ ۔ ہر بات پتاخ سے کہ ڈالتی۔ لیکن دل آئینہ کی طرح صاف شفاف ۔ ہماری اکثر لڑائی رہتی۔ ہماری بھی کیا میری لڑائی رہتی۔ اس پر تو کوئی اتر نہ ہوتا۔

ہم ساتویں کلاس میں تھے جب ہم نے ان سے دو چار گلی چھوڑ کر گھر خریدا تھا۔ ابا میاں کی پہلی ملازمت سے پینشن ہو گئ تھی۔ ابا اس معاملے میں بڑے دور اندیش تھے۔ انہوں نے جھٹ ان چار پیسوں سے ایک جھونپڑی نما کچا پکا مکان خرید ڈالا۔ جس پر ٹین کی چھتیں تھیں۔ دو کمرے اور آگے ایک کچا صحن۔

ہمارے تین چھوٹے بہن بھائی قریب کے گورنمنٹ اسکول میں جانا شروع ہو گئے۔ ہمم ساتویں جماعت میں تھے ۔ قریب کے اسکول میں داخلہ نہ ملا تو  ہم کو دور کے اسکول جا نا پڑا۔ وہیں راستہ میں ہم شازیہ سے ٹکرا گئے۔ وہ قریب والے اسکول جاتی تھی۔ پھر ہماری گھر کی دوستی ہو گئی۔ ہماری امی اس کی امی کی اور ہمارے ابا اس کے ابا کے دوست بن گئے۔ یوں ہماری دوستی خاندانی ہو گئی۔ اور ہم دونوں جب چاہے منہ اٹھا ئے ایک دوسرے کے گھر آنے جانے لگے۔ دونوں کے خالات ایک جیسے تھے ۔ اس لئے ایک دوسرے کے گھر ایک سے ہی لگتے تھے۔

میں زیادہ خساس تھی۔ ہماری لڑائی بھی بس ایسے ہی ہوتی تھی۔ اس کے گھر پہنچے نہیں کہ شازیہ بولی کہ اب تمہاری بھی چائے بنا وئن۔ میں پی کر آئی ہوں۔ وہ کہتی چلو اچھا ہوا۔  اور ہمارے دل پر چوٹ لگ گئی۔ یا وہ بولی یہ تم نے کونسی شرٹ پہنی ہے ۔ کیوں کیا ہوا۔ بڑی عجیب سی لگ رہی ہے۔ اور ہم سوچتے۔ ہم آتے ہی کیوں ہیں اس کے گھر۔ اس کی بے تکی باتیں سننے کے لیے۔ لیکن ہم اس کے گھر نہ جانے کا ارادہ کر کے ابھی چند گھنٹے ہی گزار پاتے کہ شازیہ اس دھمکتی۔ اتنے گھنٹوں سے انتظار کر رہی ہوں۔ تم اس ہی نہیں چک رہیں۔ صبح سے یہ وقت ا گیا۔ اور پھر لڑائی یاد ہی نہیں رہتی تھی۔ اس طرح ہمارا بچپن گزر گیا۔

وہ آٹا گوندھ رہی ہے توا گرم ہو رہا ہے لکڑی کے چولہے پر اتنے میں اس کی چھوٹی خالہ اگئن۔ وہ خوش ہو گئ کیونکہ جب وہ آتیں روٹیاں وہ ہی پکا تی تھیں۔ مجھے ان کے کچن میں بڑا مزہ آتا تھا،

کچے سے برآمدے کے ایک سرے پر لکڑی کا چولہا جلتا رہتا جس کے چاروں طرف چھوٹی چھوٹی تین چار لکڑی کی پٹریاں رکھی ہوتیں۔ میں بھی جا کر ایک پٹری پر قبضہ جما لیتی۔ چولہے پر پتیلی چڑھی ہوتی۔ جس میں چائے ابل رہی ہوتی۔ بس یہی ان کا کچن تھا برآمدے میں ایک چھوٹا سا کونا ۔ وہاں اس جگہ چھوٹی سی پٹری پر بیٹھ کر بڑا سکون ملتا۔ سچ پوچھو تومیں شازیہ سے ملنے سے زیادہ اس کونے کی تلاش میں ان کے گھر رہتی تھی۔

کبھی کبھی چائے کے پیالے کے ساتھ گھی چپڑی روٹی بھی مل جاتی پھر تو ہمارے عیش ہو جائے۔ وہ بھی کیا دن تھے نہ کوئی فکر نہ کوئی عم ۔

شازیہ دو بہنیں اور ایک بھائی تھے لیکن ان کا کنبہ بہت بڑا تھا۔ ماموں خالہ چاچا۔ ان کے خاندان میں کچھ ہوتا کہیں بھی شازیہ کے ساتھ ہم بھی شامل رہتے۔ اس کے پورے خاندان والے ہمیں بھی اپنے خاندان میں گنتے تھے۔ اس زمانے میں گھروں میں تو کوئی تقریب تو ہوتی نہیں تھی۔  نہ سالگرہ نہ دعوتیں بس مجلس میلاد وہ بھی سال میں ایک بار۔ ہم نے لائف بوائے صابن سے منہ دھویا کنگھا کیا اور سفید شلوار سفید دوپٹہ کے ساتھ کوئی بھی شرٹ پہن کر ہر جگہ جانے کے لئیے تیار سیدھے شازیہ کے گھر پہنچ جاتے۔

بس اسٹاپ جانے کے لیے شازیہ کا گھر راستہ میں پڑتا تھا۔ بس ہم دونوں ستر ستر کرتے بس میں چڑھ جاتے۔ آگے کا لیڈیز کمپارٹمنٹ بس میں ہمیشہ کھچا کھچھ بھرا ہوتا۔ سب گاجر مولی کی طرح بھرے ہوتے۔

میٹرک کے بعد ہم دونوں کو ایک ہی کالج میں داخلہ ملا۔ پھر تو ہمارے مزے اگئے۔ اکثر ہم دس پیسے کرایہ بچانے میں کامیاب ہو جاتے۔ یعنی گھر سے ہم دونوں کالج تک پیدل جاتے پھر ریسز میں کالج کی کینٹین سے سموسہ یا چاٹ خرید کر کھا یا کرتے۔

پروگرام ہمیشہ وہ بنا تی اور ہم عامل معمول کی طرح اس پرعمل کرنا شروع کر دیتے۔ ایک بار بس سے گئے اور واپسی کے پیسے کھا گئے کہ گھر پیدل  چلےجائیں گے۔ شام کو دھواں دھار بارش ہو گئی اور ہم دونوں کو اسی بارش میں پیدل گھر جانا پڑا۔ سارے کپڑے شرابور ہو گئے۔ اس ٹین کی چھت والے گھر میں جہاں ہر طرف سے پانی ٹپک رہا تھا میری ماں نے انگیٹھی جیسے تیسے جلا کر مجھے اس کے پاس بٹھایا اور پھر کمبل اڑھایا۔ سچ ماں کی محبت ۔

شازیہ نے بی ایس سی میں داخلہ لے لیا اور میں نے آنرز میں۔ اتنا ملنا نہیں ہوتا تھا۔ لیکن دوستی برقرار رہی۔ پھر منزلیں طے ہوتی گئیں۔ میری شادی ہو گئی۔ اور میں سب سے قطع تعلق ہو گئ۔ مع شازیہ کے سارے چیپٹرز کلوز ہو گئے۔ سلیبس بدل گیا منظر تبدیل ہو گیا جیسا کہ شادی کے بعد ہوتا ہے۔ پھر ایک زمانہ بیت گیا،۔ سنا کہ شازیہ کی شادی ہو گئی۔ اور وہ جدہ سدھار گئی۔ پھر ہمارا میکہ والا گھر بھی تبدیل ہو گیا۔ ابا نے اس سے ذرا بہتر محلہ میں گھر لے لیا۔ یعنی اسٹینڈرڈ تھوڑا سا بہتر ہوگیا۔

میں ماضی کی سوچوں میں گم تھی کہ انیلا کی آواز آئی۔ امی چلیں ۔ میں ماضی کی یادوں سے نکل آئی۔ اور انیلا کے ساتھ اس کا سا مان  چیک ان کروانے لگی۔ اس کی بیٹی تزئین اکے مجھ سے لپٹ گئی۔ اپ دبئی کب آئیں گی۔ میں نے کہا بس تم لوگ تھوڑا سیٹ ہو جاو پھر میں پروگرام بناتی ہوں۔ انیلا اور تزئین چلے گئے۔ میں دپارچر لاونج میں تنہا کھڑی رہ گئی۔ جانے کیسے میرے لبوں پر یہ شعر اگئے۔

وہ گڑیا کی شادی پر لڑنا جھگڑنا
وہ ٹوٹی ہوئی چوڑیوں کی نشانی
 بڑی خوبصورت تھی وہ زندگانی



Comments

Popular posts from this blog

لیڈییز کمپارٹمنٹ

نیل گگن کے تلے

مکھڑے پہ سہرا ڈالے