چاند نی راتیں

 No photo description available.

  نومبر کی چودہ تاریخ ہے۔  سردی اپنا رنگ جما رہی ہے۔  زرد پتے درختوں سے بارش کی مانند گر رہے ہیں یوں لگتا ہے آسمان سے سونا برس رہا ہے،  قدرت بھی کیا کیا رنگ دکھاتی ہے، ہر لمحہ نیا ۔ پرانےمنظر کی جگہ ہر روز کچھ نیا ۔ آسمان اور زمین پر قدرت نئے نئے رنگ بکھیرتی رہتی یے۔  پر مجال ہے جو ہم کچھ خاطر میں لائیں۔

ہمارے پاس دکھوں کی اپنی ایک لمبی فہرست ہوتی ہے۔ شکایتیں ہیں کہ ختم ہو نے میں ہی نہیں آتیں۔  اپنے کو مظلوم تابت کرنے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی گویا قسم کھا رکھی ہو۔

 روشن صبح جھلمل کرتے تارے رم جھم کرتی برسات کچھ بھی ہماری خاطر میں نہیں آتا۔ ہم نے تو جیسے خوش نہ ہو نے کی قسم کھا رکھی ہو۔ چہرے پر بارہ ہی بجے رہتے ہیں۔ یوں لگتا ہے ساری دنیا کے مسائل ہمیں ہی سلجھانے ہیں ۔

سچ پوچھیں تو ہمارا کچھ ایسا قصور بھی نہیں۔ عمر کے اس خصہ میں جس کو ہم اپنا دل خوش کر نے کے لئے " گولڈ ن زمانہ " کہتے ہیں ۔ بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔  اللہ تعالٰی کے بعد بچوں کا جس قدر شکریہ ادا کریں کم ہے۔ وہ اپنی فیملی۔ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ہیں اور ہم بھی ان کے سر پر سوار ہیں۔ کسی " اولڈ ہاوس " میں نہیں ہیں ۔ شکر کیا کریں ۔

ہم کو تو ڈرنے سہمنے کا پرانا مرض ہے۔ سارا پچپن ساری جوانی اماں کی نظروں سے ڈرنے سہمنے میں گزرا اور اب اپنی تو اپنی ان اولادوں  تک سے ڈرے سہمے رہتے ہیں۔ ان کی نظریں دیکھتے رہتے ہیں  اور پھر اپنی چرکات سکنات کی جانچ پڑتال شروع کر دیتے ہیں کہ کہیں ہم سے کچھ غلطی تو نہیں ہو گئی۔

مہمانوں کی طرح رہتے ہیں اپنے کو یقین دلاتے رہتے ہیں کہ بچوں کا گھر ہے۔ ہماار گھر ہمارے ماضی کی طرح کہیں گم ہو کر رہ گیا۔ یہ بھی ایک طرح کا مالیخولیا ہی سمجھ لیں۔ ذہن کا فطور۔

جانتے سب ہیں پر سوچوں پر بھی کوئی پہرہ بٹھا سکتا ہے اور سوچوں نے بھی تو جیسے قسم کھا رکھی ہو کہ ہمیشہ ہمیں تاریک گلیوں میں ہی بھٹکنے کے لئے لے جا کر چھوڑیں گے۔ کبھی جو خوش ہو نے دیں۔ اور ہم بھی ان کی انگلی پکڑ کر نکل جاتے ہیں۔ آنکھیں بند کر کے بلکہ یوں کہیں کہ آنکھوں پر پٹی باندھ کر۔

ایک تو اس میں جگجیت اور چترا کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ ان کے گیت سن سن کر ہم قنوطی بن کر رہ گئے ہیں۔

میرے بچپن کے دن کتنے پیارے تھے دن
وہ کاغذ کی کشتی وہ ندی کا پانی

کسی طرح جان ہی نہیں چھوڑتا یہ ندی کا پانی

لاکھ دل کو سمجھاتے ہیں کہ

اے شمع تیری عمر طبعی پے ایک رات 

ہنس کر گزار یا اسے رو کر گزار دے

زندگی بھی تو شمع کی مانند ہی ہے خدا جانے کب بجھ جائے کب بلاوا آ جائے۔ جو وقت ہے اسے تو ہنسی خوشی گزاریں ۔

اداس رہنا ہم نے اپنی ادا بنا لی ہے۔ پھر بچوں کو دیکھ کر جلدی سے خوشی کی ایکٹنگ شروع کر دیتے ہیں جیسے کوئی ریموٹ سے " چینل " بدلتا ہے۔ ڈر جاتے ہیں کہ بچے کہیں گے کہ سب کچھ تو ہے آخر کس بات کی کمی ہے جو خوش ہو نے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔

ہم ہیں ہی سدا کے نا شکرے۔ ساری عمر زندگی کی الجھنوں ۔ گھر اور بچوں کے بکھیڑوں میں الجھے رہے تمنا ہی رہی کہ چند لمحے سکون کے مل جاتے ترستے ہی رہے ۔ اب سکون ہی سکون ہے۔ راوی چین کی بنسری بجا رہا ہے ۔ 

جو چاہیے کریں جیسے چاہے گزاریں ۔ نہ اماں کی نظروں کا تعاقب کا ۔ نہ ابا میاں کی چودھراہٹ کا ڈر ۔ آزادی ہی آزادی ۔ اور کیا چاہیے ۔ بلا وجہ بچوں کا بھوت سر پر سوار کر رکھا ہے۔

 چلیں گزرے دنوں کا اپنا پسندیدہ گانا سننے ہیں 

زندگی اک سفر ہے سہانا 

کل کیا ہو کس نے جانا

گارڈن میں سنہرے پتوں کا انبار لگا ہوا ہے یوں لگ رہا ہے زمین پر سونا اتر آ یا ہو ۔ زندگی اس یقین کے ساتھ گزاریں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا تحفہ ہے ۔ زندگی خوبصورت لگتے لگے گی ۔ اس تحفہ کی قدر کر یں۔  ہنس خوش کر گزاریں ۔



Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

لیڈییز کمپارٹمنٹ

نیل گگن کے تلے

مکھڑے پہ سہرا ڈالے