نیلا آ سمان

نومبر کی سات تاریخ ہے نئے سال کے شروع ہونے میں چند ہفتے رہ گئے۔ لوگ نئے سال کے استقبال میں سرگرم ہو جائیں گے۔ پرانے سال سے جان چھڑا نے پر یوں خوش ہوتے ہیں جیسے کہ پرانے کپڑے اتار کر نیا جوڑا مل گیا ہو پہننے کے لئے۔ جبکہ ہردن ہی نئی کہانی لے کر آتا ہے۔ پرانے روز سے بالکل مختلف ۔ ہر نئی صبح نئے رنگ لئے طلوع ہوتی ہے
اس وقت صبح کے گیارہ بج رہے ہیں ۔ میں " لیک انٹاریو" کے کنارے کھڑی ہو ں ۔ پانی سورج کی کرنوں کے نیچے سونے چاندی کی طرح جگمگ کر رہا ہے۔ قدرت بھی کیا کیا رنگ بکھیر تی ہے۔ ہر گھڑی نئ سینری۔
رنگ برنگے خود رو پھول فضا میں عجب رنگ بکھیر رہے ہیں۔ پتہ جھڑ کا زمانہ شروع ہو چکا ہے زرد پتے دھوپ میں سونے کے موافق بکھرے ہوئے ہیں۔
ہر موسم کا اپنا رنگ ہے اپنا انداز۔ فرش پر ہر رنگ کے پتے بکھرے ہوئے ہیں۔ سرخ ۔ نارنجی۔ زرد۔ تانبے اور کافی کے رنگ کے۔ چلتے ہوئے ڈر رہی ہوں پاوں تلے دب ہی نہ جا ئں یہ قدرت کے شاہکار۔
یہ سب کچھ دنوں کی بہار ہے پھر سینری بدل جائے گی۔ نیا منظر ہو گا۔ نئی رت۔ دسمبر میں ہر طرف برف بکھری ہو گی۔ یوں لگے گا۔ قدرت نے سفید بورڈ آ سمان سے اتار کر زمین پر بچھا دیا ہے کہ جو چاہے لکھو۔ ہمارے قدموں کے نشان اس پر منجمد ہو جائیں گے۔ طرح طرح کے نقش و نگار بنا یں گے ۔
خدا جانے ہمیں نئے سال کا انتظار اتنی شدت سے کیوں ہو تا ہے۔ ہر دن بالکل نیا۔ ہر لمحہ دوسرے سے مختلف ۔ ہر روز ہی نئی کہانی نئ دنیا لے کر آتا ہے۔
ہر صبح ہمیں اللہ تعالٰی کی طرف سے چوبیس گھنٹے کسی تحفے کی مانند ملتے ہیں۔ جو چاہے کریں جیسے چاہے استعمال کریں۔ کوئی پوچھ گچھ نہیں پھر کل کا انتظار کیسا۔ چلیں آج کو ہنس کھیل کر گزاریں۔ کل کس نے دیکھی ہے۔
زندگی آیک کھلی کتاب کی مانند ہے جس کے سارے صفحے سادے ہیں ہم انجانے میں اس پر اپنی ہر روز کی داستان قلمبند کرتے رہتے ہیں ۔
یہ ہمارے اوپر ہے کہ اپنی زندگی کی کتاب کو کیا رنگ دیتے ہیں ۔
روز مرہ کے اونچے نیچے مسائلِ میں الجھ کر زندگی کو ہی الجھا کر رکھ دیتے ہیں اور اپنی زندگی کی کتاب کو ایک غم بھری داستان بنا کر رکھ دیتے ہیں یا پھر ہنسنے ہنسنے زندگی کا سفر طے کرتے چلے جاتے ہیں ۔
زندگی نہ تو پھولوں کی سیج ہے نہ ہی کانٹوں کا بستر ۔ زندگی کے سفر میں سب کچھ ملا جلا ہے۔ کانٹوں سے دامنِ بچاتے ہوئے چلتے جانا ہے ۔
مسکراہٹیں بکھیرتے جائیں یہ قوس قزح کی مانند ہو تی ہیں آس پاس سب روشن لگنے لگتا ہے۔ چار سو اجالا کر دیتی ہیں ۔
خوشیاں بانٹنے سے خوشیاں زیادہ ہوتی ہیں کم نہیں ہو تیں ۔ یقین کر یں اور اداس رہنا تو ایک مرض کی مانند ہے وبائی مرض اس سے تو جتنا ہو سکے بچتے رہنا چاہیے۔ زندگی کا سارا رس نچوڑ کر اسے بے رنگ کر کے رکھ دیتا ہے۔
مسکرانے کے لئے ذرا سی ہمتِ کر نی ہو تی ہے پھر زندگی سے لڑنے کی عادت سی ہو جاتی ہے ۔ زندگی کے سفر کی اونچ نیچ ہمارے اوپر سے گزر جاتی ہے ۔ خوش رہیں مسکراتے رہیں ۔ شاد رہیں ۔ زندگی حسین لگنے لگے گی ۔
Comments
Post a Comment