میرے وطن پیارے وطن

 May be an image of the Cotswolds

 

 

 

 

 نومبر کی آخری آخری تاریخیں ہیں. زمین پرجا بجا سونا بکھرا ہوا ہے۔ موسم میں خنکی ہے۔ آسمان پر ہلکے سرمئی بادلوں کا جمگھٹا ہے اس کے بیچ سورج بھی جھلمل کرتا روشنی کی کرنیں بکھیرکر فضا میں رنگ بھر رہا ہے۔ ہر موسم کا اپنا رنگ۔ قدرت کی بھی ان گنت  مہربانیاں کن کن کا شکر ادا کریں۔ اس خسین موسم میں جی کرتا ہے کہ گھر سے باہر نکلا جا ئے۔ موسم کی رنگینیوں کا نزدیک سے نظارہ کرنے کا الگ ہی لطف ہے۔

موسم خاصا سرد ہے پر کینیڈا میں جب تک درجہ حرارت منفی پندرہ ۔ یا بیس نہ ہو جائے ہم اس کو خاطر میں نہیں لاتے۔ پہن اوڑھ کر سڑکیں ناپنے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ خیر خاطر میں تو اس وقت بھی نہیں لاتے اور ہمت پکڑ کر نکل ہی جاتے ہیں۔ اب دریا میں رہنا ہے تو مگرمچھ سے بیر کیسا ۔ سردی اور کینیڈا کا تو چولی دامن کا ساتھ ہے۔ یہاں رہنا ہے تو پھر اگر مگر کیسا ۔ ہم بھی یہاں رہ کر خاصا سیکھ چکے ہیں۔ نرم گرم اوپر سے گزر جاتا ہے۔

نصف صدی سے زائد کا زمانہ یاد آگیا۔ اب یادوں پر بھلا کون پہرہ بٹھا سکتا ہے۔ اس پر کس کا زور چلا ہے۔ جب چاہیے جدھر کو چل پڑتی ہیں اور ہم تو جیسے ہیں ہی یادوں کے غلام۔ آنکھوں پر پٹی باندھ اس کی انگلی پکڑ ساتھ ہو لیتے ہیں۔ اب جہاں بھی چاہےلے جائے۔ ہاں تو ہم کہ رہے تھے کہ  نصف صدی سے پہلے ہماری چچی مرحومہ اپنے بچوں سے ملنے کینیڈا گئی تھیں۔ جب واپس آئیں تو ہم نے پوچھا کہ کیسا لگا۔ انہوں نے کہا یوں جانو کہ سونے کا پنجرہ ہے ہاں جوس بہت ہے۔

ہمارے کچھ پلے نہ پڑا ۔ بزرگوں کی باتوں میں بڑی گہرائی ہوتی ہے۔ بزرگوں کی فہرست میں تو ہم بھی آتے ہیں لیکن ہم اپنے بزرگوں کی بات کر رہے ہیں۔ ان کی باتوں کو تہ در تہہ کھولتے جاؤ پھر بھی اصلی مطلب سے محروم ہی رہتے تھے ۔ زہن پر زیادہ زور دینے کے بجائے آگے بڑھ جاتے تھے۔ اپنی تعلیم کے گھمنڈ میں۔ ہمارے بڑے کالج یونیورسٹی تو دور کی بات اسکول جانے سے بھی محروم تھے۔ ہم ان کی باتوں کو کیا خاطر میں لاتے۔

یہ تو ان لوگوں کے جانے کے بعد اندازہ ہوا کہ ہماری ان تک پہنچ کہاں۔ وہ کجا ہم کجا

 امی کہا کرتی تھیں ہمارے جانے کے بعد پتہ چلے گا۔ سچ ہی کہتی تھیں۔ بزرگوں کی باتیں اب سمجھ میں آ رہی ہیں۔ ان کے جانے کے بعد۔ کینیڈا آے تو پتہ چلا چچی مرحومہ کچھ غلط نہیں کہہ رہی تھیں۔ ہم نے ہی سمجھنے میں دیر کردی۔

حسین ملک۔ حسین مناظر نہ بجلی جانے کا خوف نہ پینے کے لیے پتیلا بھر پانی چولہے پر چڑھا نے کی فکر۔ زندگی میں ہر طرف سکون ہی سکون۔ پر انسان ہے ہی سدا کا نا شکرا۔ اب تنہائی کا رونا روتے رہتے ہیں۔ ساری زندگی فرصت کے لئے ترستے تھے اب فرصت ہی فرصت تو اس سے تنگ ہیں۔

 دن رات نماز قرآن کے بعد باقی وقت پاکستان کی یاد میں گزار تے ہیں۔ اور تو اور پھل اور سبزیوں کو دیکھ کر بھی آہیں بھرنے سے نہیں چوکتے۔ 

خاص کر امرود اور کیلے زیادہ خون جلاتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر پاکستان کے ریڑھی والوں کی آواز ین کانوں میں گونجنے لگتی ہیں۔ کیلے لے لو ملائ والے۔  گٹر باغیچے کے امرود یاد آنے لگتے ہیں۔ دل کرتا ہے پر لگیں اور اڈ کر کراچی کا چکر لگا آئیں۔
پر جا یں کہاں اور کیسے۔

 ساری کشتیاں جلا کر خوشی خوشی آ گئے تھے۔ کینیڈا کا ویزہ ملنے پر اپنے کو خوش قسمت سمجھ رہے تھے۔ زمین پر پاوں ہی نہیں ٹک رہے تھے۔ اور اب پاکستان کی یاد میں ہڑک رہے ہیں۔

ہم تو ہیں پردیس میں دیس میں نکلا ہو گا چاند

سنتے ہیں اور تصور میں اپنا پرانا گھر محلہ سب نظروں میں گھوم جا تا ہے ۔ ہم انسانوں کو کسی صورت چین نہیں۔ کسی حال میں خوش نہیں۔ وہاں تھے تو امریکہ کینیڈا خوش رہنے نہیں دیتا تھا کہ پر لگیں اور اڑ کر پہنچ جائیں اور اب دل

کھیلن کو مانگے چاند

یا اللہ جائیں تو کہاں جائیں۔

قیمت میں کم ضرور تھا میرا پرانا گھر 

لیکن وہاں پڑوس میں انمول لوگ تھے 

یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ انمول پڑوسی بھی دور دیس جا بسے ہیں ۔ اور وہ پرا نا گھر جو پہلے ہی کافی پرانا تھا اب تو کھنڈر میں تبدیل ہو چکا ہو گا۔ ہمیں تو بس خواب دیکھنے کی عادت سی ہو گئی ہے۔ حقیقت سے نظر یں چرانے کا اچھا طریقہ ہے۔ بگللے کی طرح آ نکھیں بند کر کے خوابوں کی دنیا میں کب تک رہیں گے ۔

کینیڈا اچھی جگہ ہے ۔ دل لگانے سے لگے گا۔ اب اس کوہی کراچی جانیں۔ یہی ہمارا وطن ہے ۔

Comments

Popular posts from this blog

لیڈییز کمپارٹمنٹ

نیل گگن کے تلے

مکھڑے پہ سہرا ڈالے