یہ گلیاں یہ چوبارے

ہم نے بیس برس پہلے جب پکرنگ میں گھر خریدا تو ہمیں کارنر کا مکان ملا - ہم اپنے کو بڑا خوش نصیب سمجھ رہے تھے کیونکہ کارنر کا مکان زیادہ کشادہ ہوتا ہے- اس کی ز میں زیادہ ہوتی ہے- آگے پیچھے کے گارڈن بھی کافی بڑے ہوتے ہیں- ہم خوش تھے کراچی میں تو پھول پودے لگانے کی حسرت ہی رہی- وہاں تو پینے کے لیے بھی نل سے قطرہ قطرہ جمع کر کے پتیلا چولہے پر چڑھا تے تھے- رات کو ٹھنڈا ہونے کے بعد پانی کی چھوٹی سی ٹنکی میں ڈال کر دوسرا پتیلا چولہے پر چڑھ جاتا ۔ تا کہ اگلے روز گزارا ہوسکے- پھول پودے لگانے کی نوبت کہاں سے آتی-
ہم کارنر کے مکان کا سودا کر کے اپنی قسمت پر ناز کر رہے تھے- کیا پتہ تھا کہ یہ کارنر کا مکان ہمارے گلے پڑ جائے گا- نومبر دسمبر برف صاف کرتے کرتے حالت خراب ہو جاتی ہے۔ ذرا سانس لینے کہ پھر خدا جانے کہاں سے اتنا سارا سبزه ہمارے لئے تیار ہو جاتا ہے-
ہم تو سمجھ رہے تھے جان چھوٹی- سردیوں میں ساری ہریالی زممیں دوز ہو گئ تھی بلکہ یوں کہیں کہ برف تلے روپوش ہو چکی تھی پر اب تو ہر طرف سبزہ لہرا رہا تھا اور ہم دن رات گھسیارے کی طرح گھاس کاٹنے میں مصروف ۔ہیں۔ پھر بھی گھاس ہر دو روز کے بعد کسی الھڑر دوشیزہ کی طرح لہرا نے لگتی اور ہم اس کو دیکھ دیکھ کر یوں پریشان ہو تے جیسے جوان جہان لڑکیوں کے ماں باپ آن کے رشتے کے لیے۔
ہم گھاس کاٹ کآٹ کر تھک گئے پر پڑوس کے گورے کے لان کا مقابلہ کرنے کی حسرت ہی رہی۔ وہ ظالم میاں بیوی ہر وقت طرح طرح کے ہتھیار اوزار لیے گارڈن کی نوک پلک درست کرنے میں مصروف نظر آتے- میاں بیوی میں بنتی بھی تھی یا نہیں- اندر کا حال خدا جانے۔ باہر گارڈن میں تو دونوں ایک جان دو قالب نظر آتے- ہماری طرح نہیں کہ کھرپہ لیے سارا سارا دن اکیلے ہی مزدوروں کی طرح لگے ہوئے ہیں- نہ بیوی ہاتھ آ تی ہے نہ بچے۔
ہم اکیلے ہی اپنے کارنر کے مکان کے آگے پیچھے گارڈن سے نمٹ رہے ہیں- ایک تو کمبخت محلہ بھی ایسا ہے کہ آس پاس گورے - ان کے گارڈن نوک پلک سے درست کسی نئی نویلی دلہن کی طرح لشکارے مار رہا ہے - ہم بھلا ان کا کیا مقابلہ کر سکتے ہیں- ہم گارڈن کو بیچ میں ایسے لا رہے ہیں جیسے باقی باتوں میں ہمارا پلہ بھاری ہے -
ابھی تو گوروں کے گارڈن کو چھوڑ کر اپنے گارڈن کی فکر کریں- گوروں کے دیس کا قانون بھی بڑا سخت ہے اس معاملہ میں اور تو اور اپنے اماں ابا کو بھی نہیں بخشتے پھر ہم تو ہجرت کر کے آئے ہیں- کاغذ پر تو انہوں نے دریا دلی دکھا کر ہم کالے پیلے لوگوں کو شہریت دے دی پروہ بھی جانتے ہیں کہ تو کجا می کجا۔
ایک تو ہماری یہ بڑی بری عادت ہے بات کہیں سے شروع کرتے ہیں اور کہیں جا نکلتے ہیں- اکتوبر کا مہینہ شروع ہو چکا ہے- پتے درختوں سے کب کے گرنا شروع ہو چکے ہیں- گارڈن میں زرد - نارنجی- سرخ ہر رنگ کے پتوں کا ڈھیر لگ چکا ہے- کب گارڈن صاف کرنا شروع کریں گے-
سٹی والے کسی بھی وقت ظالم ساس کی طرح وارد ہو جائیں گے- گاڑی میں بیٹھ کر آئیں گے اور جرمانہ کا پرچہ لیٹر بکس میں ڈال جائیں گے- پھر بھاگتے پھروکورٹ گچبری کے چکر لگاتے پھرو جرمانه بھرنے کے لئے۔ پاکستان تو ہے نہیں کہ مٹھی گرم کر کے معاملہ رفع دفع ہو جائے۔ گارڈن کا کام شروع کرتے ہیں تو شوکت مالی یاد آ نے لگتا ہے ۔ وہ ہوتا تو منٹوں میں سب سنبھال لیتا۔
اپنے دیس میں کیا ٹھاٹ کی زندگی گزر رہی تھی۔ پر ہمیں تو امریکہ ۔ کینیڈا کے خوابوں نے کہیں کا نہ چھوڑا۔ ہر وقت بلی کے خواب میں چھیچھڑوں کی طرح ہمارے دن رات حرام کر رکھے تھے۔ آگے کینیڈا خوابوں کی سرزمین پر۔۔ اب تو ہمیں اپنا یہ کارنر کا مکان بھی کھٹکنے لگا ہے۔ اتنا بڑا گارڈن صاف کر کر کے تھک جاو پھر بھی ویسے کا ویسا۔ سچ ہے بندہ کسی حال میں خوش نہیں۔ گیراج سے سامان نکال کر کام شروع کر تے ہیں۔ شوکت مالی تو آ نے سے رہا۔ پھر پتے بھی سلیقے سے کاغذ کے بوروں میں بھرنے ہیں ورنہ پتے اٹھانے والی گاڑی چھوڑ کر چلی جائے گی۔ کراچی یاد آ رہا ہے۔ آرام سے گلی میں پھینک دیتے۔ کام آسان ہو جاتا۔ کینیڈا زندہ باد -
ہم تو ہیں پردیس میں
دیس میں نکلا ہو گا چاند
Comments
Post a Comment