دیس پردیس

 May be an image of flower

 آج شیلا کے یہاں میلاد کا بلاوا ہے - پردیس میں بلاوے اللہ کی دین ہوتے ہیں- عزیز رشتہ دار تو یہاں ہیں نہیں- ہیں بھی توبس آٹے میں نمک کے برابر- ملنے جلنے والوں کے سہارے گزارا ہو رہا ہے کہیں سے بھولا بھٹکا کوئی بلاوا آجانا ہے تو ہم سوٹ کیس کھول کر بیٹھ جاتے ہیں کہ کون سا جوڑا پہنیں - کپڑے تو بھرے پڑے ہیں- مسئلہ یہ ہے کہ

نئے کپڑے پہن کر جائیں کہاں
اور بال بنائں کس کے لیے

کپڑوں کا کوئی مسئلہ نہیں ہاں البتہ بال کسی طرح قا بو میں نہیں آ رہے- کلپ جوڑے سے نکلا جا رہا ہے- کلپ ٹکے بھی تو کیسے- بال ہیں ہی کہاں- چار بالوں میں کتنی برکت ہو جائے کہ کلپ کو سہار سکیں۔  ہمیں اپنا پرانا زمانہ یاد آگیا-  ایک تو اس پرانے زمانے نے ناک میں دم کر رکھا ہے ذرا موقع ملا اور سامنے آ کھڑا ہوا - نیرہ نور یاد آگئی

کبھی ہم خوبصورت تھے
کتابوں میں بسی خوشبو کی مانند

کتنے بال تھے- سمیٹتے سمیٹتے ہاتھ دکھ جاتےاور بال تھے کہ قا بو ہی میں نہ آ تے- دو موٹی موٹی چوٹیاں- اسکول میں سب کی نظروں میں آتیں اور ہم اپنے کو بڑا مالدار سمجھتے- آج تک یاد ہے جب فریدہ نے پوچھا کہ تم بال کس سے دھوتی ہو اور ہم نے جواب میں لائف بوائے صابن کا نام لیا تو اس نے نجمہ کی طرف یوں دیکھا گویا ہم اپنے بالوں کا راز بتانا نہیں چاہتے- ویسے تو دونوں میں بنتی نہیں تھی ایسے معوقوں پر دونوں ایک ہو جاتیں-

ہمارے زمانے میں بال دھونے کے لئے آج کل کے لوازمات تو تھے نہیں بس دو چار صابن مارکیٹ میں دستیاب تھے- ہمیں یاد ہے دو صابن آتے تھے- سنلاءٹ کپڑے دھونے کے لیے اور لائف بوائے نہانے کے لیے- بازار میں لکس صابن بھی ملتا تھا - لوگ ہندوستان سے آنے کے بعد کچے پکے مکانوں سر چھپانے پاکستان میں قدم جما نے کی کوشش کر رہے تھے- سب کی جیسے تیسے گزراوقات ہو رہی تھی- لکس صابن لوگوں کی پہنچ سے باہر تھا-

ابا کی پینشن کے بعد دوسری پارٹ ٹائم نوکری چل رہی تھی- اوپر سے ہم چھ بہن بھائی ابا اماں ملا کر آٹھ افراد اس میں لکس صابن کہاں سے آتا - بس دال روٹی چل رہی تھی- پر اماں بھی استاد تھیں ویسے تو گھر میں ابا کی ہی چلتی تھی - وہ تھا ہی مردوں کا زمانہ- ہر گھر میں ان کی ہی بادشاہت تھی پر اماں نے کوئی جگاڑ لگا کر گھر میں تبت سنو منگوا لی تھی -

ہمارے کل سنگھار کا دارومدار تبت سنو اور ہاشمی کاجل کی ڈبیا پر تھا - کالج یونیورسٹی اور تو اور یونیورسٹی کے بعد ریسرچ کونسل میں نوکری کے وقت بھی ہمارے سولھ سنگھار انہی دو چیزوں پر منحصر تھے-

آج کل مارکیٹ سولھ سنگھار کی طرح طرح کی چیزیں دستیاب ہیں- خریدنے کی استطاعت بھی ہے پر بقول ابن انشا مرحوم

میلہ تھا تو پیسے نہیں  
پیسے ہیں تو میلہ نہیں

بال ہیں کہ ساون بھادوں کی طرح ادھر کنگھا لگایا اور بالوں کا گچھا ہاتھ میں آ جا تا ہے- نہانے جائیں تو جان نکلی رہتی ہے کہ اس دفعہ نہانے کے بعد ٹب میں کتنے بال نظر آئیں گے- خدا جانے سر پر یہ دو چار کیسے باقی رہ گئے- ان کے لئیے کیا شیمپو کی چھان بین کی جائے- جو مل جائے غنیمت - سولھ سنگھار کی عمر گزر کئی- اب تولے دے بس عزت ہی رہ گئی ہے- اسی کو سنبھالا ہوا ہے - خدا اس کو قائم رکھے- مولا تیرا ہی آسرا ہے - نئ دنیا نیا زمانہ نیا ملک - بہت کچھ بدل گیا- طورطریقے - قرریں- کچھ بدل چکیں کچھ بدلنے کی آخری سیڑھی پر ہیں-

اب وہ زمانہ نہیں کہ لوگ بلا کھٹکے پاس پڑوس میں یوں آ جاتے گویا گھر کے فرد ہوں - ااب تو گھر کے افراد بھی مہمان ہی لگتے ہیں- سب کے سب کمپیوٹر کی نظر ہو کر رہ گئے- کھانے کی میز پررات کو جمع ہو بھی گئے تو یوں بھاگنے کی جلدی ہو تی ہے جیسے بہت ہی ضروری کام ادھورا رہ گیا پورا کرنے جائے کی جلدی ہے- اللہ سےبس  ہی دعا ہے کہ جو کچھ بچ گیا محفوظ رہ جائے- آمین-




Comments

Popular posts from this blog

لیڈییز کمپارٹمنٹ

نیل گگن کے تلے

مکھڑے پہ سہرا ڈالے